تازہ ترین

قومی ہیرو کی بے توقیری

میاں غفار احمد
قائد اعظم کے بعد اس قوم کے دوسرے بڑے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو مسلم امہ کے ہیرو بھی ہیںکہ انکے بنائے ایٹم بم کو اسلام دشمنی میں کفار اسلامی بم کہتے ہیں۔ڈاکٹر عبد القدیر خان کی نمازِ جنازہ میں اس ملک کے حکمران شریک نہ ہوئے۔شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی باب العلوم کہروڑ پکا کے بہت بڑے عالم دین تھے اور علمائے کرام انہیں حکیم الاثر کہتے تھے۔ لاولد تھے، اہلیہ فوت ہوئی تو ساتھی استاد نے انہیں کہا کہ دوسری شادی کرلیں‘جنازے کو کندھا دینے کیلئے کوئی وارث تو ہو۔شیخ الحدیث نے جواب دیا میری اولاد کو میرے جنازے پر دیکھ لینا۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ درسِ حدیث دیتے ہوئے فوت ہوں، پھر ایسا ہی ہوا۔ اگلے روز ان کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے جوق در جوق لوگ پہنچے اور اس روز تین چارٹرڈ طیارے ملک بھر سے علمائے کرام اور دین سے محبت کرنے والوں کو لیکر ملتان ا ئیر پورٹ پر اترے، دس ایکڑ کھڑی فصل تلف کرکے نماز جنازہ کیلئے ہموار کی گئی کیونکہ شہر میں کوئی بڑا میدان نہ تھا۔پھر چشم فلک نے دیکھا انکے لاکھوں بیٹے نماز جنازہ میں دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ کچھ اسی قسم کا منظر ڈاکٹر عبد القدیر خان کی نماز جنازہ میں دیکھنے کو ملا، جہاں لوگ رو رہے تھے وہاں آسمان بھی برس رہا تھا، جس عزت اور پروٹوکول کے ساتھ، ربیع الاول کے بابرکت مہینے اللہ نے آپ کو اپنے پاس بلایا،جس طرح ملک بھر میں غائبانہ نماز جنازہ ا دا ہوئیں ا س سے بڑھ کر عزت کیا ہوگی۔
قربان جاﺅں اس مالک کائنات پر کہ عزت اور ذلت اس نے اپنے ہاتھ میںرکھی ہے۔ ایک مرتبہ پرویز مشرف کے سامنے ایک تقریب میں ہر حکومتی مشینری کے مستقل پرزے شیخ رشید احمد نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پہلی لائن سے یہ کہہ کر اُٹھا دیا تھا کہ یہ وزراءکیلئے مختص ہے۔ وہ طیب انسان بغیر کچھ کہے خاموشی سے اُٹھ گیا۔ اسی شیخ رشید احمد کے ذمے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سرکاری سطح پر نماز جنازہ کے تمام تر انتظامات تھے۔بحیثیت قوم ہم ناشکرے نہیں ہیں مگر ہمارے حکمران، سیاسی و انتظامی اکابرین اسی ملک سے ہر طرح کی عزت، دولت اور شہرت پاکر بھی نجانے ناشکرے کیوں ہیں۔ جن اکابرین نے بانی پاکستان کو ائیر پورٹ سے گھر تک لانے کیلئے کھٹارہ ایمبولینس دی ہو، جو حکمران زیارت میں بانی پاکستان کی عیادت کرنے جائیں تو اس عیادت کا احوال انتہائی کرب کے ساتھ محترمہ فاطمہ جناح بیان کریں اور جن مشکوک حالات میں محترمہ فاطمہ جناح کو شہادت نصیب ہو، ڈاکٹر عبد القدیر خان اتنے عظیم تھے کہ انہیں کسی سے کوئی توقع کی ضرورت ہی نہ تھی۔
