تازہ ترین

عجلت میں منظور کرائے قانون کے ممکنہ مضمرات

نصرت جاوید
جب سے عمران حکومت اقتدار میں آئی ہے میں اس گماں میں مبتلا رہا ہوں کہ سرکاری ترجمانوں اور میڈیا منیجروں کی فوج ظفر موج فقط ٹی وی سکرینوں پر کڑی نگاہ ر کھتی ہے۔جو وقت بچتا ہے اسے سوشل میڈیا پر حکومتی ”بیانیے“ کو شدومد سے فروغ دینے پر صرف کردیا جاتا ہے۔اخبارات میں نمایاں ہوئی خبروں یا کالموں کو یوں نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ربّ کا صد شکر۔بدھ کی صبح اُٹھ کر اپنے بستر پر دھرے اخبارات کے پلندے پر نگاہ ڈالی تو اخبارات کے حوالے سے حکومتی بے اعتنائی والی بدگمانی ختم ہوگئی۔
”ن و“ کے علاوہ تقریباََ ہر بڑے اخبار کے صفحہ اوّل پر نگاہ کو اپنی جانب کھینچی شہ سرخی کے ساتھ ”لیڈ خبر“ یہ تھی کہ اپوزیشن اراکین کی بھاری بھر کم تعداد منگل کے روز آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے گنتی کے دوران قومی اسمبلی میں موجود نہیںتھی۔فقط ”نوائے وقت“ نے صرف حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر موجود تعداد کو بیان کرنے پر اکتفا کیا۔
ایک پنجابی محاورے میں ”دائی“ کی نگاہ کا ذکر ہوتا ہے۔”میٹرنٹی ہومز“ متعارف ہونے سے قبل یہ کردار بچوں کی پیدائش کے حوالے سے بہت اہم سمجھا جاتا تھا۔مجھ کو آپ اخبارات کی ”دائی“ پکارسکتے ہیں۔1975سے پرنٹ صحافت کے تقریباََ ہر مشقت طلب مرحلے سے گزر کر بالآخر نام نہاد ”سٹا ررپورٹر“ ہوا تھا۔جبلی طورپر یہ جانتا ہوں کہ تقریباََ یکساں زبان میں تیار ہوئی سرخیوں کو اخبارات کے صفحہ? اوّل پر کیسے چھپوایا جاتا ہے۔اس عمل کی تفصیل میں جانے کا موقعہ نہیں۔فی الوقت یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ اس کالم میں عموماََ جو یاوہ گوئی ہوتی ہے وہ اب حکومتی مہربانوں کی نگاہ میں رہے گی۔مزید احتیاط ہی میں عافیت ہے۔ کونے میں دہی کھانے کے دن تمام ہوئے۔
یہ ”خبر“ سو فیصد درست ہے کہ منگل کے روز جب اپوزیشن اراکین نے ایک مرحلے پر حکومت کو اپنے نمبردکھانے کو مجبور کیا تو اپوزیشن بنچوں پر 138اراکین موجود تھے۔اپوزیشن جماعتوں کی ایوان میں اجتماعی تعداد 163ہے۔ان میں سے لہٰذا 25ایوان میں موجود نہیں تھے۔غیر حاضر اراکین کی اکثریت کا تعلق نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ سے تھا۔ حتیٰ کہ اس کے صدر شہباز شریف صاحب جو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ ہونے کی وجہ سے قائد حزب اختلاف بھی ہیں وہاں موجود نہیں تھے۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی غیر حاضری بھی پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں کی توجہ کا مرکز رہی۔ان دونوں کی غیر حاضری مگر ہرگز یہ عندیہ نہیں دیتی کہ وہ اپنی جماعت سے ”دوری“ اختیار کرنے کی سوچ رہے ہیں۔حقیقت فقط اتنی ہے کہ شہباز صاحب اور شاہد خاقان عباسی موجودہ اسمبلی سے امید کھوچکے ہیں۔وہ ”اِن ہاﺅس تبدیلی“ کے خواب نہیں دیکھ رہے۔قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے رویے نے انہیں مزید دلبرداشتہ بنارکھا ہے۔عمران حکومت کے لئے ان کی مایوسی ہر حوالے سے اطمینان کا باعث ہونا چاہیے۔
