”فکرناٹ“ کہنے کی عادت

نصرت جاوید
یہ کالم لکھنا شروع کرتا ہوں تو سب سے پہلے اس کا عنوان لکھتا ہوں۔”برملا“ کا لفظ اس ضمن میں بہت مان سے اختیار کیا تھا۔ آج لکھا تو خود سے گھن آئی۔ گزشتہ 48گھنٹوں سے ذہن میں کئی سوالات گونج رہے ہیں۔ ان میں ہی سے ایک بھی آج کے کالم میں اٹھانے کی لیکن جرا?ت نہیں۔ ”خوف فسادِ خلق“ سے کہیں زیادہ یہ فکر ذہن کو مفلوج بنادیتی ہے کہ ”کہیں ایسا نہ ہوجائے۔ کہیں ویسا نہ ہوجائے“۔دل ودماغ پر چھائے خیالات کے اظہار کے ہنر اور جرا?ت سے محروم ہوجانے کے باوجود ”برملا“ کا عنوان برقرار رکھنا منافقانہ ڈھٹائی ہے۔قطعی دونمبری۔ ڈھیٹ بن کر حقائق کو نظرانداز کرنے کی عادت مگر اپنالی ہے۔اس کے بارے میں عموماََ شرمساری بھی محسوس نہیں ہوتی۔
ہفتے کے پانچ دن صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھتے ہوئے درحقیقت دیہاڑی لگانا ہوتی ہے۔روایتی اور سوشل میڈیا پر جو ”خبریں“ سب سے زیادہ زیر بحث ہوتی ہیں ان میں کسی ایک کو چن کر اس کی بابت آئیں بائیں شائیں اور ”آج کی روٹی“ کا بندوبست۔ پی ڈی ایم کے انتقال پر ملال کے بعد فکر لاحق ہوئی کہ چند دنوں تک موضوعات کا مندارہے گا۔ پتھر میں بند ہوئے کیڑے کو بھی رزق مہیا کرنے والے ربّ کی مہربانی سے لیکن جہانگیر ترین ”باغی“ ہوگئے۔ ان کی بغاوت نے سیاسی کھیل پر نگاہ رکھنے والے کئی افراد کو یہ سوچنے کو مجبور کردیا کہ تحریک انصاف میں سے ”باپ“ جیسی ایک جماعت نکالنے کی تیاری ہورہی ہے۔2017میں اس نوع کی جماعت کا پہلا ورژن بلوچستان میں نمودار ہوا تھا۔نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ میں ”بغاوت“ہوئی تھی۔ اس کی بدولت ثناءاللہ زہری بلوچستان کی وزارت اعلیٰ سے فارغ ہوئے۔حالا ت بدلے تو سینٹ کی آدھی نشستوں پر انتخاب کا مرحلہ آگیا۔ اس جماعت کے نامزد کردہ کئی افراد ایوانِ بالا پہنچ گئے۔ صادق سنجرانی ان ہی کی بدولت چیئرمین سینٹ ہوگئے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے ان کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔ بعدازاں 2018کے انتخاب ہوئے اور ”باپ“نے بلوچستان میں صوبائی حکومت بھی بنالی۔
جہانگیر ترین کی ”بغاوت“ نے کئی ”باخبر“ تبصرہ نگاروں کو عندیہ یہ دیا کہ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے میں ”تاریخ“ اب خود کو دہرانے جارہی ہے۔ تحریک انصا ف سے ”ٹوٹے“ اراکین قومی او صوبائی اسمبلی ایک تگڑا گروپ بناکر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا چاہیں گے۔ پیپلزپارٹی ان کی ممکنہ اتحادی ہوسکتی ہے۔یوں نواز شریف اور عمران خان کے بغیر حکومت سازی کے نئے امکانات رونما ہونا شروع ہوجائیں گے۔ذاتی طورپر مجھے مذکورہ بالا داستان یاوہ گوئی محسوس ہوئی۔چسکہ فروشی کے لئے اسے زیر بحث لانے میں تاہم مجھے کوئی عار محسوس نہ ہوتی۔پیر کا آغاز ہوتے ہی مگر لاہور میں ایک گرفتاری ہوگئی۔ جہانگیر ترین کی ”بغاوت“ اس کی وجہ سے دھندلا گئی ہے۔ موبائل فونز کے ذریعے ہم یہ جاننے کی فکر میں مبتلا ہوگئے کہ کونسے شہروں میں ٹریفک جام ہوچکی ہے۔گھروں سے نکلنا ممکن نہیں رہا۔ٹویٹر پر ”ریاستی رٹ“ کی تلاش شروع ہوگئی۔گماں یہ بھی رہا کہ یہ سب کچھ ”اچانک“ ہوگیا ہے۔جذبات سے بپھرے ہجوم مگر ”اچانک“ نمودار نہیں ہوا کرتے۔ شاعر نے کہا تھا کہ ”وقت کرتا ہے پرورش برسوں“۔ غصے کو ہیجان میں بدلنے کے لئے جو عناصر وکردار متحرک ہوتے ہیں ان کا ذکر بروقت ہمارے میڈیا میں اگرچہ نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت بھی یاد رکھئے کہ وطن عزیز اس حوالے سے یکتا نہیں۔