تازہ ترین

عمران ہندوستانی مسلمانوں کی بھی قیادت کریں

تحریر:ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
کشمیر کے حوالے سے جتنا چرچا عمران خان کے دور میں ہوا ہے۔ وہ کبھی نہیں ہوا ہو گا۔ میں نے پہلے کسی کالم میں لکھا ہے کہ یوم پاکستان یوم کشمیر بن گیا ہے۔ یوم پاکستان اور یوم کشمیر ایک ہو گیا ہے۔ عمران خان نے یوم پاکستان کشمیر میں منایا۔ یہ تاریخی دن انہوں نے کشمیر میں گزارا۔ ڈاکٹر بابر اعوان ا±ن کے ساتھ تھے۔ عمران خان یوم پاکستان پر آزاد کشمیر اسمبلی میں تھے۔ میں اس حوالے سے تفصیل میں نہیں جاتا کہ میں گزشتہ کسی کالم میں یہ تذکرہ کر چکا ہوں۔ اس تذکرے کا بار بار تذکرہ ضروری ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان ایک نعرہ ہے مگر یہ نعرہ اب پورے پاکستان بلکہ پورے برصغیر میں گونج رہا ہے۔اس سے پہلے کبھی کسی پاکستانی حکمران نے آزاد کشمیر کا دورہ اس طرح نہیں کیا ، عمران خاں نے یوم پاکستان آزاد کشمیر میں منایا۔ انہوں نے یوم پاکستان کو یوم کشمیر بنا دیا۔ مجھے لگتا ہے یوم پاکستان یوم کشمیر بن گیا۔ یہ تو ضرور ہو گا۔کشمیر بنے گا پاکستان
اس دفعہ یوم پاکستان یوم کشمیر بن گیا ہے۔ یہ کشمیر کی آزادی اور مستقبل کی طرف آخری قدم ہے۔ سارے پاکستان میں یوم پاکستان پر ہر طرف کشمیر کشمیر ہو رہا تھا۔ اس قافلے کی وزیر اعظم پاکستان عمران خان قیادت کر رہے ہیں۔ دانشور سیاستدان دوست ڈاکٹر بابر اعوان نے بڑے نیازیوں میں مولانا عبدالستار خان نیازی اور منیر نیازی کا ذکر بھی کیا۔ ڈاکٹر بابر اعوان کا اپنا انداز ہے اور یہ یقینا ایک بڑا اور منفرد انداز ہے۔ ایک دن عمران خان مقبوضہ کشمیر کا دورہ بھی کریں گے۔ پہلے دونوں کشمیریوں کو ایک کشمیر بنائیں وہ ہندوستان کے مسلمانوں میں بھی مقبول اور محبوب ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی بھی قیادت کریں گے۔ اس طرح ہندوستان میں دوسرا پاکستان نہیں بنائیں گے۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے مسلمستان بنائیں گے۔مگر اس سے پہلے پاکستان جو غریب شریب ملک ہے اسے امیر کبیر نہ بنائیں مگر غریب شریب نہ بننے دیں۔ نیوز ٹاکز اور معاشی سیمینار میں یہ رونا رویا جا رہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب ہے بلکہ تقریباً دیوالیہ ہو چکا ہے؟ ہم اس جملے سے ابھی اتفاق نہیں کرتے مگر کوئی ایک بات ہی بتا د یں جس سے ہم نے معاشی بدحالی سے نکلنے کی کوشش کی ہو۔میں معاشیات کے علم اور فن کے حوالے سے بالکل بے خبر ہوں۔ صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں جو پہلے غریب آدمی تھا اب غریب شریب ہو رہا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ مجھ سے بھی کئی لوگ غریب بلکہ بہت غریب ہیں۔ میں نے ہمیشہ سنا کہ ہم ایک غریب ملک کے شہری ہیں۔ ہم اربوں ڈالر کے مقروض ہیں اور یہ ڈالر روپے سے بہت آگے ہے۔ یعنی ایک ڈالر کے کئی روپے آ جاتے ہیں جو لوگ بیرون ملک جاتے ہیں وہ بے چارے گنتی شمار میں پھنسے رہتے ہیں۔جس چیز کی قیمت 110 ڈالر ہے تو اس کے کتنے روپے بنتے ہیں۔ اس طرح کئی سادہ لوگ ل±ٹ جاتے ہیں۔ لٹتے ہی رہتے ہیں۔ بڑی مدت کے بعد انہیں اس ہیرا پھیری کا پتہ چلتا ہے۔اصل ہیرا پھیری تو قوم کے ساتھ ہوتی ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں کی بات ہوتی ہے۔ بیرونی قرضوں کی خوشخبریاں سنائی جاتی ہیں اور ہوتا وہی کچھ ہے جو حکمران چاہتے ہیں۔ حکمرانوں میں صرف سائنسداں نہیں۔ افسران اور سیاستدان کے گٹھ جوڑ سے سب کچھ ہوتا ہے۔میرا ایک سوال میرے دل میں ہمیشہ تڑپتا ہے کہ اربوں روپے کی امداد اور قرضے لیے جاتے ہیں وہ کہاں جاتے ہیں جو بھی سیاستدان حکمران بنتا ہے وہ بہت کم عرصے میں امیر کبیر ہو جاتا ہے مگر ملک غریب تر ہو جاتا ہے۔ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے‘ ملک میں چاروں طرف غربت دیکھی ہے۔ غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے مگر اس کے ساتھ امارت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ میں نے سڑکوں پر بہت کم لوگوں کو پیدل چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ بھیک مانگنے والے خواتین و حضرات اپنے بچوں کے ساتھ پیدل ہوتے ہیں مگر وہ کسی سڑک کے چوک کے آس پاس سفر کرتے رہتے ہیں۔لاہور شہر میں نہر کے کنارے گاڑیوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ مال روڈ پر گاڑیاں ہی گاڑیاں ہوتی ہیں۔ کوئی بھی پیدل چلتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اکا دکا خواتین و حضرات نظر آجاتے ہیں۔ وہ بھی کسی مصروفیت میں یہ کام کرتے ہیں۔یہ بہرحال ایک کریڈٹ ہے کہ پاکستان میں ہر طرف کشمیر کشمیر ہو رہا ہے ورنہ پہلے تو کہا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر نہ آزاد ہے نہ کشمیر۔ اس دور میں پہلی بار کشمیر کی بات اس طرح ہوئی کہ پہلے کبھی اس طرح نہیں ہوئی۔آج بھی پورے ملک کا کشمیریوں سے اظہاریکجہتی ایک ایسا واقعہ ہوگا کہ ساری دنیا اسے دیکھے گی اور مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ اپوزیشن کو بھی اس حوالے سے حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ آج بھی ایک تاریخی دن ہوگا۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*