تازہ ترین

خوددار اونٹ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لومڑی نے ایک گاؤں سے بھاگ کر ایک اور گاؤں میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔اس نے بیابان میں ایک بھیڑیے کو دیکھا کہ وہ بھی اسی رستے پر چلا جا رہا تھا۔دونوں کی مڈبھیڑ ہوئی اور انہوں نے ایک دوسرے کو سلام کیا اور اکٹھے چل پڑے۔
انہوں نے ایک دوسرے کا حال چال پوچھنے کے لئے بات چیت کا آغاز کیا۔ معلوم ہوا کہ بھیڑیے کو اس گاؤں کے بھیڑوں کے گلے کے محافظ کتوں سے شکایت پیدا ہو گئی تھی جو اسے بھیڑوں کو ہڑپ کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔بھیڑیا چاہتا تھا کہ اس گاؤں کو بالکل چھوڑ دے اور کسی دور دراز مقام پر جا ٹھکانا کرے۔
وہ دونوں جب تقریباً چار میل آگے نکلے تو انہیں ایک اونٹ دکھائی دیا جو صحرا میں بھٹک رہا تھا۔وہ اونٹ کے نزدیک پہنچے اور اس سے کہا تو تو پالتو جانور ہے اور لوگ تجھے مفت خوراک مہیا کرتے ہیں آخر تو تن تنہا اس صحرا میں کیا کر رہا ہے؟
اونٹ بولا:پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی کسی کو مفت خوراک مہیا نہیں کرتا۔
اگر انسان روزی رساں ہوتے تو پہلے اپنے ہم جنسوں کو فراہم کرتے اور یوں دنیا میں اتنے سارے لوگ بھوکوں نہ مرتے اور یہ جو تم دیکھتے ہو کہ لوگ مجھے خشک گھاس کھانے کو دیتے ہیں تو یہ میری اُون، دودھ،گوشت اور بار برداری کی وجہ سے ہے۔
اگر تم کام کرنے اور بوجھ ڈھونے کے لئے تیار ہوتے تو یہ قلیل خوراک وہ تمہیں بھی دیتے رہی یہ بات کہ میں پالتو جانور ہوں،بالکل ہوں مگر اسی وقت تک جب تک اہل لوگوں کے ساتھ میرا واسطہ ہو جب مجھے بے انصافی اور ظلم کا سامنا کرنا پڑے تو مجھ پر وحشت طاری ہو جاتی ہے۔
کیا تم نے ”شترکینہ“ کا لفظ نہیں سنا۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب لوگ مجھ پر ظلم کرتے ہیں البتہ جب تک میں لوگوں کو انصاف پسند دیکھتا ہوں،میں بھی ایک حلیم طبع اور اپنے کام سے کام رکھنے والا جانور ہوتا ہوں اور اگر ایک چوہا بھی میری رسی کھینچتا ہے تو جہاں لے جانا چاہتا ہے میں اس کے ساتھ چل پڑتا ہوں۔
میں دن رات کام کرتا ہوں۔بھوک پیاس برداشت کرتا ہوں۔بے آب و گیاہ بیابانوں کی خاک چھانتا ہوں،بوجھ اُٹھاتا ہوں اور دم نہیں مارتا۔خیر،اس صحرا میں اس وقت میرے آوارہ پھرنے کی وجہ یہ ہے کہ میرا مالک ناانصاف تھا۔مجھ پر زیادہ بوجھ لادتا،مجھے لاٹھیوں سے پیٹتا اور کبھی آرام کرنے کا موقع نہ دیتا میں بھی وحشی ہو گیا اور میں نے صحرا کا رستہ لیا۔
ہر بات کی حد ہوتی ہے جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو میں کہ ایک اونٹ ہوں اور ہر ایک سے بڑا ہوں آخر اپنے سے چھوٹوں کا ظلم کس لیے برداشت کروں؟
بھیڑیا بولا:یہ کیا بات ہوئی ممکن ہے کوئی ایسا شخص موجود ہو جو تجھ سے چھوٹا ہو مگر اس کی عقل اور شعور تجھ سے بڑھ کر ہو یا وہ ایسے کاموں سے آگاہ ہو جن سے تو واقف نہیں،اُس صورت میں تیرا یہ بھاری بھرکم جسم کس کام کا؟
اونٹ گویا ہوا:یہ بھاری بھرکم جسم اس لئے ہے کہ بھاری بوجھ اٹھائے،اس لئے نہیں کہ دھمکی آمیز باتیں سنے۔
لومڑی بولی:اونٹ سچ کہتا ہے۔اب ان باتوں کو چھوڑیں اور یہ دیکھیں کہ ہمیں کہاں جانا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہمیں فکر کرنی چاہئے کہ آخر ہم دوپہر اور شام کا کھانا کہاں سے لائیں گے؟
بھیڑیا بولا:اس کی فکر نہ کرو۔
کھلا ہوا منہ بے روزی کے نہیں رہتا۔کوئی بھی جگہ ہو،کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے۔لومڑی بولی:”بہت خوب،اب یہ طے کر لیں کہ اس سفر میں ہم باہم مل کر رہیں گے تاکہ بچھڑ نہ جائیں اور بالآخر کسی دوسری آبادی تک پہنچ جائیں“۔
اونٹ ہنسا اور بولا:آبادی،آبادی!مجھے ان جانوروں پر بہت غصہ آتا ہے جو ہمیشہ آبادی،شہر اور اس کی دوسری چیزوں کی فکر میں رہتے ہیں۔
آبادی میں میرے لئے صرف بوجھ ڈھونا ہے اور بس اور تمہارے لئے بھی صرف لاٹھی اور ڈنڈا ہے۔اللہ کی نعمتیں صحرا اور بیابان میں ہیں۔ آبادی میں رہنے والے انسان بھی اپنا نان و آب،لباس اور دیگر ساری چیزیں انہی صحراؤں،پہاڑیوں اور جنگلوں سے حاصل کرتے ہیں۔
آبادی میں کچھ بھی نہیں۔ جو شے بھی ہے صحرا،پہاڑ اور جنگل میں ہے،اللہ کی زمین میں ہے۔تم بھی اگر مرغے کو پکڑنے کی فکر میں نہ ہوتے، بھیڑ کو ہلاک کرکے ہڑپ کر جانے کے پھیر میں نہ ہوتے،اگر صرف چرند ہوتے تو میری طرح آرام سے رہتے،سو مجھے تو آبادی سے کچھ لینا دینا نہیں لیکن خیر اب ہم سفر کا آغاز کرتے ہیں اور چونکہ ابھی تک ہم میں سے کسی نے کسی سے بدی نہیں کی سو ہم اکٹھے سفر کرتے ہیں۔

جب وہ ایک لمبی مسافت طے کر چکے اور ہر موضوع پر بات چیت ہو چکی تو وہ ایک ٹیلے کے کنارے موجود چشمے پر آپہنچے اور چونکہ سب کو پیاس لگی تھی،انہوں نے پانی پینے کا فیصلہ کیا۔وہ جونہی چشمے کے پاس پہنچے،بھیڑیے نے ایک صاف پتھر کے اوپر ایک خشک روٹی دیکھی اور خوشی سے چلایا:یہ لیجیے،میں نے کہا نہ تھا کھلا منہ بے روزی کے نہیں رہتا۔
یہ پانی اور یہ نان!لومڑی اور اونٹ بھی قریب آگئے اور انہوں نے قیام کیا کہ کسی مسافر نے وہاں قیام کیا اور وہ ایک ٹوٹے ہوئے برتن،تھوڑی سی گھاس،راکھ اور اس طرح کی دوسری چیزوں کے علاوہ نان کی ایک ٹکیا بھی وہاں چھوڑ گیا تھا۔
اونٹ بولا:کیا کیجیے،صرف ایک نان ہے اور ہم تین لوگ۔
اگرچہ یہ بہت کم ہے لیکن اس خیال سے کہ کوئی بھی کل تک بھوک سے ہلاک نہ ہو جائے،ہمارے لئے کافی ہے۔
بھیڑیا بولا:اس نان پر میرا حق ہے کیونکہ سب سے پہلے میں نے اسے دیکھا۔
لومڑی بولی:یہ کیا بات ہوئی:پہلے ہی مرحلے پر حیلہ گری اور درشتی مناسب نہیں۔
بہتر ہے کہ ہم اس نان کے تین حصے کر لیں۔اگر سچ پوچھو تو یہ نان مجھے کھانا چاہیے کیونکہ اونٹ صحرا میں گھاس کھا سکتا ہے۔بھیڑیے کو بھی شکار کرنا چاہیے۔میں سب سے زیادہ اس کی مستحق ہوں لیکن اب چونکہ ہم ایک دوسرے کے دوست بن چکے،یہی بہتر ہے کہ اس کے تین حصے کر لیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*