امریکہ میں کئی دہائیوں سے نام نہاد Rust Statesموجود تھیں۔ان میں آباد سفید فارم اکثریت کو شکوہ رہا کہ Mainstreamمیڈیا ان کے تفکرات اجاگر کرنے میں ناکام رہا ہے۔2016میں تاہم ڈونلڈٹرمپ نمودار ہوگیا۔واشنگٹن پر ”قابض“ اشرافیہ کو اس نے بے حس پکارا اور امریکہ کے بڑے شہروں سے نکلنے والے اخبارات کو Fake Newsکے پرچارک۔برطانیہ میں Brexitکے نام پر ایسا ہی ہیجان نمودارہوا تھا۔ مرکز اس ہیجان کا بھی برطانیہ کے وہ شہر اور قصبات ہی رہے جو ”میٹرو“یا ”عالمی“ تصور نہیں ہوتے۔22کروڑ کی آبادی والے پاکستان میں بھی ”مضافات“ ہیں۔وہاں کے باسیوں کا بھی ایک ”بیانیہ“ ہے۔اس ”بیانیے“ کو عموماََ مذہبی جذبات کی بنیاد پر بیان کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔Ratingsکی ہوس مگر سٹار بنے اینکر خواتین وحضرات کو اس رحجان سے غافل رکھتی ہے۔ جس ”بیانیے“ کا ذکر ہورہا ہے وہ فقط ”مضافات“ تک ہی محدود نہیں۔ہمارے ہربڑے شہر میں ”کچی آبادیاں“ بھی ہیں۔ایسے محلے ہیں جہاں آباد دیہاڑی دار اور کم آمدنی والے خود کو مجبور ومبحوس محسوس کرتے ہیں۔ان کے جذبات مشتعل کرنے کے وسیلے میسر ہوجائیں تو ”ریاستی رٹ“ اچانک معدوم ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ریاست وحکومت بنیادی طورپر ایک دکھاوا بھی ہوتی ہے۔آپ کتنے بھی پھنے خان کیوں نہ ہوں۔پولیس کی وردی پہنے کوئی اہلکار آپ کو سرِراہ روک لے تو اس کے سوالات کا تشفی بخش جواب دینا ہوتا ہے۔ ان اہلکاروں کی کثیر تعداد میں کسی مقام پر تعیناتی ہنگامہ آرائی کا تدارک شمار ہوتی ہے۔پنجابی کا ایک لفظ ہے ”جھا کہ“ یعنی دکھاوا یا چھلاوہ۔پولیس کا رُعب داب برقرار نہ رہے تو ”ریاستی رٹ“ نظر نہیں آتی۔ہم گھروں میں محصور ہونے کومجبور ہوجاتے ہیں۔سوشل میڈیا بھی اس تناظر میں ایک بہلاوا ہے۔اپنی بے بسی کو تلخ جملوں سے بیان کرتے ہوئے دل کا غبار نکال لیتے ہیں۔بنیادی سوالات مگر اٹھائے نہیں جاتے۔
ریاست وحکومت کا ذکر ہو تو باور یہ بھی کیا جاتا ہے کہ کوئی اقدام لینے سے قبل وہ کئی جہتوں پر مبنی فیصلہ سازی کے عمل سے گزرتی ہے۔ یہ سوال اٹھانا لازمی ہے کہ ہمارے ہاں گزشتہ کئی برسوں سے فیصلہ سازی کے حوالے سے اس بندھے ٹکے اصول کی پیروی ہورہی ہے یا نہیں۔”ذات کا رپورٹر“ ہونے کا دعوے دار ہوتے ہوئے میں اس سوال کا جواب نفی میں دوں گا۔ خود کو محض ایک صحافی کی حیثیت تک محدود رکھوں تو اصولی طورپر میرا کردار یہاں ختم ہوجاتا ہے۔تلخ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ میں اس ملک کا شہری بھی ہوں۔اس تناظر میں میرے چند حقوق کے علاوہ فرائض بھی ہیں۔فرائض تو آپ اور میں اکثر نبھاہ ہی لیتے ہیں۔ ”حقوق“ کے معاملے میں تاہم ”بکری“ ہوجاتے ہیں۔اسی باعث مختلف سیاسی جماعتوں کے ”قائدین“ کی جانب حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ حکومت میں بیٹھے لوگوں کو ”فکر ناٹ“ کہنے کی عادت ہوتی ہے۔ انہیں ٹھوس جواب فراہم کرنے کو مجبور کرنا اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ہماری اپوزیشن مگر ایک دوسرے کو پی ڈی ایم کی موت کا ذمہ دار ٹھہرانے میں مصروف ہیں۔ان کی باہمی الزام تراشیوں نے سکرینوں پر رونق لگارکھی ہے۔دریں اثناءجہانگیر ترین کی ”بغاوت“ بھی رونما ہوگئی۔ان واقعات سے جی کو بہلاتے ہوئے ڈنگ ٹپالیں گے۔ چند دنوں بعد اگرچہ ”اچانک“ کچھ اور ہوجائے گا اور ریاستی رٹ کی بابت وقتی واویلا مچانا شروع ہوجائیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*