تازہ ترین

عام آدمی کو ریلیف

وزیراعظم عمران خان نے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنےکی ہر ممکن کوشش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا مربوط نظام وضع کیا جائے جس کی بدولت عوام پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ آئے ہول سیل منڈیوں میں روزانہ کی بنیاد پر ضروری اشیاءخوردونوش کی قیمتوں میں کڑی نگرانی کے حوالے سے موثر نظام پر عملدر آمد کو یقینی بنایا جائے وزیراعظم عمران خان نے ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف بھر پور کاروائی اور اس سلسلے میں ٹیکنالوجی کا موثر استعمال بروئے کار لانے کی بھی ہدایت کی ہے ذمہ داران اور انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کے حوالے سے عوام الناس کو باخبر رکھا جائے وزیراعظم نے منڈیوں میں نیلامی کے عمل کو شفاف بنانے کے حوالے سے مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔
وزیراعظم عمران خان کی عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی بات یقینا ایک عجیب سی لگتی ہے کیونکہ وہ مذکورہ ہدایت اس وقت دے رہے ہیں جب ملک میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے یہ حکومت کی جانب سے کی گئی ہے موجودہ حکومت نے برسراقتدار آتے ہی ایک سال کے عرصے میں تاریخی مہنگائی کی ہے اس نے پیٹرولیم کی مصنوعات ،سوئی گیس سی این جی اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشرباءاضافہ کیا اس کے علاوہ عوام پر ٹیکسز بھی عائد کئے جس کی وجہ سے مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بعد خود ہی وزیراعظم عمران خان مذکورہ ہدایات کس کو دے رہے ہیں ان کا مذکورہ بیان کا کیا مقصد ہے ؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ایک فائدہ تاجر بھی حاصل لے رہے ہیں جہاں حکومت کی جانب سے مہنگائی میں جتنا اضافہ کیا جاتا ہے وہاں وہ اس میں مزید اضافہ کردیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ذخیرہ اندوزی بھی کرتے ہیں لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت مہنگائی میں اضافہ کیوں کررہی ہے اس کے اس اقدام سے تاجر بھی فائدہ لے رہے ہیں ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملک میں مہنگائی نہ کرے اگر وہ مہنگائی کرتی تو تاجر بھی اپنا حصہ ڈال دیتے ہیں اور اس کا سب بوجھ عوام پر براہ راست پڑتا ہے اس لئے حکومت کو مہنگائی میں نہ صرف اضافے کو روکنے کے اقدامات کرنے چاہئیں بلکہ اس میں کمی کرنی چاہےے اسی صورت میں عوام کو ریلیف مل سکتا ہے اس لئے بھی عوام کو ریلیف دینا ضروری ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے متعدد وزرا ءاور پارٹی رہنماﺅں نے الیکشن سے پہلے عوام کو بھر پور ریلیف دینے کے وعدے اور دعوے کئے تھے مگر وہ اس میں ناکام ہوگئے اور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ان پر مہنگائی کے پہاڑ گرادیئے جس کی وجہ سے اس کی معاشی حالت بہت ہی کمزور ہورہی ہے اور وہاں دووقت کی روٹی کے حصول کےلئے پریشان ہے اس کی پریشانی کا ازالہ حکومت کو کرنا ہے جو کہ انتہائی ناگزیر ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*