لمبی قطاریں، مہنگی چینی اور حکومت کی بدانتظامی!!!!!

محمد اکرم چودھری
چینی کے مسئلے پر حکومت گذشتہ دو ڈھائی برس میں بہتر حکمت ترتیب دینے میں ناکام رہی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پنجاب اور مرکز میں متعلقہ وزارتیں بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ پنجاب اور مرکز میں اس حوالے سے متعلقہ وزارتیں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔ یعنی چند افراد کی سطحی سمجھ بوجھ اور غلط فیصلوں کا نقصان پورے ملک کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ حالیہ بحران میں بھی حکومت کے غلط فیصلوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ گوکہ اس معاملے پر عدالتی احکامات بھی ہیں اور ان احکامات کی بدولت معاملات میں کچھ بہتری آئی ہے۔ محدود پیمانے پر عوام کو ریلیف ملا ہے لیکن حکومت عدالتی احکامات پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد میں ناکام رہی ہے۔ حکومت اب بھی پینسٹھ اور پچاسی روپے میں فی کلو میں چینی کی دستیابی کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اگر مل مالکان کے ساتھ بیٹھا جائے، معاملات کو سمجھا جائے اور یوٹیلیٹی سٹورز پر پینسٹھ روپے فی کلو چینی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں جب کہ بڑے سٹوروں پر پچاسی روپے فی کلو چینی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جہاں حالات کے مطابق قیمتوں کا تعین ہو سکتا ہے لیکن ایک بڑے پیمانے پر پینسٹھ اور پچاسی روپے فی کلو چینی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ویسے عدالتی احکامات پر حکومت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے بہتر حکمت عملی اپناتی تو کم از کم رمضان المبارک کی حد تک عام آدمی کو سہولت مل سکتی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود رمضان میں چینی کی مقررہ قیمتوں پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔دوسری جانب رمضان بازاروں میں کرونا کے شدید خطرات کے باوجود پینسٹھ روپے والی سستی چینی کے حصول کیلئے طویل قطاریں حکومتی ناکامی کو ظاہر کر رہی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں رمضان کیلئے ایک کلو چینی کی ایکس مل قیمت 80روپے جبکہ پرچون قیمت 85روپے مقرر کی تھی لیکن پرچون سطح پر اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا چند بڑے سٹوروں کو چھوڑ کر صارفین کو پرچون سطح پر چینی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس وقت بھی دکاندار من مانی قیمتوں پر چینی فروخت کر رہے ہیں بعض مقامات سے چینی ایک سو دس روپے سے ایک سو بیس روپے فی کلو میں فروخت کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
پنجاب میں مقررہ قیمت سے زائد قیمت پر چینی کی فروخت کی تصدیق خود حکومتی ادارہ کر رہا ہے۔ نظامت زراعت (معاشیات وتجارت) پنجاب کی زرعی اجناس کی اہم منڈیوں کے تھوک بھاﺅ کی انتیس اپریل کی ریٹ لسٹ کے مطابق پنجاب کے دس بڑے شہروں کی تھوک منڈیوں میں ایک کلو سفید چینی کی اوسط قیمت 88.22روپے سے 89.62روپے رہی جبکہ لاہور میں ایک کلو چینی کی تھوک قیمت پچانوے روپے،فیصل آباد میں تراسی روپے،گوجرانوالہ میں ایک کلو چینی کی تھوک قیمت پچانوے روپے سے 95.80روپے،اوکاڑہ میں تراسی روپے،سرگودہا میں82.80روپے سے تراسی روپے،راولپنڈی میں 93.80روپے سے چورانوے روپے،ملتان میں91.80روپے سے بانوے روپے،ڈی جی خان میں 89روپے سے نوے روپے،بہاولپور میں84.80روپے سے 85.40روپے اور رحیم یار خان میں ایک کلو چینی کی تھوک قیمت چورانوے روپے سے پچانوے روپے تک رہی۔ واضح رہے کہ یہ چینی کے تھوک ریٹ ہیں اس کے مطابق ایک کلو چینی کی پرچون قیمت دو روپے سے روپے زائد ہوگی۔ چینی کی سپلائی طلب کے مقابلے میں بھی کم ہے اس لئے گراں فروشی کی جارہی ہے۔
محکمہ صنعت وتجارت پنجاب کے اعدادوشمار کے مطابق شوگر ملوں سے اب تک 19289866 کلو گرام چینی اٹھائی گئی جس میں سے10596933 کلو گرام چینی فروخت ہوئی اٹھائیس اپریل کو شوگر ملوں سے 7لاکھ 13 ہزار 360 کلو گرام چینی اٹھائی گئی اور رمضان بازاروں میں 8 لاکھ 32 ہزار 355کلو گرام چینی 65روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہوئی۔شوگر ملوں سے پنجاب حکومت نے رمضان کیلئے ایک لاکھ 55ہزار ٹن چینی اٹھانی تھی اور حکومتی اعدادوشمار کے مطابق اٹھائیس اپریل تک19289.866میٹرک ٹن چینی اٹھائی گئی ہے۔ ان اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں چینی کتنی سپلائی جا رہی ہے۔ حالانکہ اٹھائیس اپریل تک شوگر ملوں سے 77500 میٹرک ٹن چینی اٹھا کر اوپن ماکیٹ اور رمضان بازاروں میں فراہم کی جانی چاہیئے تھی۔
حکومت چینی کے معاملے میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں بھی ناکام رہی ہے دوسری جانب رمضان بازاروں میں غریب عوام کی لمبی لائنیں لگوا کر کرونا سے بچاو? کی اپنی ہی آگاہی مہم اور فیصلوں کی نفی کر رہی ہے۔ چند روپوں کے لیے لوگوں کی قیمتی زندگیوں کو داو? پر لگا دیا گیا ہے۔اس ساری صورتحال میں ایک بھی شوگر مل کے خلاف ایکشن نہیں ہوا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شوگر ڈیلرز کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے۔ انکوائری کا نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں لیکن اس بد انتظامی کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ حکومت کے ماضی کو دیکھتے ہوئے اور اعداد و شمار کی روشنی میں یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ رمضان کے بعد بھی کچھ نہیں ہوگا، عام آدمی خوار ہوتا رہے گا، وزراء بیانات جاری کرتے رہیں گے میڈیا بیانات نشر و شائع کرتا رہے گا اور وقت گذرتا رہے گا۔ اشیاء خوردونوش کے حوالے سے حالات گذشتہ برس سے مختلف نہیں ہیں لیکن اس مرتبہ کرونا کے شدید پھیلاو? کی وجہ سے مہنگائی کا مسئلہ دب کر رہ گیا ہے۔ سب کی توجہ کرونا پر ہے ان حالات میں مہنگائی پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ حالانکہ یہ مسئلہ کسی بھی طرح دیگر مسائل سے کم اہم نہیں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*