تازہ ترین

شفائی خصوصیات سے بھرپور چیکو

نسیم حسین
چیکو آم‘کیلے کی طرح مشہور ٹروپیکل پھل ہے۔اس کا گودا نہایت نرم‘شیریں اور جلد ہضم ہونے والا ہوتا ہے۔اس میں سادہ شکر فروکٹوز اور سکروز پائی جاتی ہیں چیکو کا تعلق Sapotaceae خاندان سے ہے اور اس کا سائنٹفک نام ہے Manilkara Zapota ہے چیکو کا اصل تعلق وسطیٰ امریکہ کے جنگلات سے ہے۔جبکہ بھارت‘سری لنکا‘انڈونیشیا اور ملائیشیا میں اسے بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے چیکو کا درخت بہت تیزی سے پروان چڑھتا ہے۔
گرمی میں آبپاشی سے چیکو کا پھل وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔چیکو خشک زمین میں بھی اچھی پیداوار دینے کے لئے مشہور ہے۔چیکو گول بھی ہوتا ہے اور بیضوی بھی اس کا قطر 10 سینٹی میٹر تک ہو سکتا ہے۔چیکو دنیا بھر میں کئی ناموں سے مشہور ہے۔
یہ پھل بارہ ماسی‘بوا چیکو‘چکل‘چیکوزپوٹ‘چکو‘کوروب‘مس پل‘مسیلو‘موٹے‘میوزپوٹ‘نیس بیری‘ نسیرو کوائی ٹنس‘ سپوڈیلا پلم‘سپوٹی‘سپوٹائل‘ٹری پوٹیٹو پوٹے چیکو‘زپوٹے موراڈو اور زپوٹائلو کے نام سے مشہور ہے۔
چیکو کا درخت خاصی سستی سے بڑھتا ہے تاہم طویل عرصے تک پھل دینے کے لئے بھی مشہور ہے۔یہ 60 سے 100 فٹ طویل بھی ہو سکتا ہے۔یہ موسموں کا مقابلہ کرنے والا درخت ہے۔اس میں سے سفید گوند جیسا مادہ نکلتا ہے۔اس کے پتے سبز اور چمکدار ہوتے ہیں۔چیکو کے پھل چھوٹے اور گھنٹی کی شکل کے ہوتے ہیں۔چیکو کے چھلکے پر رواں ہوتا ہے۔پھل پکنے کا اندازہ چھلکے کے اُوپر موجود رویں کو ہٹانے کے بعد ذرا سا چھیل کر ہوتا ہے۔
اگر پھل کچا ہے تو وہ ہرا ہو گا اور پکے ہونے کی صورت میں بھورا۔کچا چیکو بہت ترش ہوتا ہے۔پکنے پر چیکو انتہائی میٹھا ہو جاتا ہے۔چیکو کی بعض قسموں میں بیج نہیں ہوتے۔عام اقسام میں 3 سے لے کر 12 بیج تک دیکھے گئے ہیں۔بیج سیاہ یا بھورے ہوتے ہیں اور ان پر ایک سفید لکیر پڑی ہوتی ہے۔
چیکو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پوکٹان جنوبی میکسیکو‘شمالی برازیل اور شمالی مشرقی گوئٹے مالا میں اُگا کرتا تھا۔
ایک زمانے میں اس علاقے میں چیکو کے 10 کروڑ درخت تھے۔وسطیٰ امریکہ کے جنگلات میں چیکو بکثرت پایا جاتا ہے۔اسے قدیم زمانے سے ہی کاشت کیا جاتا رہا ہے۔اسے صدیوں پہلے جزائر غرب الہند‘بہاماس‘برمودا‘فلوریڈا کیسز‘فلوریڈا مین لینڈ کے علاوہ نو آبادیاتی دور میں فلپائن اور 1802 میں سیلون میں اُگایا گیا۔یہ بھارت کے کئی علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے جس میں مہاراشٹر‘آندھرا پردیش‘مدراس اور بنگال شامل ہے۔
بھارت میں چیکو کو دو ہزار ہیکڑ پر کاشت کیا جاتا ہے۔میکسیکو میں 1,511 ہیکڑ میں اس کی کاشت ہوئی ہے۔بھارت میں کاشت ہونے والے چیکو میں کاپتی‘کلکتہ اسپیشل‘پیلی پٹی‘بھوری پٹی‘جماکھیا‘موہن گوئی‘کرکٹ بال‘دوار پوزی‘بنگلور ولویوالاسا‘جونا والوسا‘جونا والوساراؤنڈ‘گورنگاں اوکا‘تھگرم پوڑی بادام‘بھوری‘کلکتہ راؤنڈ‘ڈھولا دیوانی‘فنگر‘گتھی‘کالی اور ونجیت نامی اقسام کاشت کی جاتی ہے۔
چیکو سطح سمندر سے لیکر 1500 فٹ بلندی تک اُگتا ہے جبکہ بھارت میں چار ہزار فٹ کی بلندی تک اُگتا ہے۔چیکو کے بیج اگر خشک رکھے جائیں تو کئی برسوں کے بعد بھی کاشت کے لئے کارآمد رہتے ہیں۔
چیکو کا درخت 5 سے 8 برس کی عمر میں پھل دینے کے قابل ہوتا ہے۔بھارت سمیت پوری دنیا میں چیکو کی کاشت کے لئے مختلف طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔چیکو کے درخت پر پھل آنے کے 4 سے 6 ماہ بعد پھل پکتا ہے۔
