رسول اکرمﷺ سے محبت ہمارے ایمان کاحصہ ہے ،عمران خان

Prime Minister of Pakistan Imran Khan

ملتان(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب کے محروم طبقے کو جس طرح اوپر لایا جارہاہے ایسا پنجاب کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا،رسول اکرمﷺ سے محبت ہمارے ایمان کاحصہ ہے ، ہمارے اور ٹی ایل پی کا مقصد ایک ہی ہے ، طریقہ کار میں فرق ہے،ہم ہر اسلامی ملک سے بات کریںگے اورسب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں گے ، ملک پیسہ لوٹنے والے لندن کے مہنگے ترین علاقوں میں ہیں، ایسے علاقے میںجہاں برطانوی وزیراعظم بھی گھر نہیں بناسکتا ،قانون اس اشرافیہ کے سامنے بے بس ہے، پاکستان میں ایسا طبقاتی نظام ہے جس میں نیچے سے کوئی اوپر آہی نہیں سکتا،طاقتور افراد نے ترقیاتی وسائل بھی اپنے علاقوں کی طرف موڑ لیے،جو علاقے مراکز سے دور تھے وہ پیچھے رہ گئے اوران میں جنوبی پنجاب بھی شامل ہے،جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی شروعات ہوچکی ہے اور انشاءاللہ الگ صوبہ بھی ضرور بنے گا،ہم نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ملتان کا سنگ بنیاد رکھاہے،اگلے مرحلے میں ہم اس حوالے سے آئینی ترمیم بھی منظور کروائیں گے، جلد بہاولپور کا بھی دورہ کروں گا اوروہاں بھی سیکرٹریٹ کا سنگ بنیاد رکھوں گا۔وہ پیر کو سرکٹ ہاﺅس ملتان میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ اورملتان کےلئے30ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پروزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدار،وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی اور وفاقی و صوبائی وزراءو اراکین قو می وصوبائی اسمبلی کی بڑی تعدادبھی موجودتھی۔وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ میں 15سال سے جنوبی پنجاب میں سفر کررہا ہوں،پارٹی کی تشکیل اور مہم کے دوران مجھے بارہا ان علاقوں میں آناپڑا اور میں نے یہاں کی محرومیوں کوقریب سے دیکھا،انتخابات میں کامیابی کے بعد میں نے ایک ایسے شخص کو یہاں کی وزارت اعلیٰ کےلئے منتخب کیا جو اس خطے کے پسماندہ ترین علاقے سے تعلق رکھتا ہے اور لوگوں کے دکھوں کو سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلی عثمان بزدار کے بارے میں یہ تواتر کے ساتھ کہا گیا کہ وہ اہلیت نہیں رکھتے لیکن کسی نے آج تک یہ نہیں پوچھا کہ ڈھائی سال پہلے جو یہاں حکمران تھے ان کی کیا کارکردگی تھی۔انہوں نے بھلا اس صوبے کے عوام کے لیے کیاکیا،اہلیت یہ ہوتی ہے کہ کس نے کمزور اور غریب لوگوں کی مددکی،اہلیت یہ نہیں ہوتی کہ کس نے اربوں روپے اپنی ذاتی تشہیر پر خرچ کردیئے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا سب کچھ تھا،میرا پوری دنیا میں نام تھا،میں کوئی کام نہ بھی کرتا تو بڑی سہولت سے زندگی گزارسکتاتھا لیکن میں نے یہ دیکھا کہ پاکستان میں ایک چھوٹے سے طبقے نے ملکی وسائل پر قبضہ کررکھا ہے، ان کے لیے قوانین اور ہیں،ان کا احتساب نہیں ہوتا،وہ عوامی وسائل کو لوٹتے ہیں اور ان کی ڈیل ہوجاتی ہے،عوام کے لیے قانون الگ اور اشرافیہ کے لیے اور ہے،اشرافیہ این آراوکرتی ہے اور باہر چلی جاتی ہے،وہ چوری کرکے جاتے ہیں اور پھرواپس آجاتے ہیں۔