تازہ ترین

حکومت بلوچستان کی اپو ز یشن ارکان کیخلا ف ایف آئی آر وا پس

بلوچستان اسمبلی میں اپو ز یشن ار کان کے خلا ف حکومت بلوچستان نے ایف آئی آر وا پس لے لی ہے جس کے بعد گذشتہ 14 رو ز سے گر فتا ری کے لیے بطو ر احتجا ج بجلی رو ڈ تھا نے میں بیٹھے 17 ارکان نے تھا نے سے دھر نا ختم کر دیا بلوچستان اسمبلی میں قا ئد حز ب اختلا ف ملک سکند ر ایڈ وکیٹ نے اس مو قع پر اپنے ایک بیا ن میں وا ضح کیا ہے کہ ہم تھا نے سے اپنا احتجا ج ختم کر کے جا رہے ہیں تاہم جا م حکومت کیخلا ف اپنا بھر پو ر احتجا ج ریکا رڈ کریں گے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا ئے گا اپو ز یشن ارکان نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کیخلا ف مقد مہ وا پس نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
بجلی رو ڈ تھا نے میں گذشتہ 14 رو ز سے احتجا جاً بیٹھے ہوئے 17 اپو ز یشن ار اکین اسمبلی کیخلا ف حکومت بلوچستان کی جا نب سے در ج ایف آئی آر وا پس لینے کے فیصلہ بلا شبہ خو ش آئند ہے کیونکہ 18 جون کو بلوچستان اسمبلی میں بجٹ کے مو قع پر جو ہنگا مہ آر ا ئی ہوئی تھی اور جس کے خلا ف حکومت نے 17 اپو ز یشن ار اکین اسمبلی کیخلا ف ایف آئی آر در ج کی تھی جس کے جو اب میں اپو ز یشن نے بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کیخلا ف ایف آئی آر در ج کر ائی تھی اب حکومت نے تو ایف آئی آر وا پس لے لی جبکہ دوسر ی جا نب اپو ز یشن نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کیخلا ف در ج ایف آئی آر وا پس نہ لینے کا اعلان کیا ہے جو یقینا اچھا اقد ام نہیں ہے اس سے اپو ز یشن کی نیت میں خر ابی نظر آرہی ہے اس کو بھی حکومت بلوچستان کے اقد ام پر ایف آئی آر وا پس لینی چا ہیئے تھی جہاں تک اس سلسلے میں اپو ز یشن کا آئند ہ کے لائحہ عمل کا اعلان صو بائی حکومت کے خلا ف احتجا ج جا ری رکھنے کی با ت کی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ احتجا ج کرنا اپو زیشن کا حق ہے لیکن اس کو ایسے احتجا ج نہیں کرنا چا ہیئے جوکہ رو ایا ت کے خلا ف ہو اپو ز یشن کا مو جو دہ طر یقہ احتجا ج صحیح نہیں تھا اگر ان کو کوئی مسئلہ در پیش تھا تو ان کو اسمبلی میں بیٹھ کر اس پر با ت کرنی چا ہیئے تھی اپو ز یشن نے بجٹ میں اپنے حلقوں کو نظر اند از کرنے کی با ت کر تے ہوئے بجٹ اجلا س کے مو قع پر احتجا ج اور ہنگا مہ آرائی کی تھی اس دو ران وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان پر جوتا بھی پھینکا گیا تھااپو ز یشن ار ا کین نے اسمبلی کے گیٹ کو تالا لگا دیا تھا جس کو بعد میں پو لیس کی بکتر بند گا ڑی کے ذر یعے تو ڑا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کمال خان نے اپنے بیان میں وا ضح کیا تھا کہ اپو زیشن نے بجٹ پڑ ھے اور دیکھے بغیر یہ اند از ہ کیسے لگا لیا کہ ان کے حلقو ں کونظر اند از کیا گیا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اپو ز یشن کووا قعی ایسا نہیں کرنا چا ہیئے تھا وہ ایک مر تبہ بجٹ کو دیکھتے پھر اگر اس میں کوئی غلطی ہو تی تو پھر اس پر اسمبلی کے فلو ر پر احتجا ج کر تے اور اس کی نشا ند ہی کر تے لیکن انہوں نے اس کے لیے ایک انو کھا احتجا ج کر نے کا طر یقہ اختیار کی اور اسمبلی کی بجا ئے رو ڈ پر بیٹھ گئے اور اس کے بعد تھا نے میں جا کر ایک طویل دھر نا دید یا۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ اپو ز یشن کو حکومت کے سا تھ تما م معا ملا ت کو اسمبلی میں بیٹھ کر حل کرنے چاہئیں جب اس مقصد کے لیے ایک بڑ ا فو رم مو جو د ہے تو پھر سڑ کو ں اور تھا نے میں بیٹھنے کا کوئی جو ا زنہیں اس کے سا تھ سا تھ حکومت کو بھی چا ہیئے کہ وہ اپو ز یشن کے تحفظا ت غو ر سے سنے اور ان کو حل کرنے کے لیے لا ئحہ عمل اختیا ر کر ے کیونکہ یہ ار اکین اسمبلی بھی عو ام کے منتخب نما ئند ے ہیں عو ام نے ان کو ووٹ دے کر منتخب کیا ہے اور ا س طرح وہ ان سے اپنے مسائل کو حل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*