تازہ ترین

حکومت اور فوج میں کسی قسم کی کوئی غلط فہمی نہیں، عمران خان

Prime-Minister-Imran-Khan-PM

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں+م ڈ)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملہ پر سول و عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کبھی سول و عسکری قیادت کے اتنے اچھے تعلقات نہیں رہے جتنے آج ہیں، اس کا کریڈٹ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو جاتا ہے، افغانستان کو تنہاءنہ چھوڑا جائے، افغانستان میں عدم استحکام کی صورتحال پوری دنیا کے لئے نقصان کا باعث بن سکتی ہے، ملک میں مہنگائی کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہے، مہنگائی سے نمٹنے کے لئے ہم نے نئی اکنامک پالیسی فریم کی ہے، نومبر کے مہینے سے تین بڑے پروگرام شروع کئے جا رہے ہیں جس میں صحت کارڈ، کسان کارڈ اور احساس کارڈ شامل ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان تحریک انصاف کے تمام اراکین کو ہدایت کی ہے کہ 12 ربیع الاول کا دن شایان شان طریقے سے منایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ہمارا فوکس افغانستان پر تھا، وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کے ممبران کو افغانستان کی صورتحال پر اعتماد میں لیا، پاکستان کا موقف ہے کہ اس وقت افغانستان کو تنہاءنہ چھوڑا جائے، انسانی ہمدردی کے جذبہ سے افغانستان کے لئے امداد جاری رہنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان کے لئے ویزا میں سہولت فراہم کی، افغانستان کے ساتھ تجارت کو بڑھایا ہے، ہم افغانستان میں اپنے بھائیوں کی مدد کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھی افغانستان کو تنہائ نہ چھوڑے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کو بتایا کہ اگر افغانستان کو تنہاءچھوڑا گیا اور وہاں عدم استحکام پیدا ہوا تو افغانستان میں دہشت گرد اور انتہائ پسند گروپ اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، ایسی صورتحال افغانستان کے ساتھ ساتھ دنیا اور پاکستان کے لئے بھی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں استحکام کے لئے دنیا کو اپنی کوششیں کرنی چاہئیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کو ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملہ سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم کے خوشگوار اور قریبی تعلقات ہیں، تمام نکتہ نظر پر ہم مل بیٹھ کر بات کرتے ہیں، ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے حوالے سے معاملہ پر بھی صورتحال یہی رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی سول و عسکری قیادت کے اتنے اچھے تعلقات نہیں رہے جتنے آج ہیں، اس کا کریڈٹ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو جاتا ہے جنہوں نے ہمیشہ پاکستان میں جمہوریت اور سول حکومت کو ادارہ جاتی سپورٹ دی، آج پاکستان کے عوام کو فوج کی عزت اور وقار عزیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کو بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلیجنس کی تقرری سے متعلق معاملات مکمل طور پر طے پا چکے ہیں، پراسیس شروع ہے، ان کی تقرری جلد ہوگی، اس پر سول اور ملٹری دونوں اطراف آن بورڈ ہیں، اعتماد کی فضاءمیں یہ فیصلہ ہوگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مہنگائی پر بھی بات ہوئی، اس وقت ملک میں مہنگائی کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہے، پٹرول کی قیمت 40 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، 2018ءمیں پام آئل کی قیمت 518 سے 520 ڈالر میٹرک ٹن تھی جو آج 1200 ڈالر کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی سے نمٹنے کے لئے ہم نے نئی اکنامک پالیسی فریم کی ہے، نومبر کے مہینے سے ہم تین بڑے پروگرام شروع کر رہے ہیں جس میں صحت کارڈ، کسان کارڈ اور احساس کارڈ شامل ہیں۔ صحت کارڈ خیبر پختونخوا میں مل چکا ہے، اب پنجاب کے عوام کو صحت کارڈ فراہم کیا جائے گا جس کے تحت پنجاب میں ہر خاندان ساڑھے سات لاکھ روپے تک کا میڈیکل انشورنس حاصل کرسکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صحت کارڈز کی فراہمی کا سلسلہ نومبر سے شروع ہوگا اور مارچ تک مکمل ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ احساس کارڈ کے لئے تمام ڈیٹا اکٹھا کرلیا گیا ہے، غریب اور پسماندہ افراد کو احساس کارڈز فراہم کیا جائے گا، احساس کارڈز کے ذریعے غریب افراد نہ صرف یوٹیلٹی سٹورز بلکہ عام دکانوں سے بھی سستی اشیاءخرید سکیں گے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پنجاب حکومت مزدور کارڈ جاری کر رہی ہے جس سے مزدوروں کو فائدہ ہوگا۔ کسانوں کو سبسڈی کی فراہمی کے لئے کسان کارڈز بھی جاری کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے تمام اراکین کو ہدایت کی ہے کہ 12 ربیع الاول کا دن شایان شان طریقے سے منایا جائے۔ وزیراعظم نے 12 ربیع الاول کے موقع پر رحمةللعالمین اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 12 ربیع الاول کو دو بڑی تقریبات ہوں گی، ایک تقریب ایوان صدر اور دوسری کنونشن سنٹر میں ہوگی، وزیراعظم بڑے مذہبی اجتماع سے خطاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹی وی چینلز سے درخواست کی گئی ہے کہ رحمت للعالمین کے حوالے سے موضوعات پر پروگرام نشر کئے جائیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ رسول اکرم کی ذات اقدس حق کا پیغام ہے، اس کی روشنی میں ہم آگے بڑھیں گے۔دریں اثناءوزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری میں تکنیکی خامی تھی جو ٹھیک ہوجائے گی، تعیناتی پر ہونے والی قیاس آرائیاں درست نہیں۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا، جس میں موجودہ صورتحال پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور فوج میں کسی قسم کی کوئی غلط فہمی نہیں ہے، عسکری قیادت سے میرے سے زیادہ بہتر تعلقات کسی کے نہیں، ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر ہونے والی قیاس آرائیاں درست نہیں، اس میں تکنیکی خامی تھی جو ٹھیک ہوجائے گی، ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق ابہام دور ہوگیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*