فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنےکا معاملہ، قومی اسمبلی میں ،قرارداد پیش

اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی کابینہ نے اقوام متحدہ کی آرمرڈ گاڑیوں کو کراچی سے کابل لےجانے ، ظہیر عباس کھوکھر کو چیئرمین پاکستان بیت المال تعینات کرنے ، نیشنل انشورنس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کی تعیناتی اوروفاق کے زیرانتظام کراچی کے 5 ہسپتالوں کے ایم ٹی آئی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی منظوری دیدی۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اپوزیشن کی لڑائی اسلام کی نہیں بلکہ اسلام آباد کی ہے ،اسلام آباد کی یہ لڑائی ان سب کے چہروں سے عیاں ہے،ان لوگوں نے ہر طریقے سے حکومت گرانے کی کوشش کر لی،جب کوئی چورن نہیں بکا تو آپ اسمبلی میں بالکل غنڈوں والا رویہ اختیار کر کے یہ سمجھیں کہ کوئی آپ کے دبا ﺅمیں آ جائے گا تو یہ نہیں ہونا،ٹی ایل پی سے جو معاہدہ ہوا تھا وہ مکمل ہو گیا ہے، حکومت کا مینڈیٹ آئین اور قانون کے تابع ہے، ہم کوئی بادشاہت نہیں چلا رہے، ہمارے پاس حق نہیں کہ ہم تحریک لبیک پر لگائی ہوئی پابندی واپس لے لیں، ان کے پاس اپیل کا حق ہے، جن لوگوں پر قتل کی ایف آئی آر ہے، ان کو نہیں چھوڑا جا سکتا ، جنہوں نے پولیس والوں پر گولیاں چلائی ہیں ان کو اپنی بے گناہی عدالت میں ثابت کرنی ہو گی اور حکومت کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ، پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو مل کر اس گرداب سے نکلنا ہے، تمام اپوزیشن کا رویہ مصلاحانہ ہونا چاہیے۔منگل کووزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں کابینہ نے اشیائے خورونوش کی طلب و رسد کا ریکارڈ رکھنے کیلئے ڈیٹابیس کے قیام کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے اقوام متحدہ کی آرمرڈگاڑیوں کوکراچی سے کابل لے جانے کی اجازت بھی دیدی۔وفاقی کابینہ نے کرتارپور راہداری منصوبے کو پیپرا رولز سے استثنا دینے کا معاملہ، توانائی گردشی قرضے کے خاتمے کا پلان اور پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ پر بریفنگ بھی موخر کردی۔وفاقی کابینہ اجلاس میں کابینہ نے فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ آرڈیننس کے تحت بورڈ آف گورنرزکی تعیناتی کی منظوری دے دی اور اسٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویڑن کے اختیارات منتقل کرنے کی سمری منظور کرلی۔کابینہ نے نیشنل انشورنس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ اجلاس میں جوائنٹ انویسٹمنٹ کمپنیز کے بورڈ آف ڈائریکٹرزکی تعیناتی موخر کردی جبکہ کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات،اسٹیٹ اون انٹر پرائزز کے اجلاسوں کے فیصلوں کی توثیق کردی گئی ہے۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 7 اپریل کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کردی اور نوشہرہ میں ریلوے کی زمین پرکثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیرکا معاملہ موخر کردیا گیا۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین نے آج پہلی بارکابینہ اجلاس میں شرکت کی ،حکومت سمندر پارپاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتی ہے،ووٹ کا حق دینے کیلئے انٹرنیٹ بیس ووٹنگ نظام وضع کرنا ہوگا،الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیار کرلی ہے اور عملی مظاہرہ بھی کیا جاچکا ہے،ایک الیکٹرانک ووٹنگ مشین پاکستان میں تیار ہوئی جبکہ دو بیرون ملک سے منگوائی گئیں، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کےاستعمال سے متعلق ضروری قانون سازی کرنا ہوگی۔ اس میں سیکیورٹی کے مسائل ہیں اور تقریبا 90لاکھ پاکستانی بیرون ملک موجود ہیں جنہیں ہم اپنے نظام سے الگ بھی نہیں رکھ سکتے۔ عمران خان سے قبل کسی اور حکومت نے ان لوگوں کا نہیں سوچا، 28کروڑ روپے کی لاگت سے ایک کنسلٹنٹ کو یہ بات دیکھنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کیسے محفوظ انٹرنیٹ ووٹنگ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کابینہ میں کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں بریفنگ دی گئی،وزیرداخلہ شیخ رشید اور نور الحق قادری نے ٹی ایل پی سے مذاکرات کیے جس کے بارے میں آپ کو علم بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں بنیادی اشیائ کی قیمتوں اور دستیابی سے متعلق مرکزی ڈیٹا بیس تیارکیاجائیگا۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے وفاق کے زیرانتظام 5 ہسپتالوں کے ایم ٹی آئی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی منظوری دی،وفاقی حکومت چاہتی کہ کراچی میں وفاق کے زیرانتظام ہسپتالوں کو مل کر چلایا جائے۔چوہدری فوادحسین نے کہا کہ کابینہ نے ظہیر عباس کھوکھر کو چیئرمین پاکستان بیت المال تعینات کرنے کی منظوری دی ہے،کراچی سے کابل تک یونیسف کے کنٹینرز کی ترسیل کی منظوری دی گئی ہے،سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر کرنے کیلئے تنظیم نو کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر نیشنل اسمبلی کے بارے میں جو بات کی میں اس کی مذمت کرنا چاہتا ہوں، ہماری بدقسمتی ہے کہ شاہد خاقان عباسی جیسے لوگ بھی اس ملک میں وزیر اعظم تک رہ چکے ہیں، آپ کو اسپیکر اور ایوان میں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال ہوں یا مولانا فضل الرحمن، ان کی اسلام کی نہیں بلکہ اسلام آباد کی لڑائی ہے اور یہ اسلام آباد کی لڑائی ہم ان سب کے چہروں سے عیاں دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ہر طریقے سے حکومت گرانے کی کوشش کر لی، پاکستان ڈیمو کریٹک(پی ڈی ایم)ٹائپ مصالحہ بھی بیچنے کی کوشش کر لی، جب کوئی چورن نہیں بکا تو آپ اسمبلی میں بالکل غنڈوں والا رویہ اختیار کر کے یہ سمجھیں کہ کوئی آپ کے دبا ﺅمیں آ جائے گا تو یہ نہیں ہونا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارا ٹی ایل پی سے جو معاہدہ ہوا تھا وہ مکمل ہو گیا ہے، ہم نے کہا تھا کہ ایوان میں قرارداد آ جائے گی، اب اس پر بحث ہو گی، اپوزیشن اس میں ترمیم کرنا چاہتی ہے، یہ ایک پارلیمانی عمل ہے اور اسی کے مطابق معاملات آگے بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا مینڈیٹ آئین اور قانون کے تابع ہے، ہم کوئی بادشاہت نہیں چلا رہے، ہمارے ہاں 1973 کا آئین ہے جس پر پورے پاکستان کا اتفاق اور اجماع ہے، ہم اس سے باہر نہیں جا سکتے اور اس کے اندر رہ کر ہی تمام اقدامات کرنے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حق نہیں کہ ہم تحریک لبیک پر لگائی ہوئی پابندی واپس لے لیں، ان کے پاس اپیل کا حق ہے، قانونی طریقہ کار موجود ہے اور وہ اس کے مطابق اس پر عمل کریں۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو مینٹینس آف پبلک آرڈر کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ان کو تو ہم چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ حکومت کا اختیار ہے لیکن جن پر قتل کی ایف آئی آر ہے، ان کو نہیں چھوڑا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ 5 پولیس اہلکاروں کی شہادت اور 800زخمی اہلکاروں کو نہیں بھولا جا سکتا اور جنہوں نے ان پر حملہ ان کو نہیں بھولا جا سکتا، جنہوں نے پولیس والوں پر گولیاں چلائی ہیں ان کو اپنی بے گناہی عدالت میں ثابت کرنی ہو گی اور حکومت کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اتوار کے دن ہونے والے احتجاج پر پاکستان میں ڈھائی لاکھ ٹوئٹس اور سوشل میڈیا شیئرز ہوئے ہیں، ان میں سے 70 فیصد شیئرنگ ایک سوفٹ ویئر کے ذریعے ہوئی جو ٹوئٹس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتتا ہے اور وہ ہندوستان کی حدود سے کی جا رہی تھی، یہ پوری مہم بیرونی طاقتوں کی ایما پر چلا گئی جس پر ہمیں تحفظات ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو مل کر اس گرداب سے نکلنا ہے، تمام اپوزیشن کا رویہ مصلاحانہ ہونا چاہیے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*