تازہ ترین

غریب عوام کو ریلیف پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ،عمران خان

اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کےلئے ابھی سے ہمارے سینیٹرز کو آفرز آنا شروع ہوگئی ہیں، پارٹی ترجمان اپوزیشن کے پیسے کے بیانیے کو اجاگر کریں ، الیکشن کمیشن کا کردار متنازع رہا، ڈسکہ الیکشن میں بھی الیکشن کمیشن نے یہی کیا، یوسف رضا گیلانی نے اخلاقیات کی دھجیاں اڑائیں، قوم ان کی حرکتیں دیکھ رہی ہے، سینیٹ الیکشن میں ہماری پٹیشنز کو کسی خاطرمیں نہیں لایا گیا، نااہل شخص پیسے کے زور پر سینیٹ میں آگیا، اب پیسہ کے زور پرمنتخب شخص چیئرمین سینیٹ کاخواب دیکھ رہاہے۔ پیر کو پارٹی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کس سینیٹر کو کیا آفر آئی۔وزیراعظم نے ترجمانوں کو اپوزیشن کے پیسے کے بیانیے کو اجاگر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار متنازع رہا، ڈسکہ الیکشن میں بھی الیکشن کمیشن نے یہی کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے اخلاقیات کی دھجیاں اڑائیں، قوم ان کی حرکتیں دیکھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں ہماری پٹیشنز کو کسی خاطرمیں نہیں لایا گیا، نااہل شخص پیسے کے زور پر سینیٹ میں آگیا، اب پیسہ کے زور پرمنتخب شخص چیئرمین سینیٹ کاخواب دیکھ رہاہے، کرپشن اور پیسے کے سیاست میں استعمال کاعملی مظاہرہ یوسف رضا گیلانی کی جیت میں دیکھ لیا۔وزیراعظم نے کہا کہ کرپٹ ٹولہ کرپٹ شخص کوایوان بالاکے سب سے بڑے منصب پرمنتخب کرانے کیلئے سرگرم ہے۔وزیراعظم نے ترجمانوں کو ہدایت کی کہ وہ پی ڈی ایم کے خلاف مزید فعال ہوں۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں مریم نواز کے ملکی ایجنسیز سے متعلق بیانات کی بھی سخت مذمت کی گئی ۔ اجلاس میں سینیٹ انتخابات اور اعتماد کے ووٹ کے بعد کی سیاسی صورت حال پر غور کیا گیا، اجلاس میں الیکشن ایکٹ سمیت مریم نواز کے بیانات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مریم نواز کے ملکی ایجنسیز سے متعلق بیانات کی سخت مذمت کی گئی، وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ قوم کی اخلاقیات تباہ کر دی گئی ہیں۔حکومتی ترجمانوں نے اجلاس میں کہا کہ چوری کا الیکشن جیتنے پر خوشیاں منائی گئیں، اگر ہاﺅس کا اعتماد نہیں تھا تو فوزیہ ارشد کیسے کامیاب ہوئیں؟ ہاﺅس کا ارادہ نہ ہوتا تو خاتون کامیاب ہوتی نہ اعتماد کا ووٹ ملتا۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن کے انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے گئے، حکومتی ترجمانوں نے کہا الیکشن کمیشن نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نے استفسار کیا کہ ٹریس ایبل بیلٹ پیپر چھاپنے میں کتنا وقت لگ جاتا؟۔اجلاس میں مریم نواز کے ٹکٹس چلنے کے بیان پر ممکنہ قانونی کارروائی پر بحث کی گئی، ارکان نے کہا مریم نواز کے بیان سے لگ رہا ہے انھوں نے سینیٹ الیکشن میں پیسا چلایا، بیان سے لگا کہ پیسا چلایا گیا مگر ایجنسیوں نے منصوبہ ناکام بنا دیا۔وزیر اعظم نے کہا روایت بن چکی ہے کہ پیسا لگا کر اقتدار میں آتے ہیں، پھر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر پیسا واپس نکلواتے ہیں، کرپشن کر کے نیلسن منڈیلا کی طرح تقاریر جھاڑتے ہیں۔ وزیر اعظم نے صحافیوں پر بھی تنقید کی، کہا کچھ صحافی بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے تھے کہ منڈیلا کو بولنے دیں۔دریں اثناءوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملکی معاشی حالات کے باعث غریب افراد پر پڑنے والے بوجھ کا مکمل احساس ہے ۔ ہماری ہر ممکنہ کوشش ہے کہ غریب عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جائے،غریب عوام کو ریلیف پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ، ہمیں اپنی ذمہ داری کا مکمل احساس ہے اور ہم اس کو پورا کرنے کے لئے ہر حد تک جائیں گے وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار معاشرے کے مستحق اور غریب افراد کو غذا اور دیگر اشیائے ضروریہ کی خریداری میں حکومت کی جانب سے براہ راست سبسڈی کی فراہمی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ،اجلاس میں وزیرِ خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیرِ صنعت محمد حماد اظہر، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹری صاحبان و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے ، وزیر اعظم کو مجوزہ احساس فوڈ سٹیمپ پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ، معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیر اعظم کو مجوزہ پروگرام کے خدو خال اور طریقہ کار کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت مستحق افراد کو اشیائے ضروریہ کی خریداری میں حکومت کی جانب سے براہ راست سبسڈی فراہم کی جائے گی، براہ راست سبسڈی کی فراہمی سے مستحقین تک حکومتی امداد براہ راست، شفاف طریقے اور فوری طور پر میسر آئے گی،اس پروگرام کا مقصد بالواسطہ سبسڈی کے نظام سے براہ راست مالی معاونت کے طریقہ کار اپنانا ہے،وزیراعظم کو پروگرام سے استفادہ پانے والے خاندانوں اور افراد کے اعدادو شمار اور ابتدائی تخمینے پیش کیے گئے، وزیراعظم نے مجوزہ پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ملکی معاشی حالات کے باعث غریب افراد پر پڑنے والے بوجھ کا مکمل احساس ہے ۔ ہماری ہر ممکنہ کوشش ہے کہ غریب عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جائے،وزیرِ اعظم نے کہا کہ غریب عوام کو ریلیف پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ ہمیں اپنی ذمہ داری کا مکمل احساس ہے اور ہم اس کو پورا کرنے کے لئے ہر حد تک جائیں گے ،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومتی سبسڈی کا شفاف اور موثر استعمال موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیرِ اعظم نے تمام متعلقین کو ہدایت کی کہ مجوزہ نظام کے حوالے سے طریقہ کار اوراعداد وشمار کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ اس پروگرام کا جلد از جلد اجرا کیا جا سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*