عمران حکومت کی ”ٹانگ اونچی“ دکھانے کے لئے مگر جو شہ سرخی تراشی گئی ہے وہ چند تفصیلات سے قارئین کو غافل بنادیتی ہے۔ہر پارلیمانی رپورٹر کا بنیادی فرض تھا کہ وہ انہیں بیان کرے۔قومی اسمبلی میں گنتی کی ضرورت اصولی طورپر ”بجٹ“ کے اعدادوشمار کے حوالے سے نہیں ہوئی تھی۔فنانس بل کے ساتھ ہی وزیر خزانہ ان قوانین میں کلیدی تبدیلیاں بھی منظور کروانا چاہتے تھے جو فیڈرل بیورو آف ریونیو یعنی FBRکے افسروں کو محصولات جمع کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔انہیں منظوری کے لئے پیش کرنے سے قبل ایوان سے منظوری لینا لازمی تھی۔مطلوبہ منظوری کے لئے جب شوکت ترین صاحب نے تحریک پیش کی تو صدارتی کرسی پر براجمان ڈپٹی سپیکر نے اسے ہاں یا ناں کی صدا سننے کے لئے اراکین کے روبرو رکھا۔حکومتی بنچوں پر اس وقت ”اکثریت“یقینا موجود نہیں تھی۔اپوزیشن اراکین نے پھیپھڑوں کے پورے زور سے ”ناں“ پکارا۔قاسم سوری کے کان مگر اپوزیشن بنچوں سے آئی بلند ترین ”ناں“ کو بھی سننے کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے ”ہاں“ کے حق میں فیصلہ سنادیا۔ اپوزیشن تلملااُٹھی اور گنتی کا مطالبہ کردیا۔
فوری گنتی کا حکم صادر کرنے کے بجائے قاسم سوری نے حکومت کو اپنے بندے پورے کرنے کے لئے ضرورت سے زیادہ وقت فراہم کیا۔وزراءکی بے چینی اس وقت دیدنی تھی۔ان میں سے متحرک ترین تصور ہوتے افراد بارہا ایوان سے باہر جاکر ”غائب“ اراکین کو ڈھونڈ کر ایوان میں تقریباََ دھکیلتے رہے۔ گنتی کے خوف سے وزیر اعظم عمران خان صاحب کو بھی اپنا چیمبر چھوڑ کر ایوان میں آنا پڑا۔ سپیکر اسد قیصر کو بھی اپنے دفتر میں بیٹھے یہ خوف لاحق ہوا کہ شاید حکومتی بندے پورے نہیں ہوپائیں گے۔گھبراہٹ میں اپنی نشست سنبھالنے آگئے تانکہ قاسم سوری ایوان میں اپنی نشست پر واپس لوٹ کر شمار ہوسکیں۔گھبراہٹ کو عیاں کرتی اس تگ ودو کے باوجود بالآخر حکومت نے 172اراکین کی حمایت ثابت کی۔یاد رہے کہ یہ تعداد 342کے ایوان میں ”اکثریت“ دکھانے کے لئے کم از کم تصور ہوتی ہے۔فرض کیا عمران صاحب اور قاسم سوری اپنی نشستوں پر موجود نہ بھی ہوتے تب بھی حکومت ”جیت“ جاتی۔اس کے حامیوں کی تعداد مگر اس صورت میں 170نظر آتی جو یہ تاثر دیتی کہ عمران حکومت 342کے ایوان میں اکثریت کھوبیٹھی ہے۔جس پہلو کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرنا چاہ رہا ہوں وہ کئی لوگوں کو ”فروعی“ محسوس ہوگا۔پارلیمان میں گنتی مگر اہم ترین ہوا کرتی ہے۔اس کا اثر بھانپنے کے لئے پارلیمانی تجربے کی اشد ضرورت ہے۔