معزز قارئین! آپ کے ساتھ ایک سچا واقعہ شئیر کررہا ہوں۔ہوا یوں کہ جنرل مشرف نے اپنے عروج کے زمانے میں اپنے ا یک بیان میں کہا تھا کہ میں اقتدار کو انجوائے کررہا ہوں، انہی ایام میں انہوں نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو گرفتار کرکے سرکاری قانون دانوں کو حکم دیا کہ ان کے خلاف ہر حال میں ایٹمی اثاثہ جات کے حوالے سے کوئی نہ کوئی مقدمہ درج کرکے انہیں باقاعدہ گرفتار کرکے عدالتی ٹرائل کیاجائے۔ قانونی ماہرین سر جوڑ کربیٹھ گئے۔ مگر وہ اللہ جو اپنے نبی آخرالزماں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔”اگر ساری دنیا آپ کے خلاف ہو اور اللہ آپ کے ساتھ ہو تو آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوسکتا اور اگر ساری دنیا آپ کا بھلا کرنا چاہے مگر اللہ ایسا نہ چاہے تو آپ کا بھلا نہیں ہوسکتا۔“
ایک طرف اسلام آباد میں سرکار کی چھتری تلے بیٹھے بڑے بڑے قانون دان ڈاکٹر عبد القدیر خان پر مقدمہ درج کرنے کیلئے قانون کے سہارے ڈھونڈے رہے تھے۔ اللہ تبارک و تعالی نے ملتان کے ایک قانون دان شیخ محمد فہیم ایڈووکیٹ سے ایسا کام لے لیا جو کسی کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا۔ انکے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اٹامک انرجی کمیشن اگر پاکستان میں قائم ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی ایکٹ ضرور کہیں نہ کہیں موجود ہوگا۔ 1974ءسے انہوں نے ڈھونڈنا شروع کیا اور ہر سال کا قانونی ریکارڈ دیکھتے دیکھتے جب وہ 1965ءپر پہنچے تو انہیں وہ ایکٹ مل گیا جس کا نام پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ایکٹ ہے۔ انہوں نے ورق گردانی کی تو پتہ چلا کہ اٹامک انرجی کمیشن ایکٹ میں واضح طور پر یہ درج ہے کہ پاکستان ایٹمی ٹیکنالوجی سے متعلقہ تمام تر آلات کسی بھی ملک سے لے بھی سکتا ہے اور دے بھی سکتا ہے۔انہوں نے تمام تفصیلات نکالیں، تجزیاتی رپورٹ لکھی اور اخبارات میں شائع کروا دی۔ دلائل سے ثابت کیا کہ حکومت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیخلاف ایٹمی راز منتقل کرنے کے حوالے سے نہ توکوئی مقدمہ درج کرسکتی ہے اور نہ ہی انہیں گرفتار کرسکتی ہے کہ انہوں نے اگر کوئی ٹیکنالوجی سے یا ٹرانسفر کی تو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ایکٹ انکے ہر اقدام کو مکمل قانونی تحفظ دیتا ہے۔ شیخ فہیم کا مو?قف سامنے آنے کی دیر تھی کہ تمام سرکاری قانون دانوں کی چارپائیاں الٹی ہوگئیں اور پھر ریکارڈ کی بات ہے کہ پرویز مشرف محض مکے ہی لہراتے رہے مگر کر کچھ نہ سکے۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہی کرسکتے تھے کہ غیر ملکی دباﺅ میں آکرڈاکٹر عبدالقدیر کو نظر بند رکھیں اور انہوں نے رکھا بھی۔اس دور میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جنگ لڑنے والے ایک مجاہد کا نام جناب مجیدنظامی بھی تھا جنہوں نے جہاں کئی حوالوں سے جابر سلطان کو للکارا وہاں اس محسن پاکستان کی رہائی کی جنگ اگلے مورچوں پر لڑی اور ایسا قلمی جہاد کیا کہ کسی بھی میڈیا ہاﺅس کا جنرل پرویز مشرف کو سہارا نہ مل سکا۔ اللہ کی شان ملاحظہ ہو کہ ً جس طرح ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازجنازہ میں ابرِ رحمت ٹوٹ کر برسا۔رحمتِ ایزد ی وہاں بھی انہیں اپنے سائے میں رکھے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*