تازہ ترین

قومی اسمبلی ، نیکٹا ترمیمی آرڈیننس سمیت 4 آرڈیننس پیش ،اپوزیشن کا احتجاج ، واک آﺅٹ

National Assembly of Pakistan

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی میں حکومت نے مجموعہ تعزیرات پاکستان ترمیمی آرڈیننس ، نیکٹا ترمیمی آرڈیننس، فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ اتھارٹی آرڈیننس سمیت 4 آرڈیننس پیش کردیئے جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا۔ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے اس دوران حکومت کی جانب سے قانون سازی کی بجائے آرڈیننس کی بارش کرنا ایوان کی توہین ہے،ایوان میںقانون سازی کی جائے اور ہمارا موقف بھی سنا جائے تاکہ عوام کو بھی پتہ لگے کہ ہمارے منتخب نمائندے کیا کررہے ہیں، حکومت فوری چاروں آرڈیننس واپس لے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے مجموعہ تعزیرات پاکستان ترمیمی آرڈیننس 2019‘ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ اتھارٹی آرڈیننس 2019‘ قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی ترمیمی آرڈیننس 2019 پیش کئے۔ جبکہ وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ آرڈیننس 2019 پیش کیا۔ اس موقع پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور حکومت سے چاروں آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ یہ ایوان تین سو بیالیس ارکان پر مشتمل ہے قومی اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے اوراس میں قانون سازی کی بجائے آرڈیننس کی بارش ہورہی ہے اگر ایوان سیشن میں ہے تو اس میں قانون سازی کی جائے اور ہمارا موقف بھی قانون سازی میں سنا جائے تاکہ عوام کو بھی پتہ لگے کہ ہمارے منتخب نمائندے کیا کررہے ہیں اس طرح آرڈیننس کی بارش کرنا پارلیمانی روایات کے خلاف ہے حکومت فوری تمام آرڈیننس واپس لے۔ اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو ہمیں مجبوراً ایوان کا بائیکاٹ کرنا پڑے گا جس کے بعد اپوزیشن ایوان سے واک آﺅٹ کرگئی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*