بھارت سمیت علاقے کے دوسرے ملکوں میں چیکو دسمبر تا مارچ دستیاب ہوتا ہے تاہم بعض کسانوں نے اسے پورا سال اُگانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے لہٰذا اب یہ سال کے اکثر مہینوں میں فروخت کے لئے مارکیٹ میں آتا ہے۔چیکو کا پھل اگر پکائے بغیر اُتارا جائے تو اسے گرم کپڑوں میں رکھ کر بھی پکایا جا سکتا ہے چیکو جوس‘ملک شیک‘مختلف میٹھوں وغیرہ کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کی پائی بھی نہایت لذیذ ہوتی ہے۔انڈونیشیا اور ملائیشیا میں اسے تل کر کھایا جاتا ہے۔اس کا سیرپ بھی بنایا جاتا ہے۔بہاماس میں چیکو کو کیک اور ڈبل روٹیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ چیکو پکاتے ہوئے شکر ڈالی جائے تو اس کا رنگ بھورے سے سرخ ہو جاتا ہے۔چیکو کو سکھا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
چیکو میں ٹین نائن کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔
جو اسے کسیلا بناتی ہے جبکہ پکنے کے بعد ٹین نائن ختم ہو جاتا ہے۔چیکو میں شکر کے علاوہ ایسکوربک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے۔اس میں کاربوہائیڈریٹ‘گلوکوز‘فروکٹوز‘سکروز‘اسٹارچ بھی موجود ہوتا ہے۔اس کا بیج کھانے سے پیٹ میں درد ہو سکتا ہے۔چیکو کے درخت سے ایک مائع نکلتا ہے جو چکل کہلاتا ہے۔اس سے چیونگم بنائی جاتی ہے۔چکل بے ذائقہ مائع ہے اور اسے سکھانے کے بعد بطور گم استعمال کیا جاتا ہے چیکو کے درخت کی لکڑی کو عمارت کی تعمیر اور فرنیچر بنانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے چیکو شفائی خوبیوں سے بھی آراستہ ہے۔
ٹین نائن کی وجہ سے چیکو کے ابتدائی پھل کو اُبال کر ڈائریا کے مریضوں کو پلایا جاتا ہے۔چیکو کا پھل اور پھول اُبال کر تنفس کی تکلیف میں گرفتار مریض کے لئے مفید ہے۔چیکو کے کچلے ہوئے بیج مثانے اور گردوں کی پتھری ختم کرتے ہیں۔زہریلے جانور کے کاٹنے کا علاج بیجوں میں پوشیدہ ہے۔جو ڈنک کے مقام پر رکھے جاتے ہیں۔
چیکو شکر قندی اور کیلے کی طرح کیلوریز سے بھرپور پھل ہے 100 گرام چیکو میں 83 کیلوریز پائی جاتی ہیں۔
اس کے باوجود چیکو ریشے کے حصول کا بہترین ذریعہ کہا جا سکتا ہے۔یہ قبض نہیں ہونے دیتا اور بڑی آنت کو سرطان سے بچاتا ہے۔چیکو ہربل دوائیں بنانے کے کام بھی آتا ہے چیکو شفائی خصوصیات سے بھرپور پھل ہے چیکو نظام انہضام کو متوازن رکھتا ہے۔چیکو میں موجود وٹامن A اور وٹامن C بینائی کے لئے مفید ہیں اور جلد کو بھی صحتمند رکھتے ہیں۔
یہ کیوٹیز سے محفوظ رکھتے ہیں اور فری ریڈیکلز کا خاتمہ کرتے ہیں۔
چیکو کے گودے میں چٹکی بھر نمک شامل کرکے کھانے سے قبض کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔سوزشی بیماریوں میں بھی چیکو بے حد مفید ہے۔اس کے پتے ردِ سوزش ایجنٹ کا کام کرتے ہیں۔چیکو کے صاف پتے لیکر 10 منٹ تک اُبالیں۔اس پانی سے غرارے کر لیں۔منہ کے مسائل دور ہوں گے۔چیکو میں موجود 5.6 گرام ریشہ بھی صحت کے لئے بے حد مفید ہے۔یہ سرطانی زہروں کو صاف کرتا ہے۔چیکو خون روکنے کے لئے اکسیر کا کام کرتا ہے۔
قبض،بواسیر‘زخم اور دیگر مسائل میں خون ضائع ہونے سے بچاتا ہے۔یہ سوزش کی سطح کو کم کرکے وائرل بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔سوجن سے پیدا ہونے والی سوزش کا علاج ہے۔چیکو میں موجود وٹامنز اور معدنیات توانائی فراہم کرتے ہیں۔چیکو اعصاب کو آرام پہنچاتا ہے اور دباؤ کم کرتا ہے۔نیند کی کمی کا شکار لوگوں کے لئے چیکو سے بہتر کوئی دوا نہیں۔یہ پریشانی کم کرتا ہے اور اعصاب کو سکون فراہم کرتا ہے۔چیکو نزلہ زکام اور کھانسی میں بھی مفید ہے یہ ناک کھولتا ہے۔چیکو میں شامل فولک ایسڈ جسم میں سرخ جسیمے بناتے ہیں خاص طور پر حاملہ عورت کے غیر نومولود بچے کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*