تازہ ترین

عثمان بزدار۔۔۔ ایک نقلابی سردار

فیصل ادریس بٹ
1981ءمیں سردار دوست محمد خان کی وفات کے بعد فیصلے کی دستار سردار فتح محمد خاں کے سر پر سجی، سردار فتح محمد خاں بزدار 1981 میں مجلس شوریٰ کے رکن رہے، 1985ئ، 2002ءاور 2005ءمیں رکن پنجاب منتخب ہوئے سردار فتح محمد خان ہمیشہ اپنے لوگوں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے فکر مند رہے مگر شاید محدود اختیارات اور دور دراز علاقے سے تعلق کی وجہ سے تخت لاہور میں ان کی خواہشات کے مطابق شنوائی نہ ہو سکی، مگر ان کی ان خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے قدرت نے ان کے بیٹے سردار عثمان بزدار کو تخت لاہور پر بٹھا دیا، اور فیصلوں کا اختیار بھی خود ان کے اپنے ہاتھ میں دے دیا، بزدار قبیلے کے ماضی کا احوال سنانے کا صرف یہ مقصد تھا کہ سردار عثمان بزدار ایک بڑے قبیلے کے سربراہ ہونے کے علاوہ اعلی تعلیم یافتہ بھی ہیں سرداروں کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں جو تاثر ہے عمومی طور پر درست ہو سکتا ہے مگر سردار عثمان بزدار پر ان کے سارے اندازے غلط ثابت ہو جاتے ہیں، قبائلی علاقوں میں خواتین کی تعلیم پر عام طور پر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے مگر دلچسپی کی بات یہ ہے کہ سردار عثمان بزدار کی اہلیہ بھی نہ صرف اعلی تعلیم یافتہ نہیں بلکہ وہ تدریس کے شعبے سے بھی منسلک ہیں۔
پاکستان کے سرداری نظام کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں جتنے سوالات موجود ہیں سردار عثمان پر آ کر ان سب کے جوابات نفی میں آتے ہیں سردار عثمان بزدار ایک روایت شکن سردار کے طور پر دنیا کے سامنے آتے ہیں ان کے فیصلوں اور کاموں سے محسوس ہو رہا ہے .
کہ پاکستانیوں میں سرداروں کے حوالے سے جو تاثرہ ہے وہ تبدیل ہو جائے گا پنجاب میں 15 یونیورسٹیوں کے قیام اعلان کر کے سردار عثمان بزدار نے نہ صرف پنجاب میں تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے بلکہ سردار نظام کے خلاف علم بغاوت بھی بلند کر دیا ہے صوبوں سے محرومیوں کا شکار جنوبی پنجاب جہاں سے وزرائے اعلیٰ بنتے رہے.
وزارت اعظمی پر بھی اس علاقے کے قائدین کو فائز رہنے کا موقع ملا یہاں تک کہ ایوان صدر میں بھی جنوبی پنجاب کی حکمرانی رہی مگر عام آدمی کی قسمت نہ بدل سکی، سردار عثمان بزدار نے وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے فوکس ہی جنوبی پنجاب پر کر رکھا ہے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام اور اسے جس تیزی کے ساتھ فعال کیا جا رہا ہے، وہ ان کی سنجیدگی اور انتظامی امور کے حوالے سے سمجھ بوجھ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے، جنوبی پنجاب میں سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے.
جو ترقی کے نئے راستے کھول دے گا جنوبی پنجاب کے سرداریوں کے بوجھ تلے عوام کو روزگار دے کر سسٹم کے خلاف ایک اور بغاوت کر رہے ہیں، 21 ویں صدی میں جہاں انسان اور جانور ایک ہی ٹوبے سے پانی پیتے ہوں، اسے ان لوگوں کی بدقسمتی اور ان کے نمائندوں کی سنگدلی ہی کہا جا سکتا ہے مگر عثمان بزدار نے پورے جنوبی پنجاب میں صاف پانی منصوبہ شروع کر دیا ہے، جنوبی پنجاب میں سیاحتی معیشت کو فروغ دینے کیلئے سیاحتی مقامات کی ترقی کیلئے فنڈز مختص کر دیئے ہیں، جنوبی پنجاب میں دو ڈیم بھی بنائے جا رہے ہیں، جو بارشوں کے پانی کو نہ صرف فصلوں کی آبیاری کیلئے محفوظ بنائیں گے بلکہ سارا سال پینے کے پانی کی قلت بھی پیدا نہیں ہونے دیں گے ان دونوں ڈیموں پر فوری طور پر کام شروع کیا جا رہا ہے.
وزیراعلیٰ عثمان بزدار جانتے ہیں کہ ان ڈیموں کی تعمیر ان کی موجودہ وزارت اعلیٰ کے دور میں شاید مکمل نہ ہو سکے، مگر وہ چاہتے ہیں کہ یہ کام ان کے دور میں اتنا ضرور ہو جائے کہ کوئی بھی آنے والا اسے نامکمل چھوڑنے کی جرات نہ کر سکے، سردار عثمان احمد بزدار کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے والوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ وہ نہ تو کوئی غیر معروف نہ ہی ان پڑھ اور نہ ہی انتظامی صلاحیتوںسے محروم ہے وہ بڑے دل کے انسان ہیں جو اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ ایک انقلابی سردار ہیں ایسے میں پورے پاکستان کے سرداری نظام کا ان کے خلاف صف آرا ہو جانا کوئی حیرانگی کی بات نہیں وہ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بسنے والے سرداروں کو اپنی اپنی عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے پر مجبور کر دیں گے پنجاب اور پنجاب کے عوام کو کسی شاطر عیار تیز ترار وزیراعلیٰ کی نہیں عثمان بزدار جیسے درویش اور عام آدمی کیلئے ہمدردی رکھنے والے وزیراعلیٰ کی ہی ضرورت تھی، انہیں ایسے وزیراعلیٰ کی ہی ضرورت تھی جو ان کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا بندوبست کرے انہیں علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرے ان کیلئے روزگار کا بندوبست کرے اور ان کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنا سکے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*