تازہ ترین

صدر پاکستان نے اسٹیٹ بینک کی مالی شمولیت پالیسی برائے خصوصی افراد کا افتتاح کردیا

کراچی (کامرس ڈیسک)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ خصوصی افرا(ڈس ایبلیٹی پرسن)کیلئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئی پالیسی کے آغاز سے خصوصی افراد کو درپیش مشکلات کم کرنے میں نمایاں مدد ملے گی جس سے مالی نظام پر ان کے اعتماد میں خاصا اضافہ ہوگا۔ صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریق باقاعدگی کے ساتھ اشتراک جاری رکھیں گے تاکہ خصوصی افراد کو بہتر انفراسٹرکچر، خدمات کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور کم لاگت پر قرضوں کی دستیابی جیسی سہولتوں کی فراہمی کا سلسلہ برقرار رکھا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بینک دولت پاکستان کی جانب سے خصوصی افرا(ڈس ایبلیٹی پرسن) کی مالی شمولیت بڑھانے کے لیے ایک جامع پالیسی کی نقاب کشائی کی تقریب سے بحیثیت خطاب کرتے ہوئے کہا۔اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے بھی خطاب کیا۔صدر معارف علوی نے اپنے کلیدی خطاب میں اسٹیٹ بینک کی ان کوششوں کو سراہا جو وہ خصوصی افراد کو سہولت دینے کی غرض سے ایک جامع پالیسی کی تشکیل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے اشتراک سے کر رہا ہے۔ انہوں نے ان مشکلات کو اجاگر کیا جو خصوصی افراد کو معاشرے میں پیش آتی ہیں اور ان رکاوٹوں کا حوالہ دیا جن کا سامنا انہیں مالی خدمات تک رسائی میں کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے خصوصی افراد میں مزید کمزور طبقے یعنی خصوصی خواتین کی طرف توجہ دلائی جنہیں اس سلسلے میں دہرے امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے صدر کو خصوصی افراد کے لیے خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان خدمات کے اعلیٰ معیار کے حصول کے لیے اسٹیٹ بینک دیگر بینکوں کے اشتراک سے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انھوں نے ان کوششوں کے بارے میں خصوصی افراد کی مختلف انجمنوں کی قیمتی آراء کا اعتراف کیا۔ گورنر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک،بینکوں کے ساتھ مل کر اس مقصد کے حصول کے لیے کام کرے گا کہ خصوصی افراد کو معاشی سرگرمیوں میں شرکت تک مساوی رسائی اور مواقع فراہم ہوں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بینکوں کو ایسی مصنوعات اور خدمات وضع اور فراہم کرنا چاہئیں جو خصوصی افراد کی ضروریات کو پورا کرتی ہوں اور ان کی سہولت کے لیے جسمانی اور معاون تکنیکی انفراسٹرکچر کی دستیابی ممکن بنائیں۔گورنر نے مزید کہا کہ تنوع اور شمولیت کو فروغ دینا اسٹیٹ بینک کے مجموعی پالیسی فریم ورک کا ایک اہم ستون ہے جس کا مقصد وسیع البنیاد پائیدار نمو اور ترقی کے حصول کے لیے مالی نظام میں گہرائی لانا ہے۔پالیسی فریم ورک کے تحت بینک جسمانی معذور، بصارت سے محروم اور سماعت و گویائی کی معذوریوں میں مبتلا افراد سمیت خصوصی افراد کے تمام زمروں کی مخصوص ضروریات کے مطابق مصنوعات و خدمات پیش کریں گے۔ بینکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بریل میں ضروری فارموں اور دستاویزات، اشاروں کی زبان کی تشریحی خدمات اور اپنی برانچوں اور اے ٹی ایم کے داخلے کی جگہوں پر ریمپ کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔ خصوصی افراد سے احترام اور ہمدردی کے سلوک کی اہمیت پر نمایاں توجہ دی گئی ہے اور بینکوں سے کہا گیا ہے کہ خصوصی افراد کے لیے خدمات انجام دینے کے حوالے سے اپنے ملاز مین میں آگہی پیدا کریں اور ان کی تربیت کریں۔ اسٹیٹ بینک کی پالیسی میں معاشرے کے اس کمزور طبقے کو ترجیح دینے اور خصوصی مدد اور نگہداشت فراہم کرنے پر خاص زور دیا گیا ہے تاکہ ان کی مالی شمولیت میں اضافہ ہو۔یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو 30 ستمبر 2021ء تک خصوصی افراد کے لیے پالیسی فریم ورک تشکیل دینے کا پابند کردیا ہے۔ 31 مارچ 2022ء تک بینکوں کو تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں، مجوزہ معیار کے مطابق، کم ازکم تعداد میں ماڈل برانچیں بھی کھولنا ہوں گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*