تازہ ترین

قانون اور قابلیت کی جنگ

فیصل ادریس بٹ
یہاں پر اس بات کی وضاحت بھی کرتا چلوں کہ افسروں کی کمی نہ ہو بڑے عہدوں پر چھوٹے گریڈ کے افسر تعینات کرنے کا واحد مقصد ان افسروں کو دباؤ میں رکھنا ان سے اپنی مرضی کے مطابق قانونی اور غیر قانونی کام لینا اور حکم عدولی پہ ان کے خلاف بآسانی کارروائی کرنا ہوتا ہے۔ تاہم جب افسروں کی کمی کا جواز سامنے آتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان آسامیوں کو پُر کرنے کے لئے افسران کہاں سے آئیں گے تو ہمیں موجودہ قوانین دیکھنے ہوں گے کیونکہ ان پوسٹوں پر دو طرح کے آفیسران تعینات ہو سکتے ہیں۔ پہلے وفاقی یا پی ایس پی آفیسر دوسرے صوبائی یا پی ایم ایس افسر دستیاب ہوتے ہیں جب ہم پولیس سروس آف پاکستان کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک بہت چھوٹا گروپ ہے اور پولیس سروس آف پاکستان کے رولز 1985ء میں موجود شیڈول سے زائد آفیسران کو کسی صوبہ میں تعینات ہی نہ کرسکتے ہیں اور اس شیڈول کے مطابق پنجاب میں کل سینئر کیڈر کی پوسٹیں 80 ہیں اور ان سینئر کیڈر پوسٹوں پر بھی 40 فیصد صوبائی پولیس آفیسران کا کوٹہ متعین ہے اور اس شیڈول کے مطابق صوبہ پنجاب میں گریڈ 18 تا 22 کی کل پوسٹیں 162 ہیں اور پی ایس پی اس سے زائد آفیسران پنجاب کو دے ہی نہیں سکتا ہے مگر پنجاب میں پوسٹوں کی موجودگی میں دیگر صوبہ جات سے آفیسران کو نکال کر پنجاب میں تعینات کردیا جاتا ہے۔ اس طرح دیگر صوبہ جات میں بھی آفیسران کی کمی ہو جاتی ہے۔ صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کے مابین 1993ء کا معاہدہ ابھی تک کتابوں میں موجود ہے جس میں صوبائی اور وفاقی ملازمتوں کا کوٹہ طے ہو چکا ہے۔ اگرچہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد یہ معاہدہ قابل عمل نہ ہے مگر پھر بھی رہنمائی کے لئے ایک دستاویز کی حیثیت تو ہے۔ دوسرا قانون صوبائی پولیس کا قانون ہے جس کے تحت انسپکٹر جنرل آف پولیس ایس پی رینک کے آفیسران تک ترقی دے سکتا ہے۔ پنجاب گورنمنٹ کے رولز آف بزنس 2011ء کے رول 23 کے تحت ایس پی سے ایڈیشنل آئی جی تک آفیسران کی تقرری، ترقی اور تبدیلی کا اختیار چیف منسٹر کے پاس ہے اور یہ رولز آئین کے آرٹیکل 139 کے تحت بنائے گئے ہیں۔ گریڈ 18 (ایس پی) سے اوپر ترقی کے لئے صوبائی پروموشن بورڈ موجود ہی مگر ان بورڈز میں کبھی پولیس آفیسران کے کیس ڈسکس نہ کئے گئے ہیں کیونکہ اٹھارویں ترمیم سے قبل ان آفیسران کی ترقی وفاقی سطح پر ہوتی تھی اور پنجاب گورنمنٹ کو ابھی تک شاید اس بات کی آگاہی نہ ہے کہ قانون بدل چکا ہے اور اب اس نے اپنے آفیسران (صوبائی آفیسران) کو خود ترقی دینی ہے جو کہ پولیس کے علاوہ دیگر محکمہ جات میں ہو رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبہ جات میں بھی یہی صورتحال ہے اور یہی وجہ ہے کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں جس دو طرح کا کلچر پروان چڑھا ہے جس میں ایک افسر تو وہ نہیں جو خرگوش کی طرح چھلانگیں لگاتے ہوئے اے ایس پی سے ایس پی پھر ایس ایس پی اور ڈی آئی جی تک پہنچ جاتے ہیں دوسرا وہ گروپ ہے جن کے لئے ترقی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے ان کی رفتار شاید کچھوے سے کم ہو۔ یہ صورتحال ان افسروں کے اندر بددلی، مایوسی اور ایک محرومی کا احساس بھی پیدا کرتی ہے۔ اس تفریق کی بنیادی وجہ صوبائی سلیکشن بورڈ کی طرف سے صوبائی کیڈر کے افسروں کی ترقیوں کے کیس کو ڈسکس نہ کرنا بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں وفاقی سلیکشن بورڈ کا اجلاس اپنے مقررہ اوقات اور دورانیے کے مطابق ریگولر ہو رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ بیان کی گئی کہ جب بڑے گریڈ پر پی ایس پی افسر بیٹھ جاتے ہیں تو وہ چونکہ پی ایم ایس افسروں کو قابلیت، تجربے اور کیڈر کے حوالے سے اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں اس لئے ان کی کوشش اور خواہش یہی ہو سکتی ہے کہ وہ ایسے گریڈ میں نہ تو ترقی پائیں اور نہ ہی انہیں ایسی پوسٹنگ ملے جہاں اعلیٰ پی ایس پی افسران کے سامنے جوابدہ ہو سکیں۔
یہ تاثر روز بروز توانا ہوتا جا رہا ہے۔ پی ایم ایس افسروں میں احساس محرومی، احساس حلق تلفی کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں قانون کے مطابق نہ صرف ترقیاں دی جائیں بلکہ ان کی پوسٹنگ بھی ہونی چاہئے۔ اس وقت پنجاب میں چیف سیکرٹری اور آئی جی کے عہدوں پر دو ایسے افسر تعینات ہیں جن کا تعلق گو کہ پی ایس پی گروپ سے ہی ہے مگر ان کی شہرت قانون پسند اور قانون پر عمل درآمد کرنے والے افسروں کی ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر کامران افضل کے حوالے سے ہرلیڈر سے تعلق رکھنے والا بیوروکریٹ انہیں قانون پر سختی سے عملدرآمد کرنے اور کروانے والا افسر سمجھتا ہے۔
اسی طرح آئی جی پنجاب راؤ محمد سردار علی خان کی شہرت بھی قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر کام کرنے والے افسر کی ہی ہے ان دونوں افسروں کی موجودگی میں اگر صوبائی سلیکشن بورڈ کا زیر التوا اجلاس پی ایم ایس افسروں کی ترقیاں اور ان کی ان کے گریڈز کے مطابق سیٹوں پر تعیناتیاں نہ ہو سکیں تو شاید پھر کبھی بھی نہ ہو سکیں۔ ہاں اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پی ایم ایس افسروں کو اہم سیٹوں پر تعینات نہیں کیا جاسکتا انہیں بروقت ترقیاں نہیں دی جاسکتیں تو پھر انہیں چاہئے کہ وہ ایک سمری حکومت اور اسمبلی میں بھجوائیں قانون میں ترمیم کرا لیں تاکہ ایسے مطالبات ختم ہو سکیں پھر کوئی چیف سیکرٹری، آئی جی یا وزارت قانون کو یہ نہیں کہے گا کہ ”آپ قانون کی خلاف ورزی یا کسی کی حق تلفی کر رہے ہیں“۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*