تازہ ترین

سردی کے موسم میں سنگھاڑا بھی کھائیے

محمد ساجد خان
سنگھاڑا (Onagra) سردیوں کی خاص سوغات ہے۔یہ پاکستان اور ہندوستان میں بہ کثرت پیدا ہوتا ہے۔اس کے پودے کی افزائش دلدلی زمین،کھڑے پانی اور جھیل میں ہوتی ہے۔اس کے بیج تکونی شکل کے ہوتے ہیں۔پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں سنگھاڑا سب سے زیادہ چین میں پیدا ہوتا ہے۔سنگھاڑے کو انگریزی میں ”چیسٹ نٹ“ (Chestnut) بھی کہتے ہیں۔
یہ پولی فینولک (Polyphenolic)،فلیوونائیڈز (Flavonoids) اور مانع تکسید اجزاء(Antioxidants) سے بھرپور ہوتا ہے۔سنگھاڑا دافع بیکٹیریا اور دافع وائرس ہونے کے علاوہ سرطانی خلیات (سیلز) سے بھی مزاحمت کرتا ہے۔سنگھاڑے میں پوٹاشیم،حیاتین ب،ب 6 اور ھ (وٹامنز بی،بی 6 اور ای) نشاستہ (کاربوہائیڈریٹ) مینگنیز،لحمیات (پروٹینز) اور معدنیات (منرلز) جیسے صحت بخش اجزاءپائے جاتے ہیں۔
پوٹاشیم ہائی بلڈ پریشر کو معمول پر لے آتا ہے،اس طرح امراضِ قلب کا خطرہ جاتا رہتا ہے،جب کہ حیاتین ب 6 اچھی نیند کے حصول میں معاونت کرتی ہے اور بے خوابی کی شکایت دور کرتی ہے۔اس کے علاوہ یہ حیاتین مزاج میں خوشگواریت بھی پیدا کرتی ہے۔اس کے علاوہ حیاتین ب اور ھ بالوں کی نشوونما کرتی ہیں،یہی وجہ ہے کہ سنگھاڑا کھانے والے لوگوں کے بال گھنے اور خوش نما ہوتے ہیں۔
سنگھاڑے میں حرارے (کیلوریز) کم ہوتے ہیں،لہٰذا یہ وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔سنگھاڑے کا جوس بھی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔اگر کسی کو متلی کی شکایت ہو تو سنگھاڑے کا جوس پینے سے متلی ختم ہو جاتی ہے۔سنگھاڑا کھانے سے یادداشت اچھی ہو جاتی ہے، اس لئے یہ دماغ کے لئے ایک مفید پھل ہے۔
طب یونانی کی ادویہ میں سنگھاڑا کئی امراض دور کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
ان امراض میں معدے اور آنتوں کے زخم،یرقان، دمہ،پیچش،بار بار حمل کا ضائع ہونا اور مثانے کی تکلیف وغیرہ شامل ہیں۔سنگھاڑے سے آٹا بھی بنایا جاتا ہے۔سنگھاڑے کے آدھی پیالی آٹے میں حیاتین ب 6،پوٹاشیم،آیوڈین،تانبا (کاپر) اور رائبو فلیون بھی پائے جاتے ہیں۔اس آٹے میں نشاستے کی بھی کافی مقدار ہوتی ہے۔یہ جسمانی توانائی میں اضافہ کرتا ہے۔
سنگھاڑے میں گلوٹن (Gluten) اور کولیسٹرول بالکل نہیں ہوتے،اس لئے دل کے مریض اور گلوٹن سے حساسیت رکھنے والے افراد اسے بے خوف و خطر کھا سکتے ہیں۔اگر کوئی فرد کھانسی کی وجہ سے پریشان رہتا ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ سنگھاڑے کو پیس کر اُس کا سفوف بنا لے اور دن میں دو بار پانی سے کھا لے،اُس کی کھانسی جاتی رہے گی۔یہ کھانسی سے نجات حاصل کرنے کا بہترین نسخہ ہے۔
تازہ سنگھاڑا اعضا کی سوزش اور پیاس کی شدت سے بھی نجات دلاتا ہے۔نیز حلق کی خشکی اور کھردرا پن بھی دور کرتا ہے۔اس کے آٹے میں اگر مصری کی زیادہ مقدار ملا کر دودھ سے کھایا جائے تو ضعفِ باہ،جریان اور سیلان الرحم (لیکوریا) کی شکایت جاتی رہتی ہے۔
سنگھاڑا دورانِ خون کو بہتر کرتا ہے۔اس میں موجود چربی میں حل ہونے والی حیاتین ب جلد کے لئے مفید ہے۔
یہ خون کے نئے سرخ خلیات (سیلز) بنانے میں معاونت کرتی ہے،لہٰذا جو افراد خون کی کمی کا شکار ہوں،انھیں چاہیے کہ وہ روزانہ سنگھاڑا کھائیں۔یہ چونکہ مدافعتی قوت میں اضافہ کرنے والا پھل ہے،اس لئے کورونا وائرس کے خلاف یہ ایک ڈھال کا کام کر سکتا ہے۔سنگھاڑا کھانے کے آدھے گھنٹے تک پانی نہیں پینا چاہیے۔ذیابیطس کے مریض اسے تھوڑی مقدار میں کھا سکتے ہیں،اس لئے کہ تازہ سنگھاڑے میں نشاستے کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
بہتر ہو گا کہ ذیابیطس کے مریض اپنے معالج سے مشورہ کرکے سنگھاڑا کھائیں۔
سردیوں کے موسم میں روزانہ سنگھاڑا کھائیے،یہ متعدد امراض سے چھٹکارا دلانے میں ایک لاجواب پھل ہے۔اس کے علاوہ یہ مزے اور ذائقے میں بھی کسی دوسرے پھل سے کم نہیں،لیکن اسے زیادہ مقدار میں کھانے سے احتراز کرنا چاہیے،ورنہ معدے میں درد،ریاح یا قبض کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*