تازہ ترین

دعوتِ فکر

جمیل اطہر قاضی
کسی بھی زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے‘ عالمی سطح پر قیام امن کیلئے پاکستان کی اہمیت اور کردار مسلمہ ہے۔ مسئلہ کشمیر ہو یا مسئلہ فلسطین‘ عرب ریاستوں کے باہمی تنازعات ہوں یا او آئی سی کو فعال رکھنا‘ پاکستان کا کردار ہمیشہ قائدانہ رہا ہے۔ پاکستان کے اس کردار میں مزید بہتری لانے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کا مل جل کر کام کرنا انتہائی ضروری ہے‘ ایسا نہ ہوا تو بستر مرگ پر پڑی معیشت صحت یاب ہوسکے‘ نہ کشکول ہمارے ہاتھ سے چھوٹ سکے گا کہ یہ کشکول ہی ہے جو عالمی سطح پر ہمارے قومی وقار اور ساکھ کا دشمن بن چکا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو چاہئے کہ وطن عزیز کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے اپنی اپنی ذمہ داریوں کا بھر پور احساس کریں اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کا فائدہ اٹھائیں۔ ایشیاءمیں قیام امن کے راستے میں بڑی رکاﺅٹ مسئلہ کشمیر ہے‘ جو حکمرانوں کی ناقص حکمت عملی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ عوام کا دباﺅ بڑھتا ہے تو میڈیا میں ارباب اختیار کے ایسے بیانات آنے شروع ہو جاتے ہیں‘ جن کا مقصد محض اشک شوئی ہوتاہے۔ چند دن بعد اس بے حسی کا پرنالہ پہلے والی جگہ پر ہوتا ہے۔
دریا¶ں میں پانی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، پنجاب اور سندھ میں پانی کی کمی 18 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد رہ گئی ہے: انڈس ریور سسٹم اتھارٹی
حیرت ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر دولکان بوزکر کے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انکے مبنی بر حقیقت بیان پر کہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ جموں وکشمیر کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے مو?ثر انداز میں اٹھائے‘ بھارت آگ بگولہ ہوگیا۔ بھارت نے عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے صدر کے بیان کے اس حصہ پر کڑی تنقید کی جس میں دولکان بوزکر نے مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کو یکساں نوعیت کے عالمی مسائل قرار دیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کے اس ردعمل کے جواب میں پاکستان کے حکمران اور اپوزیشن رہنماءمسئلہ کی حساسیت کے پیش نظر عالمی ادارے کے دفاع میں بیان دیتے‘ افسوس ایسا نہیں ہوسکا۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے بھارت کی بلاجواز تنقید پر پاکستان کی خاموشی بے حسی کے مترادف ہے۔
ہفتہ رفتہ میں پاکستان کی کوششوں سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے غزہ میں اسرائیلی مظالم اور جنگ بندی کے حوالے سے قرار دادکی منظوری ہونا عالمی امن کے حوالے سے خوش آئند ہے‘ ایسی کامیابیاں پاکستان کی ساکھ اور وقار میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں لازم ہے کہ کسی ایک مسئلہ پر کامیابی سمیٹنے پر اکتفا کے بجائے دیگر عالمی امور پر بھی توجہ مرکوز رکھی جائے۔ مسئلہ فلسطین کے حق میں قرار داد منظور ہونے پر اسرائیل اور امریکہ تنقید کرتے ہیں تو کرتے رہیں‘ پاکستان کو عالمی تنازعات کے پس منظر میں اصولی مو?قف پر ڈٹے رہنا چاہئے اور قیام امن کی کوششوں کو مربوط انداز میں جاری رکھنا چاہئے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ تینوں ایشوز ”مسئلہ کشمیر‘ مسئلہ فلسطین اور افغان امن عمل“ پر ہر قدم نہ صرف سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے بلکہ اس مسائل پر پارلیمنٹ سے رجوع کیا جائے تاکہ قومی یک جہتی کا مظاہرہ ہوسکے۔ درج بالا تینوں مسائل پر کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت وطن عزیز کے عوام کے جذبات کا خیال رکھا جانا ضروری ہے کہ ماضی میں ایسا نہ ہونے پر پاکستان نہ صرف ناقابل تلافی جانی ومالی نقصان برداشت کرچکا ہے بلکہ عوام میں حکمرانوں کے قومی مفادات کے منافی فیصلوں پر زبردست ارتعاش پایا جاتا ہے۔