ہمارے ہاں ان دنوں جو ”پارلیمان“ نظر آتی ہے اگرچہ ایسی ہی ”شوشا“ہے جو ٹرکوں کے ڈرائیور اپنے زیراستعمال ٹرک کے لئے دکھانے کے عادی ہیں۔پارلیمان کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ اس میں بیٹھے افراد میرے اور آپ جیسے عام شہری کو واضح انداز میں سمجھائیں کہ فلاں قانون کیوں منظور ہوا ہے۔حکومت اس کا دفاع کرے تو اپوزیشن کو اس کے مضمرات اجاگر کرنا ضروری ہوتا ہے۔
شوکت ترین صاحب نے فنانس بل کی آڑ میں ٹیکس جمع کرنے والے افسروں کے لئے جو اختیارات منظور کروائے ہیں وہ چند ہی ماہ بعد ایف بی آر کو بھی نیب جیسا جلالی ادارہ بنادیں گے۔ اس کے افسر ”دانستہ ٹیکس چور“ شمار ہوتے افراد کو تفصیلات بتائے بغیر گرفتار کرسکیں گے۔ یہ عدالتیں ہی طے کریں گی کہ گرفتاری درست بنیادوں پر ہوئی یا نہیں۔
وزیر خزانہ بارہا اصرار کرتے رہے کہ مذکورہ قانون کی منظوری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کے منظور ہوجانے کے چند ہی دن بعد وسیع پیمانے پر مبینہ ٹیکس چوروں کی گرفتاریاں شروع ہوجائیں گی۔وہ یقین دلاتے رہے کہ کسی ٹیکس چور کی گرفتاری کا حکم وہ اپنی سربراہی میں قائم ہوئی تین رکنی کمیٹی کے مشورے کے بعد ہی جاری کریں گے۔ ان کے تسلی بخش وعدے پر اعتبار کرلیتے ہیں۔”ٹیکس چوروں“ کا ذکر کرتے ہوئے مگر شوکت ترین صاحب ہی نے ”ڈیڑھ کروڑ افراد پر مشتمل“تعداد کا ذکر بھی کیا۔ان افراد کے بجلی اور گیس وغیرہ کے بل واضح پیغام دیتے ہیں کہ وہ ہر حوالے سے ”خوشحال“ زندگی گزاررہے ہیں۔ٹیکس کے نام پر قومی خزانے میں لیکن ایک دھیلا بھی جمع نہیں کرواتے۔ریاست پاکستان کو اگر اپنی خودمختاری برقرار رکھناہے۔ ورلڈ بینک اور آئی ایف جیسے اداروں کے قرض اور امداد کے لئے منت ترلے نہیں کرنے تو مذکورہ تعداد کو ”ٹیکس نیٹ“ میں لانا ہوگا۔بھٹو صاحب کے زمانے میں ”لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو“ والا فقرہ مشہور ہوا تھا۔ ترین صاحب ”ٹیکس دو ورنہ تھانے چلو“والا ماحول بنانے کو تلے بیٹھے ہیں۔
کم آمدنی کے باوجود کئی برسوں سے باقاعدہ ٹیکس گزار ہوتے ہوئے میں خلوص دل سے شوکت ترین صاحب کی اس ضمن میں کامیابی کے لئے دُعا گو ہوں۔میری بدقسمتی مگر یہ ہے کہ ایک صحافی ہوتے ہوئے بخوبی جانتا ہوں کہ انتہائی نیک نیتی سے بنائے قوانین کو ہماری حکومتوں میں بیٹھے درحقیقت کس کی گردن پکڑنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔حکومتی بنچوں پر بیٹھے اراکین اس پہلو کو ذہن میں رکھتے تو خیال آتا کہ مستقبل میں انہیں اپوزیشن بنچوںپر بھی بیٹھنا پڑسکتا ہے۔وہ عجلت میں جو قانون منظور کررہے ہیں اس کا اصل جلوہ انہیں ان دنوں ہی دکھائی دے گا۔
انتہائی تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ سپیکر اسد قیصر نے شوکت ترین کو زیادہ سے زیادہ ٹیکس جمع کرنے کے نام پر بنائے نئے قوانین کی جزئیات پڑھنے کو مجبور نہیں کیا۔ان کی پیش کردہ ترامیم کو ”پڑھا ہوا تصور کیا جائے“ٹھہراتے ہوئے ان کی منظوری کے لئے انگوٹھے لگوالئے گئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*