تازہ ترین

شہبازشریف نے حکومت کو قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے کا مجرم قرار دےدیا

لاہور (آئی این پی ) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے حکومت کو معاشی تباہی اور مہنگائی کے ذریعے قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے کا مجرم قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت، عوام اور موجودہ حکومت میں سے ایک کو چننا ہوگا، اس حکومت کا ایک ایک منٹ پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان دے رہا ہے۔ اپنے ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کا اعلان کر کے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مزید بڑھا دیں، یہ ہے اس حکومت کا احساس اور وعدہ؟ ایک بار پھر میری بات سچ ثابت ہوئی کہ یہ حکومت عوام اور آئی ایم ایف دونوں کو دھوکہ دے رہی ہے، جھوٹ بول رہی ہے، اگر آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط طے نہیں ہوئیں، مذاکرات آگے نہیں بڑھے تو پھر قیمتوں میں اضافہ کیوں کیاجارہا ہے؟ حکومت عوام اور پارلیمنٹ سے آئی ایم ایف کی شرائط کیوں چھپا رہی ہے ؟ شرائط نہیں مانیں تو پھر مہنگائی کیوں؟ مہنگائی میں مسلسل اضافہ اور آئی ایم ایف کی سلامتی وقومی اداروں کے بینک اکانٹس سے متعلق شرائط خطرے کی گھنٹی ہے یہ کون سے اچھے دن آئے ہیں کہ ہر روز چائے، چینی، آٹے، انڈے، دودھ، دہی، گھی، چاول، سبزیوں اور دوائی کی قیمت بڑھتی ہی جا رہی ہے؟ شہباز شریف نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ معاشی تباہی کی جلتی آگ پر مہنگائی تیل کا کام کررہی ہے، حکمرانوں کا ہر دن قومی سلامتی کے لئے خطرات اور خدشات بڑھا رہا ہے، موجودہ حکومت کی ناکامی پاکستان کے وجود اور مفادات کے لئے زہر قاتل بن چکی ہے، نجات حاصل نہ ہوئی تو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف سے بات چیت سے پہلے ہی مشیر خزانہ کا چلے جانا، امن وامان سمیت دیگر سنگین مسائل میں وزرا کا چھٹیاں منانا اور سیرسپاٹے حکومت کی غیرسنجیدگی کے مظاہر ہیں، موجودہ پوری حکومت کو مکمل چھٹی دینے کی ضرورت ہے، مسائل کی دلدل سے ملک کو نکالنے کے لئے سنجیدہ، قابل اور دیانت دار ٹیم کی ضرورت ہے۔شہباز شریف نے مزید کہاکہ ثابت ہوچکا ہے کہ ملک اور قوم کے مسائل کو یہ حکومت حل نہیں کرسکتی، مزید وقت ضائع کرنا ملک اور قوم کے ساتھ سنگین زیادتی ہے، مہنگائی ، معاشی تباہی اور بے روزگاری کی سزا ملک اور قوم بھگت رہی ہے ، حکومت کو احساس نہیں کہ غریب ہی نہیں سفید پوش طبقہ پس چکا ہے، اس ظالم حکومت سے نجات کے لئے پوری قوم کو گھروں سے باہر نکلنا ہوگا اور فیصلہ کن قدم اٹھانا ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*