تازہ ترین

صوبے کو کسی صورت دہشتگردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑینگے،وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ (این این آئی) وزیراعلی بلوچستا ن میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ نام نہاد قوم پرستی کے نام پر بے گناہ لوگوں کوقتل کرنے والے قوم پرست نہیں دہشتگرد ہیں ،آئےن پا کستان کے دائرے کار میں رہتے ہوئے کوئی بھی قوم دھارے میں شمولیت کرے تو اسے خوش آمدید کہیں گے مگر اپنے صوبے کو کسی صورت دہشتگردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے ،وفاق کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے بلوچستان کی ترقی متاثر ہورہی ہے ،مسلم لیگ (ن) پنجاب سے سےٹےں جےتنے کے لئے چھوٹے صوبوں کی حق تلفی کرتی ہے، انہوں نے یہ بات بدھ کو سدرن کمانڈ اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے منعقد ہونے والی نیشنل سکیورٹی ورکشاپ بلوچستان کی اختتامی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر کمانڈر سدرن کمانڈ لےفٹےننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، صوبائی وزیر سردار سرفراز چاکر ڈومکی بھی انکے ہمراہ تھے، وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان میں بہت سے وسائل ہیں صرف وژن اور سچی نیت سے کام کر نے کی ضرورت ہے جب سے حکومت سنبھالی ہے رکی ہوئی مشنری کو فعال اور درست سمت کا تعین کیا ہے جس سے صوبے میں بہتری آئی ہے اگر کوئی صیح کا م کرنا چاہے تو بلوچستان میں بہت سے مواقعے ہیں میں ماضی کی حکومتوں کی بات نہیں کرتا لیکن ہم صوبے کو مخلص انداز میں چلا رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہمیں وفاقی حکومت کی جانب سے عدم تعاون کاسامنا ہے بلوچستان کو اسکا جائز حق نہیں دیا جارہا جس کی وجہ سے ترقی کی رفتار متاثر ہورہی ہے ،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت صرف اپنی سےٹوں کے لئے ان علاقوں میں کام کر تی ہے جہاں سے وہ اگلے الیکشن میں جیت سکیںپنجاب میں اپنی سےٹیں بچانے کے لئے دوسرے صوبوں کا حق مارا جاتا ہے جو کہ ملک کے لئے ٹھےک نہیں ہے بلوچستان جےسے اہم صوبے کو صرف سیاسی بنیادوں پر نظر انداز کیا گیا ہے ،اگر قومی اسمبلی میں بلوچستان کی سےٹےں بڑھ جائےں تو ہمارے مسائل کے لئے موثر انداز میں آواز بلند کی جا سکتی ہے ،میر عبدالقدوس بزنجونے کہا کہ اگر دےگر معاملات میں آبادی کے حساب سے حصہ دیا جاتا ہے تو کم از کم نےشنل ہائی وے اتھارٹی میں ہمیں رقبے کے لحاظ سے حصہ دیا جائے تا کہ ہم اپنے صوبے میں سڑکیں تعمیر کر سکیں،انہوں نے کہا کہ ایک اجلاس میں مجھے وفاقی نمائندوں نے کہا کہ بلوچستان سے اسکیمات کے پی سی 1اور دےگر قانونی معاملات وقت پر نہ کر نے کے باعث وفاقی اسکےمات مکمل نہیں ہو پاتیں جب میں نے ان سے پوچھا کہ این ایچ اے، واپڈا تو وفاق کے ادارے ہیں انکے منصوبے کیوں وقت پر مکمل نہیں ہوتے جس کے جواب میں وہ لاجواب ہوگئے ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت سے وسائل ہیں جنہیں درست طرےقے سے استعما ل کیا جائے تو وہ صوبے کی ترقی کے لئے کافی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ دہشتگردی کا سامنا ہے ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں ترقی ہو ہم اپنے ہمساےوں سے بھی بہتر تعلقات چاہتے ہیں امید ہے کہ وہ بھی مثبت تعاون کریں گے ،پر امن پا کستان اور افغانستان دونوں ایک دوسرے کے حق ہے ہمیں کوشش کر نی چاہےے کہ دوسروں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں انہوں نے کہا کہ افغانستا ن سے بلوچستان میں دہشتگردوں کی نقل و حرکت بہت زیادہ ہے ہم نے بردارنہ تعلقات کی وجہ سے اب تک سرحد پر پر باڑ نہیں لگائی تھی لیکن اب ہم اپنے دفاع کے لئے مجبور ہو کر سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں ،کوئٹہ شہر کی سکیورٹی کے لئے بنایا جانے والا سےف سٹی منصوبہ چار سالوں سے فائلوں کی نذر تھا جس پر ہم کام شروع کر تے ہوئے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے ،سیف سٹی منصوبہ جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہوگا تمام تر آلات جدید اور دہشتگردی کی روک تھام میں کارگر ثابت ہوں گے ،وزیر اعلی نے کہا کہ بلوچستان میں قانون سازی کے حوالے سے کمزور رہا ہے ہم نے آتے ہی ضروری قانون سازی کی ہے اٹھارویں ترمیم سے حاصل ہونے والے فوائد کو استعمال میں لانے کے لئے 30سے 40قوانین جن میں سرمایہ کاری بورڈ، پبلک پرائےویٹ پارٹنر شب ،پبلک سروس کمیشن ترمیم جےسے قوانین بنائےں ہیں کوئٹہ پیکج کے پےسے تین سال سے بغےر استعمال کئے پڑے ہوئے تھے ،ان پیسوں سے سبزل روڈ، جائنٹ روڈ، سریاب روڈ، نواں کلی کی سڑکوں کی توسیع جےسے منصوبے شروع زمین پر شروع کئے ہیں جس سے ٹریفک کا مسئلہ کافی حدتک حل ہوگا ،اگر ہم وسائل کو صےح سمت میں استعمال کریں تو تبدیلی لائی جا سکتی ہے امید ہے آئندہ وفاقی حکومت آنے والی صوبائی حکومت سے تعاون کرےگی اور بلوچستان کی ترقی میں ساتھ دی گی ،انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے دوبارہ موقع دیا تو صوبے کی ترقی کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے اور پا کستان کے آئین میں رہتے ہوئے صوبے کے حقوق کی آواز بلند کریں گے ،ہم نے 15سال سے زائد عرصے سے مذہبی اور نا م نہاد قوم پرستی دہشتگردی کا سامنا کیا ہے اگر ہمارے نوجوان بندوق اٹھا نے کی بجائی آئےن میں رہ کر حقوق کی جدو جہد کرتے تو اس سے صورتحال مختلف ہو سکتی تھی نام نہاد قوم پرستی کی تحریک کے نام پر بے گناہوں کو قتل کر نے والے قوم پرست نہیں دہشتگرد ہیں خاران میں مزدوروں کوقتل کر نے والے کیا پےغام دے رہے ہیں اور کیا وہ صوبے کو بہتری کی طرف لے کرجارہے ہیں ؟ 2002سے بلوچستان میں پرتشدد واقعات، ٹارگٹ کلنگ، اغواءبرائے تاوان کے واقعات نے صوبے کی تعلیم ،ترقی ،عوامی فلاح پر کاری ضرب لگائی ،ہم سے ہمارے پڑھے لکھے طبقے کو جدا کیا گیا اور ہماری معیشت تبا ہ ہوگئی ، میرے حلقے میں ہم کسی کی فاتحہ خوانی، خوشی ، غمی میں نہیں جا سکتے تھے ،آواران میں تعلیم ختم ہوگئی ،لیکن2013 کے بعد حالات میں بہتری آئی ہے اور حکومت کی رٹ کو بحال کیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ خوشحال بلوچستان اور بلوچستان پےکج جےسے منصوبوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ،ابھی بھی پا کستان کے آئےن کو مانتے ہوئے کوئی قومی دھارے میں شمولیت کرنا چاہے تو اسے خوش آمدید کہیں گے لیکن اپنے صوبے کو مزید دہشتگردوں کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑیں گے ، مذہبی یا قوم پرست کوئی بھی دہشتگرد ہو سکےورٹی فورسز کے ساتھ ملکر اسے ختم کریں ، انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے صوبے میں بہتر نتائج برآمد ہونگے اور اس سے ملکی و خطے کے حالات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی دریں اثناءوزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں عوام کے لئے بہتر تعلیم،صحت اور صاف پانی کی فراہمی حکومت کا اہم ترجہی ہو گی، قومی پرستی سے صوبہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا ہے ،ہمیں قومی پرستی سے باہر آنا ہوگا ،انہوں نے یہ بات بدھ کے روزسول سیکرٹریٹ کوئٹہ میںاین ٹی ایس ٹیسٹ پاس کرنے والے اساتذہ میں تقرر ناموں کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں تعلیم،صحت اور صاف پانی کے لئے خصوصی منصوبے تجویز کئے گئے ہیں،انہوں نے کہاکہ بجٹ میں صوبے کے پروفیسرز اور لیکچرر زکے لئے ملکی اور غیر ملکی اعلی تعلیمی اداروں سے پی ایچ ڈیز اور مختلف اسکالرشپ اور انٹرن شپ پروگرامز کرانے کے لئے علیحدہ طور پر 2ارب روپے مختص کئے ہیں،انہوں نے کہا کہ مستحق طلباءجو ماسٹرز اور ایم فل کی فیسز ادا نہیں کر سکتے ان کے لئے بھی ضلعی سطع پر کمیٹی بنائی ہے ،صحت کے حوالے سے وزیر اعلی میرعبدالقدوس بزنجوکا کہنا تھا کہ صوبے میں کینسر اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے اندرون ملک علاج ومعالجے صوبائی حکومت اپنے خرچے پر کرائے گی ،وزیراعلی بلوچستان نے کہاکہ بلوچستان میں تین سال قبل محکمہ تعلیم میں ملازمتوں کے لیے این ٹی ایس پاس کرنے والے 428 امیدواروں کو بلا آخر حق مل گیا،محکمہ تعلیم کی جانب سے تقرری کے احکامات دے دئیے گئے،وزیر اعلی بلوچستان نے ان امیدواروں کا حق مارنےوالے افسران کے خلاف تحقیقات کا اعلان کر دیا ، وزیر اعلی عبدالقدوس بزنجو نے امیدواروں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سال سے آپ سب نے مشکلات کا سامنا کیا، مجھے اس مسئلے کا کھلی کچہری کے پتہ چلا ،وزیر اعلی بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ ہم نے تعلیم کو تو ضرور عزت دی،مگر اساتذہ کو نہیں دی ، جبکہ ترقی یافتہ ممالک کی نشانی ہے کہ وہ اساتذہ کی عزت کرتے ہیں،اگر ہمیں بھی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہونا ہے تومعاشرے میں اساتذہ کی عزت اور احترام کو یقینی بنا نا ہو گا،اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم طاہر محمود خان ودیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*