تازہ ترین

علم کی دولت

خالد حسین رضا
(گذشتہ سے پیوستہ)جب بادشاہ آیا اور دربار کے تخت پر بیٹھا جس کے ساتھ ملکہ اور شہزادی بھی آگئے تو بادشاہ نے شہزادی کو اپنے سوال کرنے کی اجازت دی جس پر شہزادی اٹھی اور اپنا پہلا سوال کچھ یوں کیا کہ اس نے اپنی شہادت کی انگلی اوپر کی جانب بلند کر دی اور علی کی جانب دیکھنے لگی علی کچھ لمحے رکا اور کچھ سوچ کر اٹھا اور اپنی شہادت کی انگلی اور اس کے ساتھ والی دوسری انگلی بھی ہوا میں بلند کر دی یہ دیکھ کر شہزادی مسکرائی اور والدہ کو دیکھ کر سر کو ہاں میں ہلا دیا مطلب جواب صحیح ہے تو ملکہ نے کہا کہ خوب علی نے درست جواب دیا ہے یہ سن کر حاضرین بہت خوش ہوئے اور علی کو شاباش دی۔
اب شہزادی نے دوسرے سوال کے لئے ایک تلوار منگوائی اور تلوار کو ہوا میں بہت تیزی سے چلایا اس کے بعد وہ اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گئی۔
اب تمام کے تمام لوگ حیران ہو گئے کہ یہ کیسا سوال ہے اور علی اس کا کیا جواب دے گا۔تمام نگاہیں علی کی جانب مرکوز ہو گئی اس دوران علی کچھ دیر سوچتا رہا اور اٹھ کر اپنی جیب سے قلم کو باہر نکال کر ہوا میں لہرا دیا یہ دیکھ کر شہزادی نے پھر خوشی سے اپنی والدہ کی جانب دیکھا اور ہاں میں سر ہلا دیا تو ملکہ کی جانب سے بہت پرجوش اور خوشی سے بھرپور آواز آئی کہ اس نے درست جواب دیا ہے یہ سن کر محل میں موجود جم غفیر کی جانب سے علی کو مبارک مبارک کی سدائیں سننے کو ملی اور تمام حاضرین یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ سوال کیا تھا اور جواب کیا کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کسی کو بھی۔
اب تیسرے سوال کی باری تھی اور سب دعائیں مانگ رہے تھے کہ اللہ پاک علی کو اس تیسرے سوال پر بھی کامیابی عطا فرما،تیسرے سوال کے لئے شہزادی فروا اٹھی اور بھاگتی ہوئی دربار کی سیڑھیاں اتری اور اس طرح بھاگ کر سیڑھیاں اوپر چڑھی اور تھک کر اپنی نشست پر بیٹھ کر علی کی جانب دیکھنے لگی اب تو علی کو بھی پسینہ آنے لگا اور کچھ گھبرا گیا لیکن بڑے تحمل سے اٹھا اور سوچتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ دیا یہ دیکھ کر شہزادی بہت خوش ہو گئی اور شرما کر وہاں سے بھاگ گئی تو ملکہ نے مبارک باد کا اعلان کر دیا کہ مبارک ہو علی نے تینوں سوالات کے جواب درست دئیے ہیں اور شہزادی نے علی کو پسند کر لیا ہے یہ سن کر وہاں موجود لوگ بہت زیادہ خوشی کا اظہار کرنے لگے اور ساتھ ساتھ راز دارانہ سوالوں کے راز دارانہ جوابات کو سمجھنے کو بے قرار تھے یہ ہی حال بادشاہ کا بھی تھا تو اس نے علی کو بلایا اور مبارک باد دیتے ہوئے پوچھا کہ اب بتا¶ کہ شہزادی نے کیا پوچھا اور تم نے کیا جواب دیا تو علی نے یوں تفصیل سے جواب دیا کہ بادشاہ سلامت شہزادی کا پہلا سوال شہادت کی انگلی ہوا میں بلند کرکے یہ پوچھا تھا کہ کیا تم اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہو تو میں نے جواب میں شہادت کی انگلی کے ساتھ دوسری انگلی کو بلند کرکے جواب دیا کہ ہاں میں اللہ اور اس کے رسول پر یقین رکھتا ہوں اللہ تعالیٰ کو اپنا پروردگار ماننے کے ساتھ ساتھ اس کے بھیجے ہوئے آخری نبی پر یقین رکھتا ہوں یہ سن کر بادشاہ اور وہاں موجود تمام لوگ مطمئن ہو گئے کہ ہاں واقعی یہ درست جواب تھا:دوسرا سوال کچھ یوں تھا کہ شہزادی نے تلوار کو ہوا میں لہرا کر پوچھا تھا کہ کیا اس سے بھی کوئی مہلک یا خطرناک ہتھیار ہو سکتا ہے جس کے جواب میں میں نے اپنی جیب سے قلم نکال کر لہرائی کہ قلم کا وار تلوار کے وار سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہے یہ جواب بھی سن کر بادشاہ سمیت تمام حاضرین حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگے کہ واقعی اس نے بہت عقلمندی سے مدبرانہ جواب دیا ہے۔
علی نے کہا کہ تیسرا سوال شہزادی نے یہ پوچھا تھا کہ میں سیڑھیاں اُترنے اور چڑھنے سے تھک گئی ہوں لیکن میرے جسم کا ایک حصہ نہیں تھکا،تو میں نے جواب میں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ دل جسم کا ایسا حصہ ہے جو پیدائش سے لے کر مرتے دم تک نہیں تھکتا اور ہر وقت اپنے حصے کا کام کرتا رہتا ہے۔
یہ سن کر بادشاہ نے بھرے دربار میں اعلان کیا کہ اے لوگوں گواہ رہنا کہ میں نے حق دار کو اس کا حق ادا کر دیا ہے اور میں نے اپنی جان سے زیادہ عزیز بیٹی کو ایسے شخص کے حوالے کر رہا ہوں جس کے پاس وہ دولت ہے جسے کوئی بھی ختم نہیں کر سکتا جتنا چاہے اس دولت کو استعمال کرے کم ہونے کے بجائے یہ دولت بڑھتی جائے گی اور وہ دولت علم ہے جسے کوئی چھین بھی نہیں سکتا اور لوٹ بھی نہیں سکتا اس لئے میں اپنی شہزادی کی شادی علی سے کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
دوستو واقعی علی کی دولت ایسی دولت ہے جسے جتنا بھی بانٹو وہ کم ہونے کے بجائے بڑھتی رہتی ہے اس لئے آپ سب سے التماس ہے کہ یہ دولت اکٹھی کرو اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*