ان کے بیرون ملک محلات ہیں۔ان کے محلات لندن کے مہنگے ترین علاقوں میں ہیں۔ ایسے علاقے میںجہاں برطانوی وزیراعظم بھی گھر نہیں بناسکتا لیکن قانون اس اشرافیہ کے سامنے بے بس ہے۔ان لوگوں نے طبقاتی تفریق پیدا کررکھی ہے۔ان کے لیے انگلش میڈیم اورباقی عوام کے لیے اردو میڈیم سکول اورمدرسے ہیں۔اسی طرح نوکریاں بھی ان کے لیے ہیں۔ پاکستان میں ایسا طبقاتی نظام ہے جس میں نیچے سے کوئی اوپر آہی نہیں سکتا۔طاقتور افراد نے ترقیاتی وسائل بھی اپنے علاقوں کی طرف موڑ لیے۔جو علاقے مراکز سے دور تھے وہ پیچھے رہ گئے اوران میں جنوبی پنجاب بھی شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ سردار عثمان بزدار کو وزیراعلی بنانے کا مقصد یہ تھا کہ میں وہ پنجاب چاہتاہوں جہاں پیچھے رہ جانے والے علاقے بھی اوپرآئیں، میں ایسے شخص کو وزیراعلی بناناچاہتا تھا جس کے دل میں غریبوں کے لیے درد ہوجس کا جینا مرنا پاکستان میں ہو۔جس کی سیاست پاکستان میں ہو اور جو سرمایہ کاری باہر نہ کرتاہو۔انہوں نے کہاکہ پانچ سال بعد آپ دیکھیں گے کہ پنجاب کے محروم طبقے کو جس طرح اوپر لایا جارہاہے ایسا پنجاب کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ پنجاب میں ہیلتھ کارڈ کا اجرا ہوچکا ہے اور آج یہاں سے کسان کارڈ کا اجرابھی ہوگیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ جنوبی پنجاب اس لیے پیچھے رہ گیا کہ اسے اس کا حق نہیں دیاگیا،پنجاب کی 33فیصد آبادی کے لیے 17فیصد بجٹ مختص کیاگیا۔پچھلے سات سال کے دوران اس علاقے کے لیے مختص کےے گئے 260ارب روپے بھی دوسرے علاقوں میں خرچ کردیئے گئے۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ 33فیصد آبادی کو اس کے مطابق وسائل ملیں گے اوریہاں کے لوگوں کو آبادی کے مطابق ملازمتوں میں کوٹہ بھی دیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ سیکرٹریٹ ایک آ غاز ہے اور اب الگ صوبہ بھی بنے گا۔وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ دنوںفرانس کے حوالے سے پاکستان میں ایک جماعت نے جس طرح احتجاج کیا اورکنپٹی پر بندوق رکھ کر فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے کامطالبہ کیا میں اس مسئلے پر بھی بات کرناچاہتاہوں۔انہوں نے کہاکہ رسول اکرم سے محبت ہمارے ایمان کاحصہ ہے لیکن ہمارے اور ٹی ایل پی کے طریقہ کار میں فرق ہے۔ ٹی ایل پی کاطریقہ کاریہ ہے کہ اسلام آباد پرہلہ بول دو اورتوڑ پھوڑ کرو لیکن کیا ہم اس سے ان ممالک کو روک سکیں گے جو ہماری دل آزاری کرتے ہیں،مقصد ہمارا ایک ہی ہے۔میرا طریقہ کارمختلف ہے۔میں ثابت کروں گا کہ میرا طریقہ کار درست تھا اورو ہ کامیاب بھی ہوگا۔ہم ہر اسلامی ملک سے بات کریںگے اورسب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں گے تاکہ ایسی صورتحال میںاجتماعی لائحہ عمل اختیار کیا جاسکے۔وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ میں آخر میںجنوبی پنجاب کی عوام ،وزیراعلی پنجاب اوران کی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آج ہم اس خطے میں ایک نئی شروعات کررہے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*