راشن

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
افطاری کے بعد روزانہ کے معمول کی طرح میں لیٹ گیا تھا دن بھر کی پیاس بھوک کے بعد جب معدے میں ٹھنڈے مزے دارمشروب کے ساتھ فروٹ چاٹ دہی بھلے خستہ کرارے پکوڑے سموسے اُترے تو انہوں نے لذت کے ساتھ توانائی بھی پہنچانی شروع کر دی کمزوی نقاہت نڈھالی خماری سرشاری میںڈھلنے لگی اعصاب عضلات جسمانی اعضا معدے میں توانائی سے بھرپور غذاﺅں سے طاقت پکڑنے لگے لذیذ غزاﺅں نے کام کرنا شروع کیا اور میں ایک خواب ناک سی کیفیت میں مراقباتی حالت طاری ہونے لگی میں نے جسم کو ڈھیلا چھوڑا اور نیند کی وادی میں اُترنے لگا تو اچانک مو بائل کی گھنٹی نے خمار اور نیند سے بوجھل اعصاب کو بیداری کے زون میں دھکیلا۔میں آنے والی کال کو نظر انداز کر کے نیند کا مزا لینے کے موڈ میں تھا لیکن کال کرنے والا اخلاقی اقدار کو مسلسل پامال کر نے کے موڈ میں تھا میں نظر انداز کر رہا تھا وہ مسلسل کال کر رہا تھا آخر مجبور ہو کر میں نے موبائل اٹھا یا تو ایک مخیر دوست کی کال آرہی تھی میں نے کال پک کر لی تو دوست کی زندگی سے بھرپور آواز میری سماعت سے ٹکرائی سر میں آپ کی طرف آرہا ہوں آپ کو اطلاع دے رہا ہوں تاکہ آپ میرے آنے تک تیار رہیں اُس کی بات سن کر مجھے یاد آگیا کہ میں نے اُس سے آج ملنے کا وعدہ کیا ہوا تھا کہ آج وہ اور میں چند ضرورت مند لوگوں کے گھروں میں راشن اور پیسے دینے جائیں گے ساتھ میں اُس نے اپنے گودام میں جو سینکڑوں راشن کے بیگ بنا کر رکھے ہوئے تھے وہ بھی اُس نے مجھے دکھانے تھے اُس کی شدید خواہش تھی میں راشن اپنے ہاتھوں سے بانٹوں لیکن میں نے کہا کہ آپ بانٹ دیں تو وہ بولا آپ صرف ایک بار دیکھ لیں اور اُن ضرورت مندوں کی لسٹ مجھے دے دیں جو حقیقی ضرورت مند ہیں تاکہ اُس کے بندے ان گھروں تک راشن پہنچا آئیں میرا دوست اپنی خوشی کو میرے ساتھ شئیر کرنا چاہتا تھا۔صوفیوں درویشوں کو بہت پسند کر تا تھا ان کی صحبت میں وقت گزارتا تھا پاکستان کے اولیاکرام کے مزارات اور سالانہ عرسوں پر بھی بڑے ذوق شوق سے حاضری دیتا تھا وہ مجھ سیاہ کار گناہ گار عاجز کو بھی درویش سمجھتا تھااِس لیے جب بھی موقع ملتا اپنی بے پناہ عقیدت کا اظہار بھی کر تا مجھے حقیقی ضرورت مند نظر آتا تو اُس کو یہ مدد بھی کر دیتا میں افطاری کے بعد جس خوابناک حالت میں اپنے حجرے میں پڑا تھا کوئی اور ہوتا تو شاید انکار کردیتا لیکن اِس خدمت خلق کے جذبے سے سر شار نیک بندے کو انکار نہ کر سکا اور کہا آجاﺅ میںآپ کے ساتھ ضرور جاﺅں گا اب میں نے گرما گرم کڑک چائے پی تاکہ چست ہو جاﺅں تھوڑی دیر بعد میرا دوست بھی آگیا میں تیار تھا اُس کے ساتھ بیٹھا اور اُس کے گودام کی طرف چل پڑا جہاں اُس کی کا روباری اشیاءاور رمضان میں راشن کے توڑے پڑے ہوتے ہیں لاہور کی سڑکیں تقریبا خالی تھیں ہم آدھ گھنٹے میں ہی اُس کے گودام تک پہنچ گئے گودام کھولا گیا تو دل باغ باغ ہو گیا مختلف قسم کے اناج چینی مشروبات کی بوتلیں کھجور اور آٹے کے بیگوں سے بھرا پڑا تھا اتنی زیادہ مقدا میں راشن دیکھ کر دل خوش ہو گیا اُس کے بندے کیری ڈبوں میںہمارا انتظار کررہے تھے جیسے ہی ہم پہنچے وہ میرے دوست کے بتائے ہوئے ایڈریسوں پر روانہ ہو گئے اتنی زیادہ مقدار میں چینی کی بوریوں کو دیکھ کر میرے پوچھنے پر اُس نے بتایا میں رمضان کے راشن کی تیاری رمضان کی آمد سے تین ماہ پہلے کر دیتا ہوں اِس کام کے لیے میں نے مختلف لوگوں کی خدمات لے رکھی ہیں جو اناج چینی آٹے کھجوروں کا کام کر تے ہیں۔
میں تین ماہ پہلے اُن کو اپنی ڈیمانڈ بتا دیتا ہوں وہ بھی جانتے ہیں کہ میں یہ سامان رمضان میں ضرورت مندوں کے لیے حاصل کر تاہوں اِس لیے وہ بھی تعاون کر تے ہیں کئی تو منافع نہیں لیتے اگر کوئی لیتا ہے تو بہت جائز لیتا ہے دوسری اہم بات اُس نے یہ بتائی کہ یہ راشن جن ضرورت مندوں تک جاتا ہے اُن کو میں نہیں پہنچاتا یہ تو خدا کا مال ہے میں ایک ڈاکئے کی طرح ڈاک ضرورت مند تک پہنچانے کی نوکری کر تا ہوں میں نے چند سال پہلے یہ کام صرف 10راشن بیگوں سے شروع کیا تھا آج یہ اللہ کے خاص فضل و کرم سے ہزاروں میں پہنچ گیا ہے میری کہاں اتنی اوقات کہ کسی کو کچھ دے سکوں جب میں نے کو شش کی تو اللہ نے برکت ڈال دی اپنے دوست کی بات سن کر مجھے حق تعالی کا نظام یاد آگیا کہ پروردگار نے کیا عادلانہ نظام بنایا ہے اگر آپ برائی کا کام کریں تو کائنات کی منفی قوتیں آپ کے ہمرکاب ہو جاتی ہیں اور پھر برائی کرنے والا برائی کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے اور اگر کوئی نیکی اچھائی خدمت خلق کا کام شروع کر ے تو کائنات کی مثبت قوتیں اُس کے ساتھ شامل ہو کر نیکیوں کو کوہ ہمالیہ سے بھی اوپر لے جا تی ہیں۔خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو نیکی کا سفر شروع کرتے ہیں پھر اللہ تعالی ان کو اسطرح قبول کر تا ہے کہ ان کے ایک قطرے کو سمندر میں بدل دیتا ہے آپ کے پا کستان کے تمام مخیر حضرات کا ڈیٹا حاصل کر لیں کس طرں انہوں نے بہت چھوٹے پیمانے پر سخاو ت کاکام شروع کیا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے چند مہینوں سالوں میں وہ کام اِس قدر بڑھا کہ بہت سارے بندے رکھنے پڑے جو لوگ بھی حقیقی باطنی خوشی کی تلاش میں رہتے ہیں اُن کو چیلنج کر تا ہوں کہ آپ خدمت خلق اور سخاوت کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں پھر آپ دیکھیں کس طرح آپ کے باطن سے خوشی سرشاری کے فوارے پھوٹتے ہیں سخاوت اور خدمت خلق بھی ایک نشہ ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے میرے دوست کے گودام میں دعا کر کے اب اُس نے اپنا ڈالا گاڑی راشن کے بیگوں سے بھر لی تو ہم راشن کی تقسیم کے مشن پر نکل پڑے گاڑی چلی تو وہ بولا سر آپ کا ایک بوڑھا مالی ہر سال راشن لینے آتا تھا اِس بار نہیں آیا وہ جب بھی آتا آپ کا سلام دیتا بہت ساری دعائیں دے کر چلا جاتا۔مالی کا نام سن کر مجھے بوڑھا مالی یاد آگیا اُس کے پاس موبائل نہیں تھا اُس کے بھانجے کے پاس تھا میں نے اُس کو فون ملایا اُس نے اٹھا یا تو پوچھنے پر بولا سر ماموں کو فالج ہو گیا ہے وہ چارپائی سے اتر کر چل نہیں سکتے بابے مالی کی بیماری سن کر ہم دونوں کو بہت صدمہ ہوا لہذا فیصلہ کیا بابے مالی کے گھر جا کر راشن دیتے ہیں اب ہم دریا راوی کے اُس پار بابے مالی کے گاﺅں کی طرف جارہے تھے جو راوی کے اُس پار دس کلومیٹر دور گاﺅں میںاپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا جیسے ہی ہم اُس گاﺅں میں داخل ہو ئے لگا سو سال پہلے کے علاقے میںآگئے ہیں گٹر ابل ابل کر راستہ خراب کر چکے تھے مالی کا بھانجہ ہمیں لینے آگیا تھا اُس کو ساتھ بٹھا کر جب ہم اُس تین مرلے کے گھر میں پہنچے جہاں بابا مالی زندہ لاش کی طرح بے حس و حرکت پڑا تھا اُس گھر میں بیس لوگ تھے غربت کا یہ عالم کے دروازوں کی جگہ کپڑے کے پردے لٹک رہے تھے مالی کی بہو بہن بیوہ بھابھی ان کے بچے غربت بے بسی دیواروں سے چھلک رہی تھی ہمیں دیکھ کر مالی کی آنکھیں چمک اٹھیں حرکت کر نے کی کو شش کی لیکن کر نہ سکا گھر کی حالت غربت دیکھ کر میرے دوست نے سارا راشن ادھر اتار دیا جتنے پیسے پاس تھے سب بابے کے سرھانے کے نیچے رکھ دئیے بابے کی آنکھیں آنسوﺅں سے روشن ہو گئیں اور ہماری بھی بھیگ گئیں واپسی پر میرا دوست بھیگی آواز میں بولا اگر آج ہم یہاں نہ آتے تو بہت بڑا گناہ کرتے اور مجھے بابا مالی کی تشکر آمیز آنکھیں اور گھر کے بچوں کے مسکراتے چہرے یاد آگئے جو راشن کو دیکھ کر کھل اُٹھے تھے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*