تازہ ترین

شیر اور زرافہ

ثروت یعقوب
شیر اور زرافے کی دوستی سے جنگل کے تمام جانور حیران تھے کیونکہ شیر جانوروں کا شکار کرتا تھا۔زرافے کے دوست ہرن اور زیبرا اکثر زرافے کو کہتے کہ شیر پر اعتبار نہ کرو۔ایسا نہ ہو کہ کسی دن شیر کو شکار نہ ملے اور وہ تمہیں شکار بنا لے۔
لیکن زرافہ ہرن اور زیبرے کی بات کو ہنسی میں ٹال دیتا۔زرافہ اکثر شیر کو کہتا کہ اگر میں شکار نہ کروں تو کھا¶ں گا کیا؟میں تمہاری طرح گھاس نہیں کھا سکتا جس طرح تم میری طرح گوشت نہیں کھا سکتے۔زرافہ شیر کی بات سن کر چپ ہو جاتا۔
ایک دن جنگل میں شکاری آگئے۔زرافہ اپنی لمبی گردن سے درختوں کے پتے کھانے میں مصروف تھا اس کی نظر ان شکاریوں پر پڑی تو وہ فوراً شیر کے پاس گیا اور شیر کو ساری صورتحال بتائی کہ جنگل میں شکاری آگئے ہیں اور وہ ایک بڑے درخت پر مچان بنا رہے ہیں۔
ضرور وہ جانوروں کا شکار کریں گے۔شیر ہنسنے لگا بولا زرافے بھائی تم بھی بہت بھولے ہو میں جنگل کا بادشاہ ہوں بھلا مجھے کون پکڑے گا۔انسان تو مجھ سے ڈرتے ہیں ان کی کیا مجال کہ مجھے ہاتھ بھی لگائیں۔زرافے نے شیر کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ شکاریوں کے پاس بندوقیں اور جال بھی ہے اس لئے وہ ہوشیار رہے۔
شیر پھر ہنسنے لگا اور کہنے لگا زرافے میاں تم تو بہت بزدل ہو۔ شکاری بکریوں اور ہرن کو پکڑنے آئے ہونگے مجھے پکڑنے کی جرا¿ت نہیں میں جنگل کا بادشاہ ہوں۔زرافہ شیر کی بات سن کر چپ ہو گیا۔شیر اس زور سے دھاڑا کہ درختوں پر بیٹھے پرندے بھی خوف کے مارے اُڑ گئے۔
شیر نے زرافے سے کہا آ¶ مجھے دکھا¶ کہ وہ شکاری کہاں ہیں میں آج ان کا شکار کرتا ہوں۔زرافہ پہلے تو بہت ڈرا لیکن جب شیر نے زیادہ زور دیا تو وہ شیر کو لے کر اس طرف چل دیا جہاں شکاریوں نے مچان بنا رکھی تھی،زرافے نے دور سے ہی دیکھ لیا۔
شکاری اپنی تیاریاں مکمل کر چکے تھے۔زرافہ رک گیا۔شیر نے پوچھا کیا ہوا۔ زرافہ بولا شیر بھائی شکاری پوری تیاری میں ہیں کہیں ہمیں پکڑ نہ لیں۔شیر نے کہا تم یہیں ٹھہرو تم بہت بزدل ہو میں دیکھتا ہوں۔شیر یہ کہہ کر آگے بڑھا مجبوراً زرافہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا شکاریوں کے قریب جا کر شیر ایک مرتبہ پھر دھاڑا اس نے زرافے سے کہا تم کہتے تھے کہ شکاری مجھے پکڑنے آئے ہیں دیکھو انہوں نے ایک بکری پکڑ رکھی ہے اور اسے درخت سے باندھ رکھا ہے۔
زرافے نے جب درخت کے اوپر دیکھا تو وہاں سے اسے جال نظر آیا وہ چیختا شیر بھائی شکاریوں نے بکری تمہیں شکار کرنے کے لئے باندھی ہے۔بکری کے قریب نہ جانا شیر نے زرافے کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔زرافے کہنے کو تو تم میرے دوست ہو لیکن بہت ڈرپوک ہو۔
مجھے لگتا ہے شکاری تمہیں پکڑ کر لے جائیں گے میں نے کافی دنوں سے بکری کا شکار نہیں کیا۔آج بہت مزا آئے گا۔زرافہ بیچارا شیر کو منع کرتا رہا لیکن شیر اس کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہ تھا۔اس نے جیسے ہی بکری پر حملہ کیا۔مچان پر بیٹھے ہوئے شکاریوں نے شیر پر جال پھینک دیا۔
شیر جال میں بری طرح پھنس گیا۔زرافہ دور کھڑا ساری صورتحال دیکھ رہا تھا۔زرافے نے کہا میں نہ کہتا تھا کہ شکاری تمہیں شکار کرنے آئے ہیں اور تم ان کے جال میں پھنس گئے بعد میں شکاری شیر کو پنجرے میں بند کرکے چڑیا گھر لے گئے شیر کے جانے بعد جنگل کے تمام جانوروں نے خوشیاں منائیں صرف ایک زرافہ اداس تھا۔
سچ ہے کہ حد سے زیادہ خود اعتمادی بعض اوقات نقصان دہ ہوتی ہے۔ہمیں دوسروں کی باتوں کو بھی دھیان سے سننا چاہئے۔
٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*