عوام کا اعتما د افواجِ پاکستان کا اثاثہ ہے ،ڈی جی آئی ایس پی آر

Major General Babar Iftekhar

روالپنڈ ی (آئی این پی ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہاہے ملک کے طول وعرض میں ہر ضلع کی سطح پر فوجی دستے سول اداروں کی مدد کیلئے پہنچ چکے ہیں جبکہ ،اسلام آباد ، پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی ، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، گوجرانوالہ، کراچی ،حیدر آباد، کوئٹہ اور مظفر آباد میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیاگیا ہے ، فوج کو آرٹیکل 245کے تحت سول اداروں کی معاونت کیلئے طلب کیا گیا ہے ، پاک فوج نے اس تعیناتی کے دوران بھی پچھلی مرتبہ کی طرح کسی قسم کا انٹرنل سیکیورٹی الاﺅنس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، تمام صوبائی ایپکس کمیٹیوں کی میٹنگ ہفتے میں ایک دن ہو گی جس میں مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا،عوام کا اعتما د افواجِ پاکستان کا اثاثہ ہے ،آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان آرمی اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی صحت اور حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی اور ملک کے طول و عرض میں ہر کونے تک پہنچ کر عوام کی حفاظت کو یقینی بنائے ،کورونا کی تیسری لہر پہلی دونوں لہروںسے کہیں زیادہ خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو رہی ہے،پوری دنیا اور بالخصوص ہمارا خِطہ اس وقت اس وبا سے شدید متاثر ہورہا ہے،وبا کی شِدت اور تیز رفتار پھیلا ﺅکی وجہ سے اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، انتہائی نگہداشت کے مریضوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ سے صحت کے نظام پر مسلسل دباﺅ بڑھ رہا ہے،ملک میں اس وقت آکسیجن کی کل پیداوار کا75 فیصدسے زائدصحت کے شعبے کیلئے مختص ہے،کورونا کی موجودہ صورتحال برقرار رہی تو انڈسٹری کیلئے مختص آکسیجن بھی صحت کے شعبے کیلئے وقف کرنا پڑ سکتی ہے ، پاکستان میں اس وقت کووڈ کے فعال کیسزکی تعداد 89,219ہے،مثبت شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، ملک بھر میں 51شہروں میں کووڈ 19 کے مریضوں کی مثبت شرح 5 فیصدسے زیادہ ہے، فیس ماسک کا استعمال، سماجی رابطوں اور سماجی دوری کے حوالے سے حفاظتی گائیڈ لائن پر عمل کر کے ہی ہم اس وبا سے محفوظ رہ سکتے ہیں،بحیثیت قوم ہمیں اب پہلے سے بھی زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔پیر کو یہاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخارنے کہا کہ آج کی اس بریفنگ کا مقصد کورونا کی تیسری لہر کے دوران پاکستان آرمی کی سول اداروں کی معاونت کیلئے تعیناتی کے حوالے سے آپ کو آگاہی دینا ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستا ن میں اس وقت کورونا کی تیسری لہر جاری ہے جو کہ پہلی دونوں لہروںسے کہیں زیادہ خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو رہی ہے،پوری دنیا اور بالخصوص ہمارا خِطہ اس وقت اس وبا سے شدید متاثر ہورہا ہے،وبا کی شِدت اور تیز رفتار پھیلا ﺅکی وجہ سے اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انتہائی نگہداشت کے مریضوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ سے صحت کے نظام پر مسلسل دبا بڑھ رہا ہے،ملک میں اس وقت آکسیجن کی کل پیداوار کا75 فیصدسے زائدصحت کے شعبے کیلئے مختص ہے،کورونا کی موجودہ صورتحال برقرار رہی تو انڈسٹری کیلئے مختص آکسیجن بھی صحت کے شعبے کیلئے وقف کرنا پڑ سکتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کووڈ کے ایکٹو کیسز کی تعداد 89,219ہے۔ مثبت شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ملک بھر میں 51شہروں میں کووڈ 19 کے مریضوں کی مثبت شرح 5 فیصدسے زیادہ ہے،اسلام آباد کے علاوہ خیبر پختونخوا میں پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی ، پنجاب میں راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، گوجرانوالہ،سندھ میں کراچی اور حیدر آباد،بلوچستان میں کوئٹہ آزاد کشمیر میں مظفر آباد بالخصوص اس وبا سے شدید متاثر ہواہے اور یہاں کووڈ 19 کے مریضوں کی مثبت شرح بڑھ رہی ہے ۔ان16شہروں میں پاکستان آرمی کی تعیناتی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 23اپریل کو(اب تک کی سب سے زیادہ اموات ہوئیں) جس دن157افراد کرونا کی وجہ سے اپنی زندگی سے محروم ہو گئے،اس وقت ملک بھر میں 570افراد وینٹی لیٹرپر ہیں،4300کرونا سے متاثرہ افراد کی حالت نازک ہے۔ کچھ شہروں کے ہسپتال میں نوے فیصد سے زائد وینٹی لیٹرززیر استعمال ہیں۔اپریل کے مہینے میں کرونا سے اموات کا اوسط تناسب سب سے زیادہ رہا ہے۔26فروری2020 سے آج تک 17,187افراد اس وبا کی وجہ سے اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔ اس وقت دنیا میں کرونا کی وجہ سے شرحِ اموات 2.12فیصد ہے جبکہ اس وبا کے دوران پاکستان میں پہلی مربتہ دنیا کے مقابلے میں شرحِ اموات بڑھ کر 2.16فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ 23اپریل کو وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا۔جس میں چیف آف آرمی سٹاف بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہاکہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور باہمی رضا مندی سے کورونا کے حوالے سے قائم قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی)نے کورونا وبا کی تیسری لہر پر قابو پانے کیلئے این پی آئیز ( NPIs)کے حوالے سے چند اہم اور بروقت فیصلے کئے جن سے آپ بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وبا کی بگڑتی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عوام کی حفاظت اور صحتِ عامہ کے تحفظ کیلئے وفاقی حکومت کے احکامات کے مطابق ملک بھر میں پاکستان آرمی کو آرٹیکل 245کے تحت سول اداروں کی معاونت کیلئے طلب کیا گیا ہے۔ عوام کا اعتما د افواجِ پاکستان کا اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہاکہآزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان آرمی اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی صحت اور حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی اور ملک کے طول و عرض میں ہر کونے تک پہنچ کر عوام کی حفاظت کو یقینی بنائے گی۔کورونا وبا کے خلاف حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد اور امن وامان کی صورتحال کی بنیادی ذمہ داری سول اداروں کی ہے۔پاکستان آرمی ہنگامی ردعمل دینے والو ں کے طور پر کے طور پر دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھر پور معاونت کرے گی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاہے کہ پیر کی صبح 6بجے سے ملک کے طول وعرض میں ہر ضلع کی سطح پر فوجی دستے سول اداروں کی مدد کیلئے پہنچ چکے ہیں۔آرٹیکل245کے تحت ملک بھر میں ہرانتظامی ڈویژن ( Administrative Division )کی سطح پر ایک ٹیم تعینات کر دی گئی ہے۔ جس کی سربراہی بریگیڈئیر رینک کے آفیسر کریں گے۔ ہرضلع کی سطح پر لیفٹیننٹ کرنل کی سربراہی میں آرمی ٹروپس سول انتظامیہ کی مدد کرینگے۔ پاکستان آرمی ٹروپس کی تعیناتی کا بنیادی مقصد سول حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاکستان آرمی نے اس تعیناتی کے دوران بھی پچھلی مرتبہ کی طرح کسی قسم کا انٹرنل سیکیورٹی الاﺅنس نہلینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام صوبائی ایپکس کمیٹیوں کی میٹنگ ہفتے میں ایک دن ہو گی جس میں مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، خاص کراعلیٰ مثبت شرح والے ایریاز کا بالخصوص جائزہ لیا جائے گا۔احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ہی اس وبا کے خلاف ایک موثر ردعمل ہے۔ ہم سب کو مل کر اِنفرادی او ر اجتماعی طور پر اپنی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہو گا تاکہ عوام کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ فیس ماسککا استعمال، سماجی رابطوں اور سماجی دوری کے حوالے سے حفاظتی گائیڈ لائن پر عمل کر کے ہی ہم اس وبا سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہمیں احساس اور نظم و ضبط کا درس دیتا ہے۔گھروں میں، مساجد میں اور باقی تمام جگہوں پر حفاظتی تدابیر کو یقینی بنا کر ہم ایک دوسرے کی مشکلات کا مداوا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس وبا کے آغاز سے اب تک عوام کے تعاون او ر احساسِ ذمہ داری نے ہمیں دیگر ملکوں کے مقابلے میں اس وبا کے انتہائی خطرناک نقصانات سے محفوظ رکھا اور اب بھی بحیثیت قوم ہمیں اب پہلے سے بھی زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ میجرجنرل بابر افتخار نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہاکہ رمضان المبارک کے اس مہینے میں اپنے ارد گرد لوگوں کا احساس کریں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ سب کو اس وبا سے محفوظ رکھے۔ انہوں نے کہاکہ وہ تمام لوگ جو اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دوسروں کی زندگیاں بچانے میں مصروف ہیں، اللہ تعالی ان کی کاوشوں کو کامیاب کرے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*