خطے میں امن کے خو اہاں ہیں

پاکستان کے وزیر خا رجہ شا ہ محمو د قر یشی نے ایک پریس کا نفر نس سے خطاب کر تے ہوئے اس عزم کااظہا ر کیا ہے کہ خطے میں امن کے خو اہاں ہیں کیو نکہ امن آئے گا تو معیشت بہتر ہونا شر وع ہو گی اس طرح ہما رے لیے اقتصا دی مو ا قع پید ا ہوں گے تما م فر یقین مل کر آپس میں افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کریں قیام امن کیلئے پاکستان ہمیشہ مصا لحا فہ کر دا ر ادا کرتا رہے گا بیر ون ملک مقیم پاکستانی ہما ر ا بہت بڑ ا اثا ثہ ہیں پہلے مر حلے میں طبی عملے کو ویکسی نیشن کے ذر یعے محفو ظ بنا رہے ہیں اس کے بعد مر حلہ وا ر با قی لو گوں کو بھی لگائی جائے گی میر ی ہندوستان کے وزیر خارجہ سے کوئی ملا قا ت طے نہیں ہے ہندوستان سمیت تما م ہمسا یو ں کے سا تھ پر امن رہنے کے حا می ہیں پاکستا ن کبھی مذ ا کر ات سے نہیں بھا گا اگر ہندوستان 5 اگست کے اقد اما ت پر نظر ثا نی کر ے تو ہم با ت چیت کے لیے تیا ر ہیں۔
پاکستان کے وزیر خا رجہ شا ہ محمو د قر یشی کی مذکو رہ بیان میں خطے میں امن کی خا طر ہندوستان سمیت تما م ہمسا یہ مما لک سے بہتر ین تعلقا ت کا اظہا ر بلا شبہ قا بل تعر یف اقدا م ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ہندوستا ن سے مذاکر ات کے حوالے سے کبھی نہیں بھا گا ہے اس نے ہمیشہ اس سلسلے میں پہل کی ہے لیکن ہندوستان نے اس سے راہ فر ار اختیا ر کی جس سے یہ اند ازہ بخو بی لگا یا جا سکتا ہے کہ ہندوستان خطے میں امن کا خو اہاں نہیں ہے جو کہ نہ صر ف اس کے بلکہ پورے خطے کے مفا د میں نہیں ہے جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے تو پاکستان نے ہمیشہ اس معا ملے کومذا کر ات کے ذ ر یعے حل کرنے کی با ر ہا کو شش کی لیکن ہندوستا ن نے اس پر کوئی عمل در آمد نہیں کیا بلکہ اس نے مقبو ضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبد یل کر کے رکھ دیا جو کہ قا بل مذمت اقد ام ہے ہندوستان کو پاکستان کی مذاکر ات کی پیشکش قبو ل کر تے ہوئے 5 اگست کے اقد اما ت پر نظر ثانی کرنی چا ہیئے اس طر ح پاکستان اس سے با ت چیت کر ے گا جو کہ دونوں ممالک اور خطے کے بہتر ین مفا د میں ہے۔
افغا نستان کا مستقبل فیصلہ بھی وقت کی اہم ضرور ت ہے اس لیے تما م فر یقین کو اس سلسلے میں اپنا مصا لحانہ کر دا ر ادا کرنا چا ہیئے کیو نکہ جب تک ایسا نہیں ہو تا اس وقت تک افغا نستان میں بھی امن کا قا ئم ہونا مشکل ہے ۔
ملک میں کو رونا وا ئر س کے بڑھتے ہوئے کیسو ں کوکنٹر ول کرنے کے لیے حکومت کو ویکسی نیشن کے عمل کو تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے کیو نکہ ویکسی نیشن کے ہو تے ہوئے کو رونا وا ئر س کے کیسو ں میں تیز ی سے اضا فہ قا بل تشو یش با ت ہے جس سے بڑے پیما نے پر جانی نقصان ہو سکتا ہے ۔
اس لیے حکومت کو اس سلسلے میں اپنے اقد اما ت میں تیز ی لانی چاہیئے اس کے سا تھ سا تھ عو ام کو بھی اس سلسلے میں حکومت اور دیگر متعلقہ ادا روں کو بھی اپنا اہم کر دا ر ادا کرنا چا ہیئے جو کہ بہت ہی اہم ہیں ایسا کرنے سے ہی کو رونا کیسز کی تعد اد میں کمی لائی جا سکتی ہے اس لیے تما م سٹیک ہو لڈر ز کو اس معا ملے کو سنجید ہ لینا چا ہیئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*