تازہ ترین

صوبے کے تمام اضلاع کو یکساں بنیادوں پرترقی۔۔

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کئی مواقع پر تقاریب میں اس بات کا بار ہا ذکر کر تے رہے کہ وہ بلوچستا ن کے تمام اضلاع کو یکساں بنیادوں پر ترقی دے رہے ہیں وہ ان حلقوں میں بھی ترقیاتی کام کررہے ہیں جہاں سے بی اے پی کا کوئی نمائندہ منتخب نہیں ہوا ہے۔انہوں نے یہ بیان بے شمار بار دیا۔لیکن اس کے باوجود اپوزیشن کو ان سے یہ شکایت رہی کہ وہ اپوزیشن کے منتخب نمائندوں کو ان کے فنڈز نہیں دے رہے بلکہ ان کے حلقوں میں مداخلت کر تے ہوئے وہاں سے غیر منتخب نمائندوں کو فنڈز دے کر کام کرا رہے ہیں۔اپوزیشن کے ان ہی الزامات کے تحت جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اور اس کے بعد حکومتی ارکان بھی ان سے ناراض ہو گئے اور پھر ان کو وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہو نا پڑا۔
گذشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے بھی رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی سے بات چیت کر تے ہوئے اس عزم کا اعاد ہ کیا کہ صوبے کے تمام اضلاع کو یکساں بنیادوں پر ترقی دی جائیگی۔ہر رکن صوبائی اسمبلی چاہے وہ حکومت سے ہو یا اپوزیشن سے ان کے ضلع کے ترقیاتی و دیگر امور میں ان کی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔حکومت سے وابستہ عوامی توقعات پر خلوص نیت سے پورا اترنے کی کوشش کریں گے بہتر طرز حکومت کے ذریعہ عوام کو ایک خوشگوار تبدیلی کا احساس دلائینگے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا مذکورہ بیان بلاشبہ قابل تعریف ہے انہوں نے صوبے کے تما م اضلاع کو یکساں بنیادوں پر ترقی دینے کی بات کی ہے وہ موجودہ حالات میں اچھا اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔کیونکہ جیسا کہ اوپر درج کیا جا چکا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال بھی ایسے ہی بیانات دیتے رہے ہیں لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور ان کو وزارت اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجوایک باصلاحیت رہنما ہیں اور وہ صوبے کے بہترین مفاد کیلئے نہ صرف حکومتی بلکہ اپوزیشن ارکان کو بھی ساتھ لیکر چلیں گے جس کا انہوں نے اظہار بھی کیا ہے۔یہ ان کی صوبے کے مفاد میں بڑی اچھی کوشش ہے جو کہ ہر صورت پورا ہونا چاہئے۔اپوزیشن سے بھی امید ہے کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور اس طرح یہ حکومت ایک مثالی حکومت ثابت ہوگی جس میں اپوزیشن بھی اس سے تعاون کرے گی۔حالانکہ ہمارے ہاں یہ ہوتا آرہا ہے کہ اپوزیشن ہمیشہ تنقید برائے تنقید پر عمل کر تے ہوئے حکومت کو ٹف ٹائم دیتی رہی جو کہ غلط تھا اپوزیشن کو تنقید برائے تعمیر کرنے کا پورا حق حاصل ہے کیونکہ اسی وجہ سے پھر حکومت اپنی خامیاں دور کر کے کام کو صحیح پٹڑی پر ڈالتی ہے۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو بھی اپنے وعدے کے مطابق اپوزیشن سمیت تمام منتخب اراکین اسمبلی کے ساتھ مکمل تعاون کر ناچاہئے تا کہ ان کو حکومت سی کسی قسم کی کوئی شکایت اور تحفظات نہ ہوں اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔اس طرح صوبے میں ترقیاتی کام بروقت مکمل ہوں گے جو اس کی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*