تازہ ترین

سنجیدگی سے نظر ثانی کی ضرورت ہے

رقیہ غزل
یکساں قومی نصاب کے حوالے سے علمی وسماجی حلقوں میں پھیلی حیرانی اورپریشانی مزید بڑھ گئی ہے۔ کیونکہ اب یکساں قومی نصاب کے تحت شائع ہونے والی کتب کے مواد اور تصویروں پر اختلافی بحث شروع ہوگئی ہے۔کہا جا رہا ہے کہ یہ نصاب ایک خاص مائنڈ سیٹ کے تحت تیار کیا گیا ہے جس میں خواتین کی رجعت پسندانہ منظر کشی کی گئی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس پر سنجیدگی سے نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کی نصابی کتب میں خواتین کی کس انداز میں عکاسی کر رہے ہیں ‘ان کتب میں آخر کون سی اقدار دکھائی جا رہی ہیں ؟ یکساں نصاب کو رائج کرنے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی جلد بازی بہت سی خرابیاں پیدا کر سکتی ہے جن کا ازالہ آئندہ کئی برسوں تک ممکن نہ ہوگا۔ لیکن ایسی تمام آراءکو دماغ کا خناس قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بعض افراد پاکستان کو رسوا کرنے کے لیے ایسے بحث و مباحثے چھیڑ رہے ہیں حالانکہ ہماری حکومت ایک ایسی جامع سکول ایجوکیشن پالیسی لیکر آئی ہے جس کے نفاذ کو یقینی بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا مگر ہم نے کر دکھایا ہے۔ یکساں نصاب کو رائج کرنے کے لیے کوئی متفقہ اور با ضابطہ طریقہ کار بھی وضع نہیں کیا گیا پھر بھی سرکاری سکولوں میںلاگو کر دیاگیا ہے لیکن پرائیویٹ سکولوں میں ابھی تک ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ ان میں سے معروف اداروں پر حکومتی اداروں کا چیک اینڈ بیلنس ہی نہیں ہے اور آئندہ بھی یہ بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔ انہی دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے اساتذہ اور پبلشرز سراپا احتجاج ہیں مگر کسی کو فرصت ہی کہاں کہ سوچے کہ ملکی سطح پر کیا جانے والا ہر فیصلہ عوام الناس کے نقصان کا ہی سبب کیوں بنتا ہے۔تبدیلی سرکار کے پاس صرف ایک دلیل ہے کہ تعلیمی مساوات قائم کی جارہی ہے کیونکہ طبقاتی نظام تعلیم نے معاشرے کو تقسیم کر دیا ہے۔مذکورہ پالیسی میں بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ مدارس کو قومی تعلیمی دھارے میں لانے کی بجائے پورے ملکی نظام تعلیم کو مدارس کے طرز تعلیم پر استوار کیا جائے تاکہ شعور و آگاہی کو محدود کیاجائے۔ہمارے باپ دادا نے بھی” اولڈ مین اینڈ دی سی“ کو پڑھا اور ہم بھی پڑھ رہے ہیں۔ اگر کچھ کرنا تھا تو اسلامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب تعلیم کو جدید تعلیمی تقاضوں سے آراستہ کرتے تاکہ افسر شاہی اور وڈیرہ شاہی طبقات کے بچے جو کہ بیرون ملک اور ایچی سن جیسے اداروں سے پڑھ کر حکمرانی کرنے کے حقدار بنتے ہیں‘ ان کی شعبدہ بازیوں کو عام آدمی بھی سمجھ سکے لیکن یہ تو سراسر تعلیمی سطح اور صلاحیتوں کو کچلنے کا منصوبہ ہے۔ عجیب ”اندھا گائے بہرا بجائے “والا معاملہ بنا ہوا ہے۔
خدا لگتی کہوں تو ہمارے وزیراعظم کے خطابات ، بیانات اور منصوبہ جات معاشرتی اور اسلامی تقاضوں کے عین مطابق ہوتے ہیں لیکن کام اسکے برعکس ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو افراد ارد گرد بیٹھے ہیں انھیں جوڑ توڑ کرنے اوربیانات کو ڈیفنڈ کرنے سے فرصت نہیں ملتی اورحکومتی پالیسیوں کے بارے میںاتحادیوں اور اپوزیشن راہنماﺅںکا روز اول سے ایک ہی جواب رہا ہے کہ ہم سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ اس مرتبہ بھی یہی ہوا ہے۔چند روز پیشتر پیپلز پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منور انجم کی جانب سے ساﺅتھ ایشین کالمسٹ کونسل (ساک) کے اعزاز میں ملک کے نامور صحافیوںاور کالم نگاروں کو کاسموپولیٹن کلب میں پر تکلف عشایہ دیا گیا جس میں پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر اور نو منتخب جنرل سکرٹری پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب سید حسن مرتضی نے پارٹی کے موجودہ اور آئندہ مستقبل کے لائحہ عمل بارے بریفنگ دی۔اس موقع پر سوال و جواب کا سیشن بھی رکھا گیاتھا تو ہم نے بھی سوال کیاکہ اس وقت اہم ایشو یکساں قومی نصاب کا نفاذ ہے تو پیپلز پارٹی کا یکساں نصاب کے حوالے سے کیا موقف ہے ‘اب جبکہ پبلشروں اور سکول مالکان کے نقصانات کے بارے میں کوئی آواز نہیں اٹھا رہا تو پیپلز پارٹی کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہے؟منور انجم نے ٹالنا چاہا مگر ہم نے وہی سوال دوبارہ دوہرایا اور حسن مرتضی سے کہا کہ ہمیں اس کا واضح جواب نہیں ملا! تو انھوں نے دوٹوک جواب دیاکہ پہلی بات یہ ہے کہ ہم سے مشورہ نہیں لیا گیا تاہم پیپلز پارٹی یکساں نصاب کے حق میں ہے مگر طریقہ کار غلط ہے اور بہت جلد اسکے بارے میں ہم احتجاج کا اعلان کرنے والے ہیں۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اتنے اہم فیصلے میں دوسروں کے تجربات سے استفادہ نہیں کیا گیاالمختصر۔۔قبل ازیں عام آدمی جو عہدے اور وزارتیں پا لیتا تھا وہ خواب بن کر رہ جائے گا کیونکہ ایچی سن اور پرائیویٹ سکول کے بچے پہلے بھی برابر نہیں تھے تو اب خاص مفادات سے وابستہ افراد کی زیر نگرانی جو نصاب تیار کیا گیا ہے اس کو پڑھ کر بچے امراءو روﺅسا کے بچوں کا مقابلہ کیسے کریں گے۔ دیکھنا تویہ ہے کہ اپوزیشن اپنی تجاویز حکومت تک کب پہنچائے گی اور متاثرین کے لیے احتجاج کا اعلان کب کرے گی۔ کیونکہ یہ طے ہے کہ مذکورہ فیصلہ نظر ثانی کا متقاضی ہے چونکہ ملک و قو م کامستقبل داﺅ پر لگا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*