تازہ ترین

قبلہ اول پر یلغار اسلام پر حملہ ہے ، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (این این آئی)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کی وحشیانہ کارروائیوں کےخلاف ترکی ، فلسطین اور سوڈان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ نیویارک جاکر پاکستان کے عوام کی ترجمانی کریں گے،قبلہ اول پر یلغار اسلام پر حملہ ہے ،مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر بالکل آنچ نہیں آنے دیں گے ،پاکستان اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے،سلامتی کونسل کے فیصلوں پر ویٹو کیا جاسکتا ہے ،جنرل اسمبلی میں کوئی ویٹو نہیں کرسکتا، امید ہے یورپین یونین کے ممالک انسانیت کےلئے اپنی ایک موثر آواز بلند کرینگے ،اشرف غنی ایک طرف پاکستان سے مطالبہ اور مدد طلب کرتے ہیں دوسری طرف آپ کے کارندے پاکستان پر تہمتیں لگاتے ہیں ،خدار فیصلہ کیجیے کہ آپ چاہتے کیا ہیں؟،امریکہ فی الفور سیز فائر کراسکتا ہے،امریکہ تنہا جو کردار ادا کرسکتا ہے وہ کوئی اور نہیں،اپوزیشن لیڈرکی تجویز پر اتفاق کرتے ہیں ،جمعہ کو قوم کو آواز دے رہے ہیں فلسطینیوں کے ساتھ پرامن اور شائسہ طریقے سے اظہار یک جہتی کریں۔ پیر قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔سلامتی کونسل کے فیصلوں پر ویٹو کیا جاسکتا ہے لیکن جنرل اسمبلی میں کوئی ویٹو نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں مسائل کو دبانا اتنا آسان بھی نہیں ہے، سوشل میڈیا میں ویڈیو کے ذریعے سب کچھ سامنے آتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا بھر احتجاج کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپین یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلالیا گیا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ وہ یورپی یونین کے ممالک جو انسانی حقوق کے علمبردار ہیں وہ اپنے اجلاس میں انسانیت کے لیے اپنی ایک مو¿ثر آواز بلند کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ 65 ملین مسلمان ہیں جو یورپ میں رہائش پذیر ہیں، میں آج کہنا چاہتا ہوں کہ یورپ اگر اپنے امن کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو، اگر اپنے معاشرے میں ایک تعلق اور توازن کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو ان 65 ملین اور دیگر بہت سے لوگ جن کا ضمیر سویا ہوا نہیں ہے، ان کی بات پر غور کرتے ہوئے درست فیصلہ کرے گا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ 2 لاکھ 42 ہزار پٹیشنرز نے پٹیشن پر دستخط کیے ہیں اور جب برطانیہ کے ہاو¿س آف کامنز کو ایک لاکھ سے زیادہ دستخط ہوں گے تو اس معاملے کو ایوان میں زیر بحث لانا ہوگا، ایوان نمائندگان میں یہ زیر بحث آنا ہوگا اور وہ حقائق سامنے رکھے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز رات امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ بلنکن سے بات ہوئی، امریکا کی اہمیت اور ان کا اسرائیل سے جو تعلق ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، اگر دنیا کا کوئی ان پر حاوی او راثر انداز ہوسکتا ہے تو وہ امریکا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے جہاں پاکستان اور امریکا کے تعلقات، افغانستان کی نازک صورت حال پر بات کی وہیں ان کے سامنے فلسطین کا مسئلہ سامنے رکھا اور گزارش کی، اگر کوئی طاقت اس خون خرابے کو روک سکتی ہے تو امریکا کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا، اگر جنگ بندی ہمارا مطمع نظر ہے تو اس میں امریکا کا کردار اہم ہے، تشدد روکنے کے لیے امریکا تنہا جتنی طاقت رکھتا ہے شاید کوئی اور نہیں رکھتا ہو۔وزیرخارجہ نے افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے حالات بڑی نازک کروٹ لینے والے ہیں، خدا کرے وہاں امن و استحکام ہو، ہماری خواہش ہے وہاں استحکام کی ہے، پاکستان نے امن عمل کے لیے جو کچھ کیا دنیا آج اس کی معترف ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بین الافغان بات کو آگے بڑھانے، دوحہ امن معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اتفاق پیدا کرنے کے لیے جو کردار ادا کیا، دنیا اور امریکا بھی اس کا اعتراف کرتا ہے، جو انگلیاں اٹھاتا تھا آج معترف ہے کہ پاکستان مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔افغان صدر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اشرف غنی سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف آپ پاکستان سے مطالبہ اور مدد طلب کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ کارندے پاکستان پر تہمتیں لگاتے ہیں اور پاکستان کے اداروں پر نکتہ چینی کرتے ہیں، خدار فیصلہ کیجیے کہ آپ چاہتے کیا ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم امن اور دوستی چاہتے ہیں، ہم استحکام اور علاقائی رابطہ کاری چاہتے ہیں، ہم معاشی تعاون اور باہمی تجارت چاہتے ہیں لیکن آپ کیا چاہتے ہیں آپ ذہن بنا لیجیے۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پاکستان صف اول سے قیادت کرے، میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت پاکستان اور وزیراعظم نے کوئی وقت ضائع نہیں کیا اور وہ قیادت کر رہے ہیں اور اسی چیز کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے چین کے وزیر خارجہ سے مفصل گفتگو کی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ آپ نے عرب لیگ کا حوالہ دیا تھا، میں نے مصر کے وزیرخارجہ سے مفصل گفتگو کی ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں عرب لیگ کا مرکز قاہرہ میں ہے، میں نے سعودی عرب کے کردار اور اہمیت کو جانتے ہوئے، ان کے وزیرخارجہ، فلسطین، ترکی، افغانستان، انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ سے مفصل گفتگو ہوئی ہے اور ملائیشیا کے وزیرخارجہ سے بات ہوگی۔انہوں نے کہا کہ الاقصیٰ، قبلہ اول کی اہمیت سامنے رکھتے ہوئے، توحید اور ایوان کی نشانی گردانتے ہوئے ہم نے بات کی ہے کہ یہ عام مسجد اور صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہے، قبلہ اول پر یلغار اسلام پر حملہ ہے اور 57 ممالک کی آزمائش ہے کہ وہ کس صف پر کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ان شااللہ تاریخ گواہ رہے گی کہ پاکستان وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تاریخ کی درست سمت پر ہوگا۔انہوںنے کہاکہ قائد حزب اختلاف نے جمعے کو فلسطینیوں کے ساتھ یک جہتی کا دن منانے کی تجویز دی اور اسی طرح وزیراعظم نے بھی اجلاس میں آنے سے قبل اس پر اتفاق کیا ہے اور وزیراعظم عمران خان کی اجازت سے اعلان کر رہا ہوں کہ جمعے کو قوم کو آواز دے رہے ہیں فلسطینیوں کے ساتھ پرامن اور شائسہ طریقے سے اظہار یک جہتی کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*