تازہ ترین

سکون قلب

حفصہ انور
زیادہ کچھ نہیں ہوا تھا بس زندگی خاموش ہو گئی تھی۔۔
دل مطمئن نہیں تھا۔۔ چیزیں میرے مطابق کی نہیں رہی تھیں۔۔ ہاتھ سے سب ریت کی ماند پھسل گیا تھا۔ایک عجیب سی بے چینی جو اندر ہی اندر روح تک کو جھنجھوڑ رہی تھی۔۔
سکون قلب کے لئے بٹھک رہی تھی
چھوٹی چھوٹی باتیں بہت بڑی لگتی تھیں دل دکھی ہوتا تو ہوتا چلا جاتا ایک عجیب طوفان جو میرے اندر شور مچا رہا تھا۔۔۔
تڑپ تھی سکون کی تلاش میں تھی۔۔
لوگ کہتے تھے کے ایسی عبادت کا کیا فائدہ جس میں تم محبت مانگتی ہو کمال ہیں نا کیسی عجیب سوچ ہے۔۔
میرے اللہ نے تو کوئی حد مقرر نہیں کی وہ تو کہتا ہے آ میرے بندے مانگ مجھ سے رجوع کر میری طرف جھولی پھیلا ہزار بار پکار میں سنوں گا تیری ہر پکار۔
یہ لوگوں کی بھی نا بڑی عجیب سائکی ہے وہ یہ تو سوچتے ہی نہیں جس محبت کے لئے انسان رب سے رجوع کرلے کیا وہ خدا پھر اپنے بندے کو بٹھکنے دیتا ہے؟؟
ارے اس محبت کا تو قصہ کہیں دور کھو جاتا ہے اور شروع ہوتا ہے حقیقی سفر
در در بٹھکنے کے بعد جب رب سے ملتے ہیں نا تو روح میں محبت کا ایسا سمندر پیدا ہوتا ہے جس میں انسان زندہ تو رہتا ہے پر من میں بس رب رہتا ہے۔
سکون کی تلاش میں مجھے اللہ سے محبت ہو گئی بس دل چاہتا اللہ سے باتیں کرتی رہوں اس کو پکاروں بار بار پکاروں دن بھر کی ساری باتیں اللہ سے کروں انہیں بتا¶ں آج میں نے یہ کیا آج یہ۔۔۔پتا ہے میں جب بھی پکارتی ہوں وہ میری سنتا ہے اکتاتا نہیں ہے لوگوں کی طرح نظر انداز نہیں کرتا مجھے بھولتا نہیں میں جتنی بھی بری بن جا¶ں وہ میرے لئے اپنا در بند نہیں کرتا میں ضد پے اڑ جا¶ں تو محبت سے سمجھا دیتا ہے میرے دل کو اپنی رضا پر راضی رہنے والا بنا دیتا ہے۔
اور مجھے ہرروز اپنے اللہ سے ایک نئی محبت ہو جاتی ہے اس کے کرشمے معجزے ہمیشہ حیراں کر دیتے ہیں حقیقتن اس کی جتنی تعریف ہو کم ہےبہت کم ہے۔۔
میرا اللہ مجھے عشق کی نماز تہجد تک لے آیا۔۔
اب دل اداس نہیں ہوتا روح سر شار سی ہے سکون ہے اطمینان ہے زندگی سے شکوہ نہیں رہا۔۔۔
میرے خوف نے مجھے بے خوف کردیا ایک ایسی انتہا پر ہوں جہاں نکامی آنکھ میں ایک آنسو بھی نہیں آنے دیتی کامیابی بے مول سی لگتی رب کی محبت کے بعد سب خوائشیں کہیں دب گئیں۔
۔۔لوگوں کا لہجہ دکھ نہیں دیتا اچھا برا محسوس نہیں ہوتا۔۔لوگ اسے آنا کی حد سمجھتے ہیں پرمیرا خدا جانتا ہے یہ خاموشی میرے اندر بس گئی ہے غار حرا جیسی خاموشی جہاں اپنے اندر کو باہر لے آوں۔۔جہاں ہجوم الجھا دیتا ہے اب وہاں تنہائی سکون دیتی ہے۔۔
اللہ سے ملنے کا زریعہ ہو جیسے۔۔۔جہاں میں اپنی ساری کمزوریاں سارے ڈر اللہ کو سنا دوں وہ چاہے دنیا کے سامنے ظاہر کر دے چاہے چھپا لے۔
۔ وہ وہی کرے گا جو میرے حق میں بہتر ہوگا۔۔۔مجھے بس اپنے رب سے اسکی محبت کے سوا کچھ نہیں چاہیے یہی چاہت ہے کے وہ جہاں رکھے مجھے وہاں کسی اور کو نا رکھے۔۔میری دکھی شام میں بس وہ میرے پاس ہو۔۔مجھے اکیلا نا چھوڑے بس وہ میرے ساتھ ہو۔۔
مجھے گمنام رکھے یہاں پر اُس جہاں میرا انعام رکھے۔۔
محبتوں والے خانوں میں میرا نام رکھے۔۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*