امریکہ افغانستان سے ذلت آمیز شکست کے بعد اپنی افواج کے انخلا پر تیزی سے عمل پیرا ہوتے ہوئے بھی خطے میں اپنا وجود برقرار رکھنے کی پالیسی پرگامزن ہے۔ حکومت پاکستان لاکھ تردیدکرتی رہے‘ یہ بات زبان زد عام ہے کہ امریکہ نہایت ہوشیاری اور چالاکی سے پاکستان میں زمینی اور فضائی ٹھکانے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ امریکہ کا ازسرنو سہولت کار بنتے وقت ارباب اختیار بھول رہے ہیں کہ خطے میں امریکہ کا وجود نہ صرف پاکستان کے عوام کو اشتعال دلانے کے مترادف ہوگا بلکہ اس اقدام سے پاکستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات کبھی خوش گوار نہیں ہوسکیں گے‘ جن کی مو?ثر حکمت عملی سے امریکہ افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہوا ہے۔ اس میں کوئی دو آرا نہیں کہ امریکہ کا خطے میں قیام انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات کا باعث بنا رہے گا کیونکہ بھارت امریکہ کی آشیر باد سے ایسی کارروائیاں جاری رکھ سکتا ہے جو ہماری قومی سلامتی کے منافی ہوں ایسا ممکن ہی نہیں کہ امریکہ خطے میں موجود رہے اور قیام امن یقینی ہوسکے۔
حالیہ امریکی بجٹ میں پاکستان میں ملٹری ایجوکیشن ٹریننگ‘ اکنامک سپورٹ فنڈ اور منشیات کے تدارک ایسی مدات میں رقوم مختص کیا جانا انہی خدشات کی تقویت کا باعث بن سکتا ہے کہ امریکہ پاکستان میں زمینی فضائی اڈے حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ ارباب اختیار کے اس اقدام کے پاک چین‘ پاک روس اور پاک افغان تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہونگے‘ یہ ایک ایسا انتہائی اہم اور حساس معاملہ ہے جس پر قومی قیادت میں بھرپور مکالمے کی ضرورت ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران اب اس مو?قف سے بھی دست بردار ہوتے نظر آرہے ہیں کہ وہ دوبارہ کسی پرائی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ بطور دوست امریکہ سے تعلقات استوار رکھنا ضروری ہے مگر ان تعلقات کی نوعیت ایسی نہیں ہونی چاہئے جو ہماری قومی سلامتی کے تقاضوں کے سراسرمنافی ہو یا اس پر ہمارے ہمسایہ ممالک بوجوہ ناراضگی کا اظہار کریں۔
حکمران عالمی حالات پر نظر رکھیں خاص طورپر طالبان سے تعلقات کی نوعیت کو پیش نظر رکھا جانا ضروری ہے جو اس وقت افغانستان کی 80 فیصد زمین پر قابض ہیں اور امریکہ جیسی سپر طاقت دوحہ امن معاہدہ میں ان سے کوئی ایسی شرط نہیں منواسکی جو طالبان کے مفادات کے منافی ہو۔ ارباب اختیار کو چاہئے تھا کہ کسی امریکی خواہش کا احترام کرنا بھی تھا تو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امریکہ پر دباﺅ ڈالا جاتا تاکہ یہ دیرینہ تنازعہ حل ہوسکتا ایسا نہ ہونا افسوس ناک ہے کیونکہ دوغلی امریکی پالیسی کے باعث بھارت کشمیر ہڑپ کرچکا ہے اور ہم پھر بھی امریکہ سے دوستی کرنے میں احتیاط سے کام نہیں لے رہے۔ گمبھیر حالات دعوت فکر دے رہے ہیں کہ اس نازک صورتحال پر مشاورت کیلئے حکومت اوراپوزیشن سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایسے فیصلے کریں جو نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے اجتماعی مفادات کیلئے مفید ثابت ہوسکیں۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*