تازہ ترین

راہِ حق

ریاض احمد جسٹس
یہ قدیم زمانے کی بات ہے کسی ملک میں ایک بادشاہ ہوتا تھا۔اس بادشاہ کا شاہی محل بہت پرانا ہو چکا تھا اور وہ نیا محل بنانے کی فکر میں دن رات پریشان رہنے لگا تھا۔ایک دن وزیر نے موقع دیکھ کر کہا بادشاہ سلامت کیا میں آپ سے پریشان رہنے کی وجہ معلوم کر سکتا ہوں؟ بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ آپ تو جانتے ہی ہیں یہ محل ہمارے بزرگوں نے بنایا تھا اس کی خستہ حالت دیکھ کر ہمیں کچھ خوف سا محسوس ہونے لگا ہے۔
شائد اب یہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔ہمارا خیال ہے کہ اسے گرا کر اسی جگہ پر نیا محل تعمیر کروایا جائے۔وزیر نے بادشاہ کی بات غور سے سن کر جواب دیا کہ بادشاہ سلامت ہمیں اس محل کو گرانے کی کیا ضرورت ہے ہم کسی دوسری جگہ پر بھی تو نیا محل بنوا سکتے ہیں پھر آپ کی یہ بزرگوں کی نشانی بھی اپنی جگہ محفوظ رہے گی۔
بادشاہ وزیر کی بات سن کر خوش ہو گیا۔
اگلے دن بادشاہ نے ایوان میں اپنے سبھی مشیروں اور وزیروں سے مشاورت کی جہاں سب نے بادشاہ کی بات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا عالی جاہ!یہ آپ کا حق ہے نیا محل ضرور بننا چاہیے۔پھر بادشاہ نے کہا کہ پورے ملک میں اعلان عام کر دیا جائے جو شخص بادشاہ کے شاہی محل کا خوبصورت نقشہ کم از کم مدت میں تیار کرے گا اور اگر بادشاہ کو اس کا بنایا ہوا نقشہ پسند آگیا تو پھر اسے بادشاہ اپنا خاندانی شاہی گھوڑا انعام میں دے گے۔
یہ انعام دولت حاصل کرنے سے کئی گنا زیادہ تھا۔سومنادی کے اعلان کرنے کے باوجود کوئی ایسا آدمی سامنے نہیں آیا جو بادشاہ کی بتائی ہوئی شرط پر پورا اتر سکے۔اس طرح وقت گزرتا رہا۔
بادشاہ کی خواہش اب حسرت میں بدلنے لگی تھی۔پھر ایک دن وزیر نے بادشاہ کو بتایا کہ بادشاہ سلامت ایک شخص ایسا ہے جو آپ کی بتائی ہوئی شرط پر پورا اتر سکتا ہے لیکن وہ اس وقت کسی بڑے تاجر کے پاس غلام بن کر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہے۔بادشاہ کے لئے ایک غلام خرید کر آزاد کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔
بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ تاجر کو اس غلام کی منہ مانگی قیمت ادا کی جائے پھر غلام کو آزاد کروانے کے بعد اسے شاہی لباس پہنا کر عزت کے ساتھ ہمارے سامنے حاضر کیا جائے۔بادشاہ کے حکم کے مطابق وزیر اس تاجر کے پاس چلا گیا لیکن تاجر نے اپنا غلام آزاد کرنے سے انکار کر دیا۔
جبکہ وزیر نے تاجر سے کہا”اس غلام کے بدلے میں آپ اور غلام بھی لے سکتے ہیں یا پھر منہ مانگی قیمت حاصل کرنا آپ کا حق ہے“لیکن تاجر نہ مانا۔
بادشاہ وزیر کے واپس لوٹنے کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔وزیر نے حاضر ہو کر بادشاہ کو بتایا کہ بادشاہ سلامت تاجر اپنا غلام کسی بھی قیمت پر آزاد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
وزیر کی بات مکمل ہوتے ہی دربار میں ہلچل مچ گئی۔بادشاہ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور دربار میں موجود ایک وزیر بادشاہ سے کہنے لگا عالی جاہ!تاجر کی نافرمانی کی سزا تجویز کی جائے۔دوسرے وزیر نے کہا جو شخص بادشاہ کی نافرمانی کرے اسے اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔
تیسرے وزیر نے کہا جو شخص بادشاہ کا ادب و احترام نہیں کرتا اسے تو زندان میں ڈال دینا چاہیے۔
پھر وزیر خاص نے بادشاہ سے اجازت طلب کرنے کے بعد کہا کہ میں بھی کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔بادشاہ نے اسے بولنے کی اجازت دی تو اس نے کہا”عالی جاہ!ملک میں اچھے سے اچھا کام کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
بس انہیں ڈھونڈنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔اگر ایک شخص اپنا غلام آزاد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو کیا ہوا اس سے نہ تو آپ کی شان میں کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی تاجر کا مرتبہ بلند ہو گا۔ ہمیں کسی بھی اجنبی کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے پہلے ایک بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے جیسا کہ ہمارے پیارے نبی کریم کا ارشاد ہے:”ہمیں دوستی کا آغاز تحفہ دینے سے کرنا چاہیے،اس سے محبت بڑھتی ہے اور دوسرے فریق کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ تحفہ قبول کرے“۔
بادشاہ وزیر خاص کی بات سن کر خوش ہو گیا۔اس نے کہا کہ آج وزیر خاص نے ہمیں بہت بڑی غلطی کرنے سے بچا لیا ہے۔ ورنہ ہم ضرور کچھ غلط کر بیٹھتے۔انسان کا رویہ ہی اس کی اصل پہچان ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*