تازہ ترین

عالمی امن کا دشمن ”امریکہ“!!!!

محمد اکرام چودھری
دنیا کی نظریں افغانستان پر ہیں، پگڑی سجائے، شلوار قمیض پہنے لوگ دنیا کے طاقتور ممالک کے سامنے بات چیت کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کر رہے ہیں، وہ مہذب دنیا سے وعدوں کی پاسداری کا تقاضا کر رہے ہیں، وہ بنیادی حقوق، خود مختاری اور اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا پیغام دے رہے ہیں۔ چند سال قبل تک ان لوگوں کو دہشت گرد کہا جاتا تھا آج وہی لوگ جو انہیں دہشت گرد کہتے تھے مذاکرات کر رہے ہیں۔ معاہدے کر رہے ہیں یعنی اب وہ دہشت گرد نہیں رہے۔ عالمی طاقتیں معاہدے کے باوجود ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔ بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں معاملات کیسے آگے بڑھتے ہیں لیکن ایک مرتبہ پھر امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات تو شروع ہو چکے ہیں۔ امریکہ کا نقطہ نظر بھی عجب ہے جب امریکہ انہیں تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتا تو کیوں دنیا کو ایک نئی مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ جب آپ برسوں سے ان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، اپنی فوجیں وہاں سے نکال چکے ہیں پھر ان کے ساتھ دیگر معاملات پر دوبارہ مذاکرات کر رہے ہیں تو پھر انہیں تسلیم نہ کرنے کی کیا وجہ ہے۔ یہ دنیا کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔ جب آپ تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتے تھے تو پھر افغانستان سے کیوں نکلے وہاں بیٹھے رہتے۔ اپنی مرضی سے نکل گئے ہیں اور اب دنیا کے امن کو ایک مرتبہ پھر خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ امریکہ خود دنیا میں امن کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان پہلی بار مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔ دو روز تک جاری رہنے والے ان مذاکرات کے حوالے سے افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کہتے ہیں کہ امریکی وفد سے تعلقات کی نئی شروعات اور افغان مرکزی بنک کے منجمد اثاثوں سے پابندی ہٹانے، امریکی وفد سے انسانی امداد جاری رکھنے اور دوحہ معاہدے کی پاسدرای پر بات چیت ہو رہی ہے۔ ہم معاملات میں دخل اندازی نہیں چاہتے، مثبت تعلقات اور روابط رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کی دلچسپی امریکی شہریوں کے افغانستان سے بحفاظت انخلا، اغوا شدہ امریکی شہری کی بازیابی اور افغانستان میں انسانی حقوق میں ہے۔ امریکہ کو افغانستان میں انسانی حقوق کی فکر لاحق ہے لیکن دہائیوں سے فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ امریکہ کو کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ کشمیر اور فلسطین میں اس کے لاڈلوں بھارت اور اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مذمت کرے چونکہ وہاں اس کا مفاد نہیں ہے۔ افغانستان سے اس کے مفادات وابستہ ہیں اس لیے وہاں اسے انسانی حقوق کا غم کھائے جا رہا ہے۔ یہ تعصب کی بدترین مثال ہے۔ طالبان کے خلاف جنگ کرنے کے بعد جو لوگ امریکہ کے لاڈلے رہے یا امریکہ جن پر سرمایہ خرچ کرتا رہا انہوں نے افغانستان کے عوام کو کچھ دیا ہے یا پھر اکٹھا ہی کرتے رہے ہیں۔ اب امریکہ طالبان پر پابندیاں عائد کر رہا ہے تو پھر ان لوگوں پر پابندیاں کیوں عائد نہیں کی جا سکتیں جو امریکہ میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔
تازہ خبر ہے کہ افغانستان کے سابق وزیر دفاع عبدالرحیم وردک کے بیٹے داﺅد وردک نے لاس ایجنلس میں 20.9 ملین ڈالر کی ایک عالیشان حویلی خرید لی ہے۔ انتیس سو سکوائر فٹ پر نئی تعمیر شدہ ٹروس ڈیل سٹیٹ پراپرٹی کو ایک مقامی آرکیٹیکچر نے ڈیزائن کیا ہے جسے آخری مرتبہ دو ہزار سولہ میں ووڈ برج گروپ کو 9.5 ملین ڈالر میں فروخت کیا گیا تھا۔داﺅد وردک کی جانب سے خریدی گئی ’کارلا رج ریزیڈنس‘ کو انیس سو ساٹھ کی دہائی کے لاس اینجلس کی طرز کے سٹائل پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہاں شیشوں سے بنی دیواروں سے شہر کی بلند و بالا عمارتوں کا نظارہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ذرا اس خرید و فروخت پر بھی نظر ہونی چاہیے۔ داﺅد وردک میامی بیچ کے مہنگے ترین زیرورٹ میں 5.2 ملین ڈالر کے ایک یونٹ کے مالک بھی ہیں۔ کیا پابندیاں صرف طالبان کے لیے ہی ہیں۔
امریکہ اور انگلینڈ مل کر ہمارے خطے کے لوگوں کی مشکلات میں اضافے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ یہاں انہیں ہر کام میں دہشت گردی نظر آتی ہے جبکہ اپنے ملکوں میں کچھ بھی ہو جائے تو وہاں سب جائز ہے۔ جمعہ کی شام مشرقی لندن کے علاقے فاریسٹ گیٹ میں مسلح شخص نے حجام کی دکان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ لندن پولیس اس واقعے کی تحقیقات میں دہشت گردی کی طرز پر تحقیقات نہیں کر رہی۔ اگر گولیاں چلی ہیں فائرنگ ہوئی ہے، چاقو سے حملہ کیا گیا ہے، لوگ زخمی ہوئے ہیں تو کیا یہ سب کچھ پانی والے پستول سے ہوا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیوں دہشت گردی کے پہلو کو نظر انداز کر کے تحقیقات ہو رہی ہیں۔ کیا ایسے واقعات سے لندن کے رہنے والوں کے ذہن پر برا اثر نہیں پڑتا۔ یہاں پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کے لیے آتے وقت تو انہیں مصیبت پڑی ہوئی تھی اب ان گولیوں کا دفاع کیسے کر رہے ہیں۔ کیا کمال کے تعصب پسند ہیں۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے چونکہ اپنی ساکھ کا مسئلہ ہوتا ہے اس لیے ایسے واقعات کا رخ ادھر موڑ دیا جاتا ہے جہاں نقصان کا خطرہ کم سے کم ہوتا ہے۔ یہی دوہرے معیار ہیں جہاں سے مزاحمت جنم لیتی ہے۔ لوگوں کی آزادی پر حملہ کرنے کے بعد انہیں غلام بنانے کی سوچ آج بھی نظر آتی ہے۔ جو غلام بننا پسند نہیں کرتے انہیں دہشتگرد بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ عالمی طاقتوں کو سوچنا ہو گا صدیوں کی اس مشق کا نتیجہ کیا نکلا ہے لوگ ماضی میں بھی مزاحمت کرتے تھے لوگ آج بھی مزاحمت کرتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*