دوسری صدارتی اننگز میں جارحانہ اپیل

تحریر : حفیظ خٹک
کرکٹ میں ٹیسٹ میچوں کے دوران جب ایک ٹیم پہلے بلے بازی کرتی ہوئی آوٹ ہوتی ہے تو پھر دوسری ٹیم کی باری ہوتی ہے اور وہ جب پہلی ٹیم کی باﺅلنگ کا مقابلہ نہیں کرپاتی اور جلد آوٹ ہوکر پوویلین لوٹ جاتی ہے تو ایسی صورتحال میں پہلی ٹیم دوسری بار بلے بازی کیلئے میدان میں اترتی ہے اور اچھی بہت اچھی بیٹنگ کرنے کو شش کرتے ہوئے اک بڑا اسکور بناکر دوسری ٹیم کو میدان میں آنے کا کہتی ہے ، اب دوسری ٹیم جو بیٹنگ کیلئے آتی ہے اس کے سامنے دوراستے ہوتے ہیں ، اول یہ کہ وہ پوری ٹیم آوٹ ہوئے بغیر اپنے ہدف کو حاصل کرئے اور دوسرا راستہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بیٹنگ میں بھلے اپنا ہدف حاصل نہ کرتے ہوئے آوٹ ہوئے بغیر کھیلتی رہے اور وقت کو گذارے۔ اس دوسرے راستے کے نتیجے میں کرکٹ کا ٹیسٹ میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہو جائیگا۔ جسے انگریزی میں ڈرا کہتے ہیں۔اگر کرکٹ کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس نوعیت کے میچز لاتعداد میں سامنے آئیں گے۔ اک ٹیسٹ میچ جو پانچ ایام پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میچ میں بھی تین دنوں کے بعد ایک دن آرام کا ہوتاہے اس طرح سے یہ ٹیسٹ میچ چھ آیام پر محیط ہوا ، اسے دیکھنے کیلئے آنے والوں کی تعداد گو کہ ماضی کی نسبت حال میں کم ہوتی جارہی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں ٹیسٹ میچوں کو ایک روزہ میچوں کی نسبت زیادہ دیکھا اور پسند کیا جاتا تھا۔ زمانہ حال کی بات کی جائے تو صورتحال یکسر بدل گئی تو نہیں ہے تاہم تبدیلی کی جانب گامزن ضرور ہے۔ ٹیسٹ میچوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے، ایک روزہ میچز جو پچاس اووز کے ہوا کرتے تھے اور ہیں ان میں بھی شائقین کم توجہ اور دلچسپی لے رہے ہیں۔ مختصر کرکٹ کا مزاج بڑھتا جارہا ہے اور شائقین کرکٹ اب ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو بہت پسند کرنے لگے ہیں۔ بلے بازوں کو صرف بلے گھماتے اور رنز بانتے ہوئے دیکھتے اور پسند کرتے ہیں اور گیند پھینکنے والوں کو گیندیں ضائع کرتے ہوئے پسند کرتے ہیں۔
کرکٹ کے کھیل کے ساتھ ہی صرف یہ معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ صورتحال قریبا ہر ایک کھیل کے ساتھ جاری ہے۔ کھیلوں میں اب ترجیحات بدلنے کے باعث توجہات بدل رہی ہیںاور اس اقدام کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ان اثرات کو محسوس کرنے والوں کی کمی ہے تاہم یہ نقطہ بارہا ایسے احساسات رکھنے والوں کی جانب سے سامنے آیا اور لایا جاتا رہاہے جوکہ کھیلوں کے میدانوں کو سیاست اور مفادات سے دور رکھیں۔ کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں اور کھیل جو ذہنی و جسمانی نقطہ نظر سے اک موثر ہتھیار ہے اسے فائدہ اٹھانے کے بجائے مفادات کی جانب نہ بڑھایاجائے ، باوجود ایسی کاوشوں کے منفی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور کامیابی کے ساتھ تیزی سے جاری ہیں۔ یہ کہنے اور لکھنے میںگوکہ الفاظ اور وقت کا ضیاع تو ہوگا تاہم حرج نہیں ہوگا کہ کھیل کے میدانوں کو ، کھیل پر جاری تبصروں کو ، ماہرین اور تجزیہ کاروں کو مفادات اور سیاست کے عناصر کو کھیل کے میدان سے دور رکھنا چاہئے ، اگر وہ ایسا کرینگے تو معاشرے پر مثبت اور نہ کرنے پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔۔۔
درج بالا تمام پس منظر امریکی صدارتی انتخاب کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے ، امریکہ میں صدارتی انتخاب اپنی نوعیت کا اک منفرد انتخابی عمل ہے، دو ہی جماعتیں اس عمل میں شریک ہوتی ہیں اور ان دونوں جماعتوں کے صدارتی امیدوار وقت انتخاب سے قبل پردہ اسکرین سے دور ہوتے ہیں اور جب صدارتی امیدوار اپنی مقررہ مدت کو پورا کرتا ہے اور نئے صدارتی انتخاب کا وقت آتا ہے تو اس وقت اک امیدوار سامنے آتا ہے اور بولنا ہی ناچنا بھی وہ امیدوار خوب جانتا ہے اور دونوں کاموں کا عملی مظاہرہ بھی خوب کرتا ہے۔ صدارتی امیدوار انتخابات جیتنے کے بعد اپنی صدارتی مدت پوری کرتا ہے اور پھر ایک جانب کو چلانہیں جاتابلکہ بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ اپنی بقیہ زندگی کو خوب مزے سے گذارتاہے۔ ہر آنے والا امریکی صدر ریاست کے محسوس اداروں کے احکامات کو بجالاتے ہوئے ذمہ دارانہ انداز میں اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے ، جو اسے کہا جاتاہے اسے وہ پورا کرتا چلاجاتا ہے ، کہیں پیچھے ہٹنے اور انکار کرنے کی اسے نہ تو ازخود کوئی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی عمل کرتا ہے کہ جسے پر اسے بعد میں پشیمانی ہو۔ونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مدت پور ی کی اور اب انتخابی عمل تیزی کے ساتھ جاری رہنے کے بعد اب اختتام پذیر ہوچکاہے، ان سے پہلے باراک اوبامہ امریکی صدر تھے ، ان کے پہلے کلنٹن تھے ، سبھی ایک ہی روش پر گامزن تھے ہیں اور رہیں گے۔ اب کے بار انتخاب جوبائیڈن جیتے ہیں یا پھر ٹرمپ دوبارہ جیت کر صدر بنتے ہیں دونوں صورتوں میں یہ اک ٹیسٹ کرکٹ میچ ہے اور اب اس میچ کا آخری روز قریبا شروع ہوچکا ہے۔ صرف امریکی عوام ہی نے نہیں دنیا پھر کی عوام نے بھی دیکھ ہی لیا کہ یہ ٹیسٹ میچ کس انداز میں کھیلا گیا۔
وطن عزیز پاکستان کا وزیر اعظم عمران خان گوکہ ماضی میں اک کامیاب کرکٹر ہونے کے ساتھ ایک کامیاب کپتان بھی رہا اور انہوں نے اسی انداز میں اپنی والدہ کے نام پر کینسر ہسپتال تک قائم کیا ہے بلکہ اسے بہترین انداز میں چلا بھی رہے ہیں۔ صرف وطن عزیز ہی کی عوام کو اس ہسپتال کی کارکردگی پر اطمینان نہیں بلکہ عالمی سطح پر دیگر ممالک کے حکمران اور عوام کو بھی وزیر اعظم کی یہ کارکردگی اعتماد کے ساتھ پسند ہے۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان صاحب ، اس ملک میں کوئی کڑکٹ میچ نہیں ہورہا ہے اور نہ ہی ایک روزہ میچ ، یہاں تو جو بھی میچ ہوتا ہے وہ نتیجہ خیز ہی ہوتا ہے۔ مملکت پاکستان میں جذبات اور احساسات اب بھی ہیں اور یہ احساسات کے ساتھ جذبات صرف اپنے وطن عزیز کیلئے ہی نہیں ہیں بلکہ دنیا بھی کے انسانوں کیلئے ہیں۔انسانی حقوق کی جہاں کہیں بھی خلاف ورزی ہوتی ہے تو دوسو سے زائد دنیا کے ممالک میں سے کہیں بھی کوئی آواز نہ اٹھے ہمارے ملک میں اس ظلم کے خلاف آواز ہی نہیں عملی مظاہروں کی صورت میں احتجاج بھی ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں حقیقی مثالیں بے انتہا ہیں، الحمداللہ وزیراعظم اور صدر پاک وطن ، آپ دونوں کو یہ بات صرف یہ راقم ہی نہیں بلکہ ذی شعور پاکستانی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ آپ سے پہلے جو اس ملک کے صدر اور وزیراعظم تھے انہوں نے قوم کی ایک بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی ، جو کہ برسوں سے امریکی جیلوں میں مقید ہے ، اور نجانے کب تک قید رہتی ہیں، انہیں باعزت انداز میں وطن واپس لانے کا وعدہ سابقہ حکمرانوں نے کیا تھا ، سندھ صوبے کے گورنر ہاﺅس میں بلا کر عافیہ کے بچوں اور والدہ کو یہ کہا تھا کہ صرف نوے روز میں قوم کی بیٹی باعزت رہائی پاکر قوم میں واپس آئینگی۔۔۔ تاہم وہ وعدہ وفا نہ ہوا ، وہ وعدہ پورا نہیں ہوا اور وہ نوئے دن تو کیا اب توکئی سال ہوگئے اور وہ قوم کی بیٹی تاحال اپنی رہائی کی منتظر ہے۔
وزیراعظم اور صدر صاحب ، آپ دونوں سے بھی یہ کہنا ہے کہ امریکی میں صدارتی تماشہ ایک جانب کو اختتام ہوچکا ہے ، جس طرح اوبامہ کی حکومت کے دوران سابق وزیراعظم نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تھا ، اسی طرح موجودہ امریکی صدر بھی اپنی صدارتی مدت پوری کر کے اپنی اننگز کھیل کر پویلین کی جانب جارہے ہیں تاہم وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جس طرح ان کے آنے سے پہلے جیل میں مقید تھیں اسی طرح آج بھی مقید ہیں۔
Dr. Aafia Siddiqui
Dr. Aafia Siddiqui
ان کی کیا کفیات ہیں ، کیا حالات ہیں ؟ اس کا علم نہ ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو ہے ، نہ ہی انکی والدہ عصمت صدیقی کو ، انہ انکی بیٹی مریم کو اور نہ ہی انکے بیٹے احمد کو۔۔۔ ملک کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کی اننگز جاری ہے ، سابقہ اننگز کی کوئی بات نہیں کرتے نہ ہی ذکر کرتے ہیں ۔
اس غیرت مند قوم کے اک فرد کی حیثیت سے یہ راقم ہی نہیں پوری قوم آپ سے یہ اپیل کرتی ہے اور یہ اپیل بھی بالکل اسی طرح کی اپیل ہے کہ جس طرح آپ اک لمبا باﺅلنگ سپیل کرانے کیلئے لمبا اسٹارٹ لیتے تھے اور بال کرنے کے بعد آوٹ ہونے کی اپیل کرتے تھے ، ہاں یہ اپیل بھی کچھ اسی نویت کی اپیل ہے۔ آپ اپنی اننگز کے اختتام سے قبل قوم کی بیٹی کو واپس لانے کیلئے آگے بڑھیں، ڈونلڈ ٹرمپ تو جارہے ہیں ، اب انتخاب کے بعد یہی ٹرمپ دوبارہ آتے ہیں یا نیا صدر، دونوں صورتوں میں آپ کی اننگز جاری ہے اور آپ نے اپنی اننگز میں قوم کی بیٹی کو امریکہ سے آوٹ کرا کر قوم کی پوویلین میں لانا ہے ، آپ کے سامنے قوم کی اپیل آچکی ہے اور اب پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ آپ کس طرح سے اس اپیل پر فیصلہ دیتے ہیں۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*