طبقاتی نظام تعلیم سے چھٹکارا ممکن ہو گا

تحریر : حاجی محمد لطیف کھوکھر
(گذشتہ سے پیوستہ)بعدا زاں انگریزوں نے ایک جامع منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمانوں کا نظام تعلیم تباہ کرکے اس میں طبقات پیدا کر دئیے۔
اہل مغرب شروع دن سے ہی امن و آشتی اور انسانی مساوات کے علمبردار دین اسلام کا تشخص خراب کرنے کیلئے مدارس کا ناطہ دہشت گردی سے جوڑ کر انہیں فروغ تعلیم کے راستے سے ہٹانے کی جامع منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے اور اس مقصد کے لئے انگریزوں نے مسلمانوں کو زوال کی طرف دھکیلنے کیلئے اپنا طبقاتی نظام تعلیم رائج کرکے اسلام کی نشاتہ ثانیہ میں نقب لگائی لہٰذادوہرے نظام تعلیم نے ہمارے معاشرے میں انسانی اقدار کو ختم کردیاہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہم ستاروں پر کمند ڈال سکتے تھے مگر ہم نے امریکن سیٹیلائٹ بننے میں ہی عافیت سمجھی جس سے واحد تبدیلی یہی آئی کہ مغرب پر انحصار کرنے کی عادت سے ہم چھٹکارا نہ پا سکے اور خودمختاری ہمیشہ کیلئے اس کے قدموں میں ڈال دی گئی۔وطن عزیز جسے استدلال و حکمت کا گڑھ ہونا چاہئے تھا اسے عدم رواداری اور غیر منطقی فکر کا مرکزبنانے کیلئے غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
تعلیم کے میدان میں ہمارا یہی المیہ رہا ہے کہ سابقہ حکومتی ادوارمیں فروغ تعلیم کے تقاضے نبھانے کی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی گئی چنانچہ سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت بتدریج دگرگوں ہوتی گئی اور اعلیٰ تعلیم کیلئے سرکاری تعلیمی اداروں کا رخ کرنے کی سوچ پنپ ہی نہ پائی جبکہ شعبہ تعلیم سے حکومتی اغماض نے کمرشل تعلیم کے راستے کھول دئیے اور اس کاروبار نے مخصوص عناصر کو بیٹھے بٹھائے ارب پتی سے کھرب پتی بنادیا۔ اراکین پارلیمنٹ کی جعلی ڈگریوں کا دریافت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا معیار تعلیم کس نہج پر ہے لہٰذا ایسے گھمبیر حالات میں نظام تعلیم کی حقیقت کو دیکھ کریہی معیارِ تعلیم کا ایک نکتہ کردار سازی ہوتا ہے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ طلبہ کی سیرت اور ان کی روزمرہ زندگی میں کیا مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اگر یہی طلبہ اخلاقی گراوٹ اور معاشرتی برائیوں کا شکار ہوتے ہیں، تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم معیار تعلیم میں آگے جانے کے بجائے پیچھے جارہے ہیں،اس زوال کے پیچھے کئی وجوہات پوشیدہ ہیں مگر یہ بات مسلمہ ہے کہ ہم اس کی ذمہ داری صرف حکومت یا اساتذہ پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے اس کی بہتری کیلئے والدین، سول سوسائٹی اور حکمرانوں سمیت معاشرے کے تمام ذمہ دار افراد کا فرض ہے،مطلوبہ نتائج کے حصول کیلئے گلیوں، ورکشاپس اور بس اڈوں پر کام کرنے والے بچوں کو سکولوں میں لانے کیلئے اور ان کی مالی حالت بہتر بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔ اسلام ہمیں انسانیت کا درس دیتا ہے۔
علم و فضیلت ہماری بنیادی تربیت کا حصہ ہے لہٰذا مدارس کے طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ ہنر بھی سکھانا ہو گا۔ تعلیمی نظام میں یکسانیت لا کر ملکی ترقی و خوشحالی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پی کے کے اکثر و بیشتر تدریسی اثاثے جاگیرداروں اور وڈیروں کے قبضے سے واگزار کرانے،وہاں نئے مدارس اور تربیتی ادارے قائم کرنے کیلئے حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے ، پیشہ وارانہ اور تکنیکی تربیت پر بھرپور توجہ دے کر ماہر اور ہنر مند نوجوان پیدا کرنا ہوں گے،شب و روز تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے منصوبے تشکیل دینے کیلئے خصوصی پالیسی یونٹ قائم کرنا ہوں گے۔شرح خواندگی میں اضافے اور مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کیلئے سکولوں کی تعداد اورسہولیات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ تربیتی وتکنیکی تعلیم کے مواقع کی فراہمی کے لئے مﺅثر پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی اوراس کیلئے ایک ہی نصاب تعلیم رائج کرنا ہو گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*