تازہ ترین

صبح سویرے جاگنا اور ورزش کا معمول

صحت مند رہنے کا راز صحت مند طرز زندگی میں پوشیدہ ہے اور ورزش اس کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے۔یوں تو ورزش کرنا مجموعی طور پر انسانی جسم کے لئے انتہائی سود مند ہے تاہم صبح سویرے کی جانے والی ورزش کی افادیت اپنی جگہ صادق ہے۔کچھ عرصہ قبل ماہرین صحت کا ماننا تھا کہ دن بھر میں کسی ایک وقت مناسب انداز سے ورزش کرنا صحت کے لئے مفید ہے تاہم آسٹریلیا میں کی گئی حالیہ تحقیق کے مطابق صبح سویرے آدھا گھنٹہ ورزش کرنے کے ساتھ ساتھ اگر دن بھر میں کام کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے سے چہل قدمی کو بھی اپنی روٹین کا حصہ بنا لیا جائے تو یہ بلڈ پریشر کو متوازن سطح پر برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
جرنل آف ہائپر ٹینشن میں شائع کی گئی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسی خواتین جنہیں کام کے سلسلے میں کئی کئی گھنٹے ایک ہی جگہ بیٹھے رہنا پڑتا ہے انہیں چاہئے کہ دن بھر میں کم از کم دو سے تین مرتبہ تین منٹ کی چہل قدمی کو اپنی عادت میں شامل کر لیں۔
خصوصاً بڑی عمر کی موٹاپے یا بڑھتے ہوئے وزن کا شکار خواتین کے لئے یہ طریقہ کار انتہائی موثر ہے۔
آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں واقع Baker Heart And Diabetes Institute میں کئے جانے والے مطالعے کے نمایاں مصنف Michael Wheeler کے مطابق اگر موجودہ دور کے طرز زندگی پر نظر ڈالی جائے تو دفتری امور،گھر کے کام کاج اور سفر کے دوران ہمارا زیادہ تر وقت بیٹھ کر ہی گزرتا ہے یعنی یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہو گا آرام دہ طرز زندگی ہماری روٹین کا حصہ بن چکی ہے۔
حالیہ مطالعے سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ دن کا زیادہ حصہ بیٹھ کر گزرنا ہائی بلڈ پریشر کے امکانات بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو امراض قلب کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔
خصوصاً عمر رسیدہ افراد میں امراض قلب اور ہائی بلڈ پریشر کی شکایت ہونے کا سبب، ان کا دن کا بیشتر حصہ بیٹھ کر گزارنا ہی ہے۔
یوں تو ورزش یا مسلسل بیٹھنے سے وقفہ اختیار کرنا سود مند ہے ہی تاہم Wheeler اور ان کے ساتھی ایک ہی وقت میں ان دونوں سرگرمیوں کے اثرات جانچنا چاہتے تھے کہ آیا اس طرز عمل سے اضافی ثمرات حاصل ہوتے ہیں یا نہیں۔تحقیق سے اخذ کردہ نتائج سے یہ ثابت ہوا کہ اس عمل کے دوران گروپ کے وہ لوگ جنہوں نے صبح کی ورزش یا مسلسل بیٹھنے سے وقفہ اختیار کیا ان کے اوسطاً بلڈ پریشر کی سطح میں 1mm/Hg تک کمی دیکھنے میں آئی جب کہ صبح کی آدھے گھنٹے ورزش کے ساتھ ساتھ دن بھر مسلسل بیٹھنے کے عمل کے دوران 3 منٹ کی چہل قدمی کا وقفہ لینے والوں کی صحت میں نمایاں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں تاہم یہ اضافی فوائد مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ دیکھنے میں آئے۔
Wheeler نے بتایا کہ ہمارے لئے یہ انتہائی حیران کن تجربہ رہا کہ ورزش کے ساتھ ساتھ مسلسل بیٹھنے سے وقفہ لینے کے عمل سے خواتین کے بلڈ پریشر میں اضافی کمی دیکھی گئی۔
امید ہے کہ مستقبل میں ہونے والے دیگر مطالعوں اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہو گا جس میں کلیتاً جنس کی بنیاد بلڈ پریشر میں ہونے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی جائے گی۔
University Of Nevada Los Vegas سے تعلق رکھنے والے محقق کا ماننا ہے کہ بلڈ پریشر اور امراض قلب کے عوامل کو سمجھنے میں جنس کا فرق معاون ثابت ہو گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ ہونے والی تحقیق میں نسیجوں کے افعال اور گلوکوز کی باقاعدگی جیسے عوامل کے ذریعے مرد اور خواتین کے بلڈ پریشر میں کمی لانے میں مدد ملے گی ساتھ ہی ورزش اور وقفوں کے مثالی اوقات بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کریں گے۔
Reuters Health نامی خبر رساں ادارے کو انٹرویو کے دوران Dr.Bhammer نے بتایا کہ ”ورزش کی افادیت سے ہم سب واقف ہیں اور اس بات کے بھی واضح شواہد موجود ہیں کہ مسلسل بیٹھنے سے بلڈ پریشر کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔تاہم اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقفے کو اپنی روٹین کا حصہ بنائیں اور مسلسل چار گھنٹے بیٹھنے سے ہر ممکن طور پر گریز کرکے اچھی صحت کو یقینی بنائیں۔“

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*