سب کی نظریں جہانگیر ترین پر!!!!!

محمد اکرم چودھری
شہلا رضا کی جہانگیر ترین کے حوالے سے ٹویٹ نے کچھ دیر کیلئے صورت حال دلچسپ ضرور بنائی گوکہ بعد میں جہانگیر خان ترین نے تردید کی اور شہلا رضا نے بھی ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی لیکن اس ساری صورتحال سے قطع نظر سچی بات ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت چاہے گی کہ جہانگیر ترین اس کا حصہ ہوں، تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت جہانگیر ترین کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کب خان صاحب کا موڈ بدلے، سوچ میں تبدیلی آئے اور وہ کوئی مختلف سیاسی فیصلہ کریں تو ملکی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو۔ چونکہ وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر خان ترین میں تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ کبھی یہ دونوں دو قالب ایک جان سمجھے جاتے تھے لیکن عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد دوستی زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکی۔ بہرحال احترام کا رشتہ دونوں طرف قائم ہے۔ چند روز قبل جب جہانگیر خان ترین سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا تھا کہ ہر قسم کے تعلق کی بنیاد باہمی احترام ہے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے دوستی اور تعلقات کی خرابی پر بھی بات کی تھی وہ آج بھی تحریکِ انصاف کے ساتھ ہیں۔ پیپلز پارٹی کی رہنما اور سندھ کی وزیر برائے وومن ڈیویلپمنٹ شہلا رضا نے ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ جہانگیر ترین پاکستان تحریکِ انصاف کو چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا جہانگیر ترین نے مخدوم احمد محمود سے ملاقات کی ہے اور وہ آئندہ ہفتے سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے۔انہوں نے کہا جہانگیر ترین سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں تحریکِ انصاف چھوڑنے اور ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔ اگر واقعی ایسا ہو گیا تو نہ بزدار رہے گا نہ نیازی ہو گا۔
جہانگیر ترین کی تردید سے افواہیں دم توڑ گئیں میں نے بھی ان سے فون کر کے پوچھا کہ خان صاحب یہ کیا خبریں چل رہی ہیں تو ان کا جواب یہی تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، جہاں تھا وہیں ہوں، نہ کہیں آ رہا ہوں نہ کہیں جا رہا ہوں۔ سیاسی معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ بہرحال شہلا رضا نے غیر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔ سیاسی لوگ ملتے رہتے ہیں۔ مخدوم احمد محمود سے جہانگیر خان ترین کا تعلق صرف سیاسی نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی خواہش کو یا پیپلز پارٹی کی خواہش کو خبر بنایا، انہوں نے ایک تجربہ کار سیاستدان کے بجائے ایک ناتجربہ کار یوٹیوبر کی طرح ردعمل دے کر خود بھی شرمندہ ہوئی ہیں اپنے ساتھ دیگر لوگوں کے لیے بھی مسائل پیدا کئے ہیں۔ رہی بات جہانگیر خان ترین کی تو وہ سب کے پسندیدہ سیاست دان ہیں تعلقات قائم کرنے اور سیاسی لوگوں کے ساتھ بات چیت میں مہارت رکھتے ہیں۔
سیاسی ضرورتوں سے واقف ہیں، لوگوں کو قائل کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آج تحریکِ انصاف حکومت میں ہے تو اس میں جے کے ٹی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی حالات ہر مرتبہ ایک جیسے نہیں ہوتے لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ وہ گیم چینجر ضرور ہیں۔ اب موجودہ حالات ایسے ہیں کہ وہ کسی سے بھی ملیں تو ناصرف خبر بنتی ہے بلکہ قومی سطح کی بحث بھی شروع ہوتی ہے۔ سو شہلا رضا کی ٹویٹ سے بھی بحث شروع ضرور ہوئی کیا ہی اچھا ہوتا کہ جہانگیر خان ترین اس کی تردید کچھ وقت کے بعد کرتے تاکہ اندازوں، خواہشات اور ذرائع سے دلچسپ خبریں تو سامنے آتی رہتیں بہرحال خان صاحب کی تردید نے شہلا رضا کو بھی ٹویٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور کر دیا۔ ثابت ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی خواہش تو رکھتی ہے کہ جہانگیر ترین انہیں سہارا دینے پہنچ جائیں کیونکہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے حصے بخرے ہونے کے بعد پی پی پی کو بھی سیاسی طور پر کچھ غیر معمولی کرنے کی ضرورت تو محسوس ہو رہی ہے۔ نون لیگ بھلے اظہار نہ کرے لیکن چاہتے وہ بھی یہی ہیں کہ کسی طرح جہانگیر ترین ان کے ساتھی بن جائیں۔
فی الحال تو اس کے امکانات نظر نہیں آتے لیکن ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔ اچھا سیاست دان وقت اور حالات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ جہانگیر ترین کا شمار نمایاں سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ وہ اچھے فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اب اس وقت ان کے تحریک انصاف کے ساتھ تعلقات کو دیکھتے ہوئے ایسی خبروں کو روکا نہیں جا سکتا، یہ خبریں آتی رہیں گی۔ صاحب غیر سیاسی ملاقات بھی کریں گے تو اسے سیاسی ملاقات کا رنگ دے دیا جائے گا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کو یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ اس نے اپنے محسنوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔ چینی سکینڈل کے معاملے میں جہانگیر ترین کا موقف واضح ہے۔ اس سلسلہ میں تحقیقات میرٹ پر ہونی چاہییں، تحقیقات میں ماہر اور پیشہ ور افراد کو شامل کیا جائے تاکہ کیس منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ جن پر الزام ہے انہیں بھی قانون کے مطابق بھرپور موقع ملنا چاہیے اور جنہوں نے مقدمہ اٹھایا ہے انہیں ثابت کرنے کا بھرپور موقع ملنا چاہیے۔
ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر سید یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں کہ میں کسی عہدیںکا خواہشمند نہیں تھا، میرے عہدے اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کیلئے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی حمایت حاصل کرنے کا فیصلہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا تھا۔ شاہ جی کہتے ہیں بلوچستان عوامی پارٹی کے چار ارکان نے بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ کیا تھا۔
یوسف رضا گیلانی نے نہایت محتاط گفتگو کرتے ہوئے گیند بلاول بھٹو زرداری کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ انہوں نے کسی بھی قسم کی متنازعہ گفتگو سے گریز کرتے ہوئے سیاسی انداز میں جوابات دیے ہیں۔
یہی سیاست دان کا فن ہے کیونکہ وہ جانتا ہے سوال وہی ہو گا جس کا وہ جواب نہیں دینا چاہتا ان حالات میں سید یوسف رضا گیلانی نے خود کو اپنی جماعت کا بے لوث کارکن ثابت کر دیا ہے کیونکہ نہ تو سینیٹ الیکشن انہوں نے اپنی مرضی یا خواہش سے لڑا نہ کسی اور عہدے کی خواہش کا اظہار کیا بلکہ انہوں نے وہ کیا جو بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا۔ ان کی یہ گفتگو ثابت کرتی ہے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ سمجھداری سے بات چیت کر رہے ہیں۔ سیاست دانوں کو اندرونی معاملات میں محتاط گفتگو ہی کرنی چاہیے کیونکہ اس کا اختیار ان کے پاس ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت تنازعات میں الجھنا چاہتے ہیں یا پھر تنازعات سے نکل کر معاملات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*