تازہ ترین

حوصلہ افزا بجٹ

میاں حبیب
عمومی طور بجٹ کے حوالے سے یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ بجٹ الفاظ اور اعدادوشمار کا گورکھ دھندا ہوتا ہے حکومتیں کاروبار مملکت چلانے کیلئے اپنی مالی مینجمنٹ پر مشتمل ایک کتابچہ تیار کرتی ہیں جو کہ اس کے اخراجات کیلئے ضروری ہوتا ہے اور یہ ایک آئینی ضرورت ہے حکومتوں کا مطمع نظر اپنے اخراجات کیلئے پیسے اکھٹے کرنا ہوتا ہے اس لیے وہ مختلف مدات میں ٹیکسوں کی شرح میں اتار چڑھاو کر کے نئے ٹیکس لگا کر ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھا کر یا پیداوار میں اضافہ کر کے اپنی آمدن بڑھاتی ہے پاکستان کو بڑے عرصہ سے ایک کمرشل ریاست کے طور پر چلایا جا رہا ہے جہاں خدمات کی بجائے ریونیو کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے سرکاری ملازمین کی کارکردگی جانچنے کا معیار بھی ریونیو ٹارگٹ رکھا جاتا ہے جو ملازم سب سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرتا ہے اسے سب سے اچھا ملازم تصور کیا جاتا ہے اور کبھی اس بات کا جائزہ نہیں لیا جاتا کہ اس نے عوام کو کتنا زیادہ تنگ کر کے جبر کرکے ریونیو اکھٹا کیا ہے۔ اس بات کا اندازہ یہاں سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جو ٹریفک اہلکار سب سے زیادہ چالان کاٹتا ہے اسکی کارکردگی سب سے اچھی ہوتی ہے حالانکہ وہ اندھا دھند بے رحمی سے لوگوں کے چالان کرتا جاتا ہے اس کو ٹریفک کے بہاو سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اسی طرح جو پرائس کنٹرول مجسٹریٹ سب سے زیادہ جرمانے کرتا ہے وہ سب سے اچھا افسر تصور کیا جاتا ہے۔ حکومت اس روایتی انداز کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس حکومت کا بھی زیادہ فوکس ٹیکس کولیکشن ہے حالانکہ حکومت کا کام لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے کا ہے لیکن ہمیں حکومت کے سروسز فراہم کرنے کی سوچ کو سراہنا چاہیے تاکہ اس طرف زیادہ توجہ دی جائے بجٹ پر بعد میں بات کرتے ہیں پہلے بجٹ کے ماحول پر بات کر لی جائے کئی سالوں سے یہ روایت بن گئی ہے کہ ہر اپوزیشن نے بجٹ پر شور شرابے اور ہلڑ بازی کا فیسٹیول منانا ہے ہر سال بجٹ تقریر میں رخنے ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے اپوزیشن اس کیلئے باقاعدہ طور پر تیاری کے ساتھ ایوان میں اترتی ہے اور ارکان اسمبلی کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے کہ انھوں نے کون کونسا مورچہ سنبھالنا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو اس بارے بھی سوچنا چاہیے کہ ایسا ماحول پیدا کرکے وہ عوام کی کیا رہنمائی کرنا چاہ رہے ہیں‘ ایوان میں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی ایک ہوچکے اور کمانڈ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے حوالے کر دی گئی ہے۔
پیپلزپارٹی ایک نئی چال چلنے میں کامیاب ہو گئی ہے انھیں علم ہے کہ حکومت نے بندوبست کر کے ہی بجٹ پیش کیا ہے لہذا بجٹ پاس ہو جائیگا لیکن پیپلزپارٹی کہے گی کہ اس بار ساری حکمت عملی میاں شہباز شریف کی تھی ہم نے تو اپنے سارے ووٹ ان کی جھولی میں ڈال دیے تھے پیپلزپارٹی ساری کامیابیاں اپنے کھاتے اور تمام تر ناکامیاں ن لیگ کے کھاتے میں ڈالے جا رہی ہے ۔
اس بجٹ کی منظوری کے بعد حکومت کی مدت پوری کرنے میں کوئی شک باقی نہیں رہ جائیگا حکومت اگلے الیکشن کیلئے ماحول بنانے کی ابتدا اس بجٹ سے کرچکی اب حکومت میں کیڑے نکالنے کیلئے اپوزیشن کی تلخی میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا۔
سعودی ہم منصب کا شاہ محمود کو فون، مشترکہ فیصلوں پر جلد عملدآمد پر اتفاق
اپوزیشن نے بجٹ آنے سے قبل ہی بجٹ کو مسترد کر کے یہ ثابت کر دیا کہ حکومت جو مرضی کر لے انھوں نے شور مچانا ہی مچانا ہے۔
ایسے میں حکