تازہ ترین

دیکھا نہیں جاتا اب مظلوم کا یہ عالم

امتیاز یٰسین
27اکتوبر1947 روئے زمین پر ظلم و بر بریت،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںاور بے گناہ انسانی قتل عام کی نہ ختم ہونے والی اس خون کی ہولی کھیلنے کے سلسلے کا سیاہ ترین دن ہے جس کا سامنا نہتے کشمیری مرد و خواتین اور بچے چوہتر سال سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔یہ وہ دن جب بھارت نے عالمی قوتوں،منصفوں کے گٹھ جوڑ,منافقانہ رویوں کے سہارے اور ساز باز سے اپنی فوجیں زبردستی جنت نظیر کشمیر پر مذموم غاصبانہ قبضہ کے لئے اتاریں۔ کشمیر قدرتی خوبصورتی کا استعارہ ہے۔مغل شہنشاہ جہانگیر نے جب کشمیر میں پہلی مرتبہ قدم ر نجہ فرمایا تو اس کے غیر معمو لی فطری حسن کو دیکھ کر بے اختیارپکار اٹھا اگر فردوس بروئے زمیں است ہمیں است،ہمیں است ہمیں است۔یعنی اگر روئے زمین پر کہیں کوئی جنت ہے تو یہی ہے یہی ہے یہی ہے۔ہمالیہ قراقرم کے فلک بوس پہاڑوں، بہتی آبشاروں، صدیوں سے برف پوش چوٹیاں،میلوں میل پہاڑ گلیشئر کو اپنے سینے سے لگائے قیمتی پھلوں، پھولوں سے لدے درخت، سر سبز شاداب،وادیاں شور مچاتی ندیاں اس کو لا جواب فطری خوبصورتی سے مالا مال زمینی دلہن بنائے ہوئے ہے۔ لیکن گذشتہ سات دہاہیوں سے بھارت کے جبرو استبداد پر نوحہ کناں اور سلگتی جنت کی تصویر پیش کر رہا ہے۔کشمیر کی جدوجہد کے حوالے سے فروری کا مہینہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اس ماہ میں کشمیر کی آزادی کے سرخیل اور حریت پسندوں کے ہیرو مقبول بھٹ کو بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے حقوق کی پامالی اور ظلم و بر بریت کے خلاف آوازاٹھانے کی پاداش پر انہیں پھانسی دی گئی۔اسی ماہ کشمیری نوجوان افضل گرو کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں بھاری عوام کے احساسات اور جذبات کی تسکین کی خاطرتہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ اس طرح بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے اپنے پوری زندگی کشمیریوں کی آزادی کے لئے اور سیاسی منظر نامہ پر چھائے رہنے والے مرد حر نے بھاری افواج کے تشدد اور قید و بند کی صعوبتوں میں گذار کر راہی ملک عدم ہوئے۔پاکستان 1947سے ہی کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی امداد کرتے چلا آ رہا ہے۔1990سے پانچ فروری اظہار یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن عام تعطیل ہوتی ہے جس کا مطلب عالمی برادری کی توجہ کشمیر کاز پر ظلم و ناانصافی کی طرف مبذول کروانا ہے۔۔کشمیریوں میں احساس پیدا کرنا اور حوصلوں کو جلا بخشناہے کہ پوری پاکستانی قوم اخلاقی و سفارتی طور پرآپکی پشت پر کھڑی ہے۔غیر جانبدار انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس سے بد ترین دہشت گردی کی مثال دنیا بھر سے ملنا مشکل ہے۔یہ دنیا کا سب سے بڑا ملٹرائز ڈخطہ ہے جہاں سات دہاہیوں زائد سے ریاستی طاقت کے استعمال سے بد ترین انسانی ظلم کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔جس سے کشمیر کا نام سنتے ہی حراستی قتل،جنگی نعشیں،ظلم و جبر کے سائے میں گذرتی زندگیاں،نوجوانوں کی قابض فوج کے عقوبت خانوں سے ملتی نعشیں،عصمت دری کی مثالیں،نسل کشی، اجتماعی قبروں کا ہولناک،وحشت ناک تصور سامنے آتا ہے۔کشمیری چاہتے کہ ان کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی اس قرار داد کے مطابق کیا جائے جس میں 1948میں بھارت یہ مسئلہ اقوام متحدہ لیکر گیا اور فیصلہ کشمیریوں کے استصواب رائے پر چھوڑا گیا۔اس وقت بھارتی وزیر اعظم جواہرلعل نہرو نے اس فیصلے کی تائید و تسلیم کیا لیکن بعد میں بھارت اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ایسے کسی فیصلے کو ماننے کو تیار نہیںبلکہ انڈیا، میانمار اور اسرائیل میں یہودی آباد کاری کے طرزپر رائے شماری کے پیش نظر کشمیر میں ہندو انتقال آبادی کے ذریعے ڈیموگرافک تبدیلیاں کر رہا ہے جس سے پاکستان اور کشمیریوں کو شدید تحفظات لاحق ہیں۔پاکستان اور پوری اسلامی برادری کا موقف ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار دیا جائے۔ بھارت اس وقت کشمیر کے 101387مربع کلو میٹر پر قابض ہے۔جبکہ کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا رقبہ 85846مربع کلو میٹر ہے۔مقبوضہ کشمیر میں 27اکتوبر 1947سے جب بھاری افواج نے بزور بازو ناجائز قبضہ کیا اس وقت سے لیکر آج تک چوہتر سال گذرنے کے باجود آزادی کی آواز میں کمی واقع نہیں ہوئی،شہادتیں،بے چینی، مظاہرے اور احتجاج اس بات کے غماز ہیں کہ وہ ہندو تسلط کو مسترد کر کے حقِ خود ارادیت چاہتے ہیں۔قانون آزادی ہند کے مطابق مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ شمار ہوتے ہیں۔اس کے باوجودکشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو تقسیم ہند کے وقت سامراجی برطانیہ کی بد نیتی اور ہندو نواز جھکاو? پر ساز باز ہو کر ان کے بنیادی حقِ آزادی پر شب خون مار دیاگیاجغرافیائی اعتبار سے بھی کشمیر سے جنوب سے مغرب کی جانب 1500کلو میٹر کی حد پاکستان کے ساتھ ملتی ہے۔ عالمی برادری کے غالب حلقے اور دنیا کے منصف نہتے کشمیریوں کی منظم نسل کشی سے اگاہ ہونے کے باجود مسلسل چشم پوشی،تجاہل عارفانہ اور اعراض برت رہے ہیں،نہ عالمی عدالتیں انڈین فوج کے اسلحہ بارود کی بو سونگھ رہی ہیںَ1947سے لیکر آج تک پانچ لاکھ کشمیری اپنی زندگیوں کا نذرانہ دے چکے۔ریاستی دہشت گردی میں ایک کروڑ سے زائد کشمیریوں کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں۔آزادی مانگنے والوں پر طاقت کا ستعمال کیا جا ریا ہے ۔انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے مطابق1989سے لے کر اب تک ہندوستانی فوج کی پرتشدد انسانیت سوز کاروائیوں میں ایک لاکھ کشمیری شہید ہو چکے۔143185افراد حراست میں لیکر حراساں کئے گئے۔8000افراد زیر حراست شہیدکئے گئے۔ خواتین کی اجتماعی آبروریزی اور عصمت دری کے 110042 واقعات سامنے آئے۔ 103043 افراد بے گھر ہوئے۔10000افراد لا پتہ ہوئے۔ پیلٹ گنوں سے آنکھوں کی بینائی جانے اور زندہ نعشیں بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے مطابق کشمیری قیدیوں کے ساتھ بد ترین غیر انسانی سلوک میں برقی کرنٹ لگنا،جنسی تشدد تشدد بھوکے رکھنا،غیر متوازن خوراک کی فراہمی قابل ذکر ہیں۔
کشمیر میں انڈین فوج کو جدید اسلحہ کے ساتھ لا محدود فری ہینڈ اختیارات سونپنے کے باعث مکینوں کے جان و مال عزت محفوظ نہیں،عوام خوف کے سائے میں زندگیاں گذار رہے ہیں،کشمیر جو کھبی ایشیاءکا سویٹرز لینڈ کہلاتا تھا جو آج دنیا کا خطر ناک ترین متنازعہ علاقہ بن چکا۔کشمیری مشکلات کے باوجود جس بہادری سے بھارتی فوج کی رقم کرتی ظلم و بر بریت کا مقابلہ کر رہے وہ قابل تعریف ہے۔ان کے منزل کے حصول کے لئے حوصلے بلند ہیں۔تحریک آزادی کشمیر دنیا کی سب سے بڑی،لمبی،کھٹن جدوجہد ہے جو خونی ندیوں سے عبارت ہے۔ان کی آوازیں دبائی نہیں جا سکتیں۔پاکستان کی انڈیا سے کشمیر کے مسئلے پر تین جنگیں ہو چکیں۔قائد اعظم ؒنے کشمیر کے دورے ر تاریخی جملہ اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے اور اپنی شہہ رگ چھڑانے کے لئے عالمی کردار کی ضرورت ہے۔سیاسیات کے ایک طالب علم ہونے کی حثیت سے راقم کو یہ کہنے میں کوئی باک نہیں دنیاوی رتاریخ ایسے ایشو سے بھری پڑی ہے اور ایسے تنازعات سفارت کی میز کی بجائے جنگی میدانوں میں حل ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ کشمیر کا حل فیصلہ کن میدان کا ر زار میں مضمر ہے۔ اللہ کا شکر ہم ایٹمی پاور ہیں۔ناقابل تسخیر قوت ہیں۔عسکری لحاظ سے دنیا کی دفاعی طور پر مضبوط ترین ممالک کی صف میں کھڑے ہیں،جذبہ شہادت سے سرشاربہادر اقوام اور جری افواج ہمارا اثاثہ وقیمتی متاع ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*