تازہ ترین

قومی اسمبلی ، اپوزیشن نے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کو مسترد کر دیا ،شدید احتجاج

اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے جبکہ تحریک لبیک کے ساتھ کئے گئے معاہدے اور چینی سے متعلق رپورٹ سمیت تمام انکوائری رپورٹس ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اپوزیشن ارکان نے پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ درج تھا ، مہنگائی کے خلاف احتجاج کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شیم شیم کے نعرے بھی لگائے گئے ، مسلم لیگ(ن) کے رہنماءخواجہ آصف نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں عوام پر پیٹرول کابم گرایاگیا ہے، رات کو بھارت میں دس روپے ڈیزل اور 5روپے پیٹرول کی قیمت کم ہوئی ہے، وہ لوگ بھی انٹرنیشنل مارکیٹ سے خریدتے ہیں ہم لوگ بھی انٹرنیشنل مارکیٹ سے خریدتے ہیں، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، حکمرانوں کو عوام کی تکالیف کا کوئی احساس نہیں ہے،160 روپے چینی ہوگئی ہے یہ ریلیف پیکج ہے؟ ایوان مہنگائی کا نوٹس لے ، اگر یہ ایوان نوٹس نہیں لے گا تو کون نوٹس لے گا ؟ یو این او نوٹس لے گی اس بات کا ؟ جو پچھلے پندرہ دن سے ملک میں ہو رہا ہے وہ اس ایوان میں لائیں اس پر بحث کی جائے، کیوں خفیہ معاہدے کیئے جارہے ہیں۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں وفاقی برائے قانون فروغ نسیم نے تحریک پیش کی کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کی بریفنگ کے لئے 8 نومبر کو قومی اسمبلی کا چیمبر استعمال کرنے کی غرض سے مذکورہ قواعد کے قاعدہ 290 کی مقتضیات سے صرف نظر کی جائے، ڈپٹی اسپیکر نے تحریک پر رائے شماری کرائی جس کے بعد تحریک منظور کرلی گئی، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے پینل پینل آف چیئر کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رات کے اندھیرے میں عوام پر پیٹرول کابم گرایاگیا ہے ، ریلیف پیکج کی کسی کو سمجھ نہیں ہے تیرہ کروڑ آدمی پر ایک ارب اور کچھ بانٹے جانے ہیں، جو چھ مہینے میں نو سو روپیہ بنتا ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ رات کو بھارت میں دس روپے ڈیزل اور 5روپے پیٹرول کی قیمت کم ہوئی ہے، وہ لوگ بھی انٹرنیشنل مارکیٹ سے خریدتے ہیں ہم لوگ بھی انٹرنیشنل مارکیٹ سے خریدتے ہیں ، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، حکمرانوں کو عوام کی تکالیف کا کوئی احساس نہیں ہے ،ہم یہاں لوگوں کی نمائندگی کرنے آئے ہیں،160 روپے چینی ہوگئی ہے یہ ریلیف پیکج ہے؟ راتوں رات160 روپے چینی کر دی ہے اور پیٹرول کہاں کا کہاں پہنچ گیا ہے،یہ کیسی حکومت ہے،کہاں ہے وہ شخص جو کنٹینر پر گفتگو کرتا تھا،ہم اس کو ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ اس سے جا کر پوچھیں کہ تم نے کیا کہا تھا اور آج ہو کیا رہا ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، 2018 کا الیکشن عوام کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ تھا، یہ ایوان مہنگائی کا نوٹس لے ، کس کے حوالے ملک کر دیا گیا ہے، وہ200 ارب ڈالر کہاں گئے، 50 لاکھ گھر ایک کروڑ نوکریاں کہاں گئیں، اگر یہ ایوان نوٹس نہیں لے گا تو کون نوٹس لے گا ؟ یو این او نوٹس لے گی اس بات کا ؟ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس چیز کا نوٹس لیں، خواجہ آصف نے کہا کہ رات کو دس بجے اجلاس بلایا گیا، اندھیرے میں اجلاس بلاتے ہیں ہمیں فون پر بتایا جا رہا ہے، ان کو نہیں پتہ ہوتا کہ اگلے 24 گھنٹے میں حکومت نے کیا کرنا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جو معاہدہ ہوا ہے اس کی تفصیلات ایوان میں لے کر آئیں، وہ خفیہ کیوں رکھی ہیں؟ ایک پارٹی نے احتجاج کیا ہے جو پچھلے پندرہ دن سے ملک میں ہو رہا ہے وہ اس ایوان میں لائیں اس پر بحث کی جائے، کیوں خفیہ معاہدے کیئے جارہے ہیں، خواجہ آصف نے کہا کہ بڑی جلدی عوام کے ہاتھ ہمارے گریبانوں تک پہنچیں گے، ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے ، مہنگائی پر ایوان میں بحث کرائیں، احتساب صرف اپوزیشن کے لئے ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت ملک کا وجود خطرے میں موجودہ حکومت ڈال رہی ہے ،جو خفیہ معاہدہ ہوا ہے اس میں حکومت کے پلے کیا رہ گیا ہے،مہنگائی پر بحث کرائیں، تمام انکوائری رپورٹس اسمبلی میں پیش کریں، چینی سے متعلق رپورٹ پیش کریں، جو معاہدہ ہوا ہے وہ یہاں پر پیش کریں،عوام کے مسائل پر بھی بریفنگ دی جائے ، ایک دن ریلیف پیکج دیتے ہیں دوسرے دن بم گرا دیتے ہیں، یہ ہم لوگوں کو چور کہتے ہیں، ہم تو چینی50 روپے پر بیچتے تھے پیٹرول 70روپے پر بیچتے تھے۔اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی اکرم چیمہ کو بات کرنے کاموقع دیا تو مسلم لیگ (ن) کے رہنماء رانا تنویر حسین نے کورم کی نشاندہی کر دی جس پر ڈپٹی اسپیکر نے رائے شماری کرائی اور کورام پورا ہونے تک ایوان کی کارروائی ملتوی کر دیا، بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے دوبارہ رائے شماری کرائی تو کورام پورا نہ نکلا جس کے باعث ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کر دی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*