تازہ ترین

حکومت اوور سیز بچوں کو سیر کے لیے بلائے

ا سد اللہ غالب
یہ تجویز بھی اختر وحید کے ذرخیز ذہن کی پیدا وار ہے،وہ کہتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے مگر ان کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ کبھی پاکستان نہیں آئے،پاکستان کے بارے میں جو کچا پکا تاثر ان کے ذہن میں بنتا ہے وہ عالمی اور قومی میڈیا سے ہی بنتا ہے اور یہ تاثر کوئی اتنا اچھا نہیں،عالمی میڈیا پاکستان کے خلاف زہر اگلتا ہے تو قومی میڈیا پر بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔عالمی میڈیا پاکستان کو دہشت گرد کے طور پر پیش کرتا ہے اور قومی میڈیا سے ایک ہی بات نشر ہوتی ہے کہ پاکستان کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے۔
اختر وحید کہتے ہیں کہ وہ ایک زمانے میں اوور سیز بچوں کو پاکستان کی سیر کے لیے لایا کرتے تھے،پاکستان کے پانچ موسموں کا جلوہ دکھاتے۔پاکستان کے دریاﺅں،نہروں،پہاڑوں اور کراچی کے ساحل پر سمندر کے خوش نما مناظر سے ان کا دل لبھاتے۔کھیتوں میں کام کرنے والے جفا کش کسانوں سے ملاتے۔دیہی اور شہری معاشرے میں گھلنے ملنے کا موقع دیتے۔مری، سوات اور شمالی علاقہ جات سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتے۔نانگا پربت کی اونچی چوٹیاں،پہاڑوں سے پھوٹنے والے چشمے،سرسبز وادیاں اور مترنم جھیلوں کو دیکھ کر پاکستانی بچے اپنے وطن سے سچے دل سے پیار کرتے،کئی ایک تو واپس جانے کو تیار ہی نہ ہوتے۔اختر وحید کہتے ہیں کہ یہ کام وہ زیادہ عرصے تک جاری نہ رکھ سکے،اس لیے کہ ایک تنہا فرد سارا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھا سکتا،مجھے یاد ہے کہ میں ان بچوں کو رعایتی نرخوں پر لاہور کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں کمرے بک کروا کر دیتا،وہ چڑیا گھر دیکھتے،باغ جناح میں گھومتے،گورنر ہاﺅس کی وسعتوں سے آنکھیں ٹھنڈی کرتے اور شام کو واہگہ بارڈر کی پریڈ دیکھ کر ان کے جذبے جوان ہوجاتے۔
دنیا بھر میں طلباءکے وفود کے تبادلے ہوتے ہیں،پاکستان میں امریکی اور برطانوی سفارت خانے نوجوانوں کو اپنے اپنے ملکوں کی سیر کے لیے بلاتے ہیں،ایک زمانہ تھا جب میاں شہباز شریف پنجاب کے چیف منسٹر ہوا کرتے تھے تو وہ تعلیمی بورڈوں میں پوزیشن لینے والے طلبا و طالبات کو یورپی ممالک میں سیر کے لیے بھجواتے۔پاکستان اور بھارت کے اندر کچھ این جی اوز بھی طلبا ءکے وفود کا تبادلہ کرتی ہیں لیکن ان کا مقصد کچھ اور ہی ہے،اس لیے کہ پاکستانی طلباءکو بھارتی طالبات کے گھروں میں ٹھہرا یا جاتا اور بھارتی طلباءکو پاکستانی طالبات کے گھروں میں قیام کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔یہ اصل میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا ایک حصہ ہے کہ برصغیر کے دونوں جنگ جو ملکوں کی نئی نسل کو امن کا راستہ دکھایا جائے اور ان کے ذہنوں کی برین واشنگ کی جائے۔ایک وہ بھی وقت تھا جب مشرقی اور مغربی پاکستان کے طلباءو طالبات کو سرکاری سطح پر سیر کا موقع فراہم کیا جاتا تھا۔یہ ایوب خان کے دور کا ذکر ہے،اس کا مقصد یہ تھا کہ ہم قومی یکجہتی کو فروغ دے سکیں اور ہمارے درمیان دوریاں نہ پیدا ہونے پائیں۔امریکہ ایک بڑا اور سرمایہ دار ملک ہے،وہ صرف طلباءو طالبات کو ہی نہیں بلکہ پارلیمانی وفود کوبھی مدعو کرتا ہے،صحافیوں کے بھی دورے کروائے جاتے ہیں، میں خود ایسے دو وفود کا حصہ بن کر امریکہ جا چکا ہوں اور مجھے یہ موقع ملا کہ میں امریکہ کے مشرقی اور مغربی ساحلوں پر چار مرتبہ گیا جبکہ عام پاکستانی جو وہاں قیام پذیر ہیں وہ نیو یارک سے نکل کر زیادہ سے زیادہ ٹیکساس تک جاتے ہیں،پوری زندگی وہ مغربی ساحلوں کا نظارہ نہیں کرسکتے، یہ سفر لمبا بھی ہے اور مہنگا بھی۔ اسی طرح سین فرانسسکو اور لاس اینجلس کے لوگ بہت کم نیو یارک یا واشنگٹن تک پہنچنے کی سکت رکھتے ہیں،مگر امریکی خزانے پر جانے والے وفود جی بھر کر امریکہ کی سیر کرتے ہیں،ان کے پروگرام میں گھریلو میزبانی کا بھی موقع فراہم کیا جاتا ہے۔مجھے سین فرانسسکو کے ایک گھر میں جانے کا موقع ملا،یہاں ادھیڑ عمر کے میاں بیوی قیام پذیر تھے، انہوں نے کھانے کے دوران ایک نوجوان جوڑے کو بھی مدعو کر رکھا تھا،میں نے جب وہاں پاکستانی معاشرے کی تصویر کشی کی تو نوجوان عورت حیرت زدہ رہ گئی کہ ہم جوائنٹ فیملی سسٹم میں زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ امریکہ کے لوگ عام طور پر رشتے داروں سے الگ ہوتے ہیں تو عمر بھر ان کی شکل نہیں دیکھ پاتے۔
مگر بات ہو رہی تھی اوور سیز پاکستانی بچوں کے پاکستان آنے کی،اختر وحید کی خواہش اور تجویز ہے کہ اس پروگرام کا بیڑاحکومت پاکستان اٹھائے تاکہ ایسے اوور سیز بچے جو پاکستان سے صرف جغرافیے کی حد تک شناسا ہیں وہ یہاں آئیں اور اپنی آنکھوں سے ہنستے بستے پاکستان کا نظارہ کریں،انارکلی،لبرٹی،جناح سپر،طارق روڈ اور لاہور کے اندرونی گلی کوچوں کو دیکھیں تو انہیں معلوم ہو کہ پاکستانی لوگ ایک دوسرے کے دل کے کسی قدر قریب ہیں۔اختر وحید کی یہ تجویز انتہائی معقول ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب عالمی میڈیا پاکستان کو ایک روگ اسٹیٹ کے طور پر پیش کرتا ہے تو پاکستانی بچے اپنی آنکھوں سے آ کر دیکھیں کہ یہاں کے کھیتوں اور کھلیانوں میں کس قدر سکون ہے، یہاں کے پہاڑی ندی نالے،اور آبشاریں کس قدرمیٹھے گیت گاتے ہیں اور یہاں کے لوگ کس طرح رات گئے تک فوڈ مارکیٹوں میں انواح و اقسام کی ڈشوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔کاش اختر وحید کے ذہن سے اٹھنے والے اس منصوبے پر حکومت غور کرے اور اسے بروئے کار لاکر اوور سیز پاکستانیوں کی نئی نسل کو پاکستان سے قریب تر آنے کا موقع فراہم کرے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*