فروغ تعلیم میں اللہ سے کاروبار

میاں حبیب
میرے نزدیک کسی انسان کی جان بچانا اور کسی انسان کو زیور تعلیم سے آراستہ کر کے معاشرے کا فعال رکن بنانا اس سے بہتر نہ کوئی عبادت ہے نہ خدمت ہے اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پر اپنی خوشنودی کے لیے بھی انسانی خدمت کو بنیاد بنایا اگر آپ رضا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین نسخہ اسکے بندوں کے کام آنا ہے پاکستان اس حوالے سے بہت خوش قسمت ہے کہ یہاں نہ صرف انسانی خدمت کے بے شمار ادارے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے بلکہ یہاں ڈونیشن دینے والوں کی بھی کمی نہیں پاکستان کا شمار بہت زیادہ عطیات دینے والے ملکوں کی صف میں ہوتا ہے جہاں ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک دوسرے کا احساس کرنے والا معاشرہ ہے وہیں ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ کئی بد بخت انسانیت کے نام پر اپنے مذموم مقاصد کیلئے دو نمبریاں بھی کرتے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ اچھے کام کرنے والوں کو شکوک وشبہات سے پاک کیا جائے لیکن کیا کیا جائے کہ یہاں تو لوگ حکومت پر اعتماد نہیں کرتے ماضی کی حکومتوں کے ادوار میں سیلاب، زلزلے اور دیگر آفات پر ملنے والی امداد پر بھی ہاتھ صاف کیے جاتے رہے اور زکوٰة کے پیسوں سے اراکین کے پارلیمنٹ کی فیملیز کے بیرون ملک سے علاج کروائے جاتے رہے یہی وجہ ہے۔ آج لوگ بینکوں سے پیسے نکلوا کر خود اپنے ہاتھوں سے مستحقین کو زکوٰة دینا پسند کرتے ہیں چونکہ آگے رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ آنیوالا ہے اور پاکستانی دل کھول کر عطیات اور زکوٰة دیتے ہیں پاکستان میں مختلف ادارے مختلف شعبہ جات میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں لیکن میرے نزدیک اگر آپ کی زکوٰة اور عطیات سے کوئی بچہ تعلیم حاصل کر لیتا ہے تو اس سے بڑا صدقہ جاریہ اور کوئی نہیں ہو سکتا تعلیم کی وجہ سے اس شعور کے باعث اس کی زندگی کے سارے اعمال آپ کیلئے نیکیوں کا خزانہ ہے اس سے نہ صرف آپ انسانیت سازی کر رہے ہیں بلکہ ایک باشعور معاشرے کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ میں تعلیم کے شعبہ میں الغزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کو کئی سالوں سے دیکھ رہا ہوں انکی خدمات قابل رشک ہیں۔ پورے ملک کے دور دراز علاقوں جہاں نہ وسائل ہیں نہ کوئی انفراسٹرکچر ہے وہاں بھی اپنے سکول قائم کر کے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ اس وقت الغزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے زیر اہتمام 35 اضلاع میں 670 فارمل سکول کام کر رہے ہیں جن میں ایک لاکھ کے قریب بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور 4200 اساتذہ ان بچوں کی تعلیم وتربیت پر مامور ہیں ان میں سے 47 ہزار یتیم غریب اور معذور بچوں کے اخراجات ٹرسٹ کے ذمہ ہیں۔ ٹرسٹ تمام بچوں کو بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کر رہا ہے ان میں سے بعض سکول اتنے دور دراز علاقوں میں قائم ہیں کہ پیدل جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ان بچوں کو معیاری تعلیم دلوانے کیلئے اساتذہ کی بھی خصوصی ٹریننگ کروائی جاتی ہے۔ یہ امر بھی قابل ستائش ہے کہ ہندو کمیونٹی کیلئے علیحدہ سکول بنائے گئے ہیں جہاں سلیبس بھی انکے مذہب کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور انھیں موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں۔ الغزالی ایجوکیشن ٹرسٹ نے کرونا کے دنوں میں 25 سو سے زائد یتیم ومستحق طلباءکے گھروں میں راشن اور فوڈ پیکیج تقسیم کیا۔ ای تعلیم چینل شروع کر کے بچوں کو تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی طرف راغب کیا۔ عید قربان پر ملک کے دور دراز علاقوں میں مستحق بچوں کے پانچ ہزار خاندانوں میں قربانی کا گوشت تقسیم کیا الغزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا تعلیمی ریکارڈ بھی شاندار رہا کئی بچوں نے بورڈ کے امتحان میں پوزیشنیں حاصل کیں۔ میٹرک کے امتحانات میں ٹرسٹ کے 95 فیصد بچے کامیاب ہوئے جو کہ ٹرسٹ کی بچوں پر توجہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایجوکیشن کے شعبہ میں الغزالی ٹرسٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کئی بین الاقوامی اداروں نے تعلیم کے فروغ کیلئے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے کئی ایک نے معاہدے بھی کیے ہیں سب سے بڑھ کر حکومت پاکستان نے انہی خدمات کو سراہتے ہوئے ٹرسٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید عامر محمود کو 23 مارچ کو صدارتی تمغہ امتیاز سے نوازا ہے جو ٹرسٹ کی خدمات پر مہر تصدیق ہے۔ آخر میں مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ وہ الغزالی ٹرسٹ کے کاموں کا جائزہ لیں اگر مطمئن ہوں تو یتیموں غریبوں معذور اور بے سہارا بچوں کو تعلیم دلوا کر انھیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اسکے علاوہ سندس فاونڈیشن کے یاسین خاں تھیلسمیا کے بچوں کی زندگی کو رواں رکھنے کیلئے گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال اور ڈاکٹر قدیر کے نام سے راوی روڈ پر بنایا جائے والا کینسر ہسپتال، الرحمن فاﺅنڈیشن، اور جیلوں کے اندر بند بچوں کی تعلیم پر کام کرنیوالی تنظیم رہائی بھی آپ لوگوں کی توجہ کی منتظر ہے کیونکہ یہ ساری فلاحی تنظیمیں انسانیت کیلئے کام کر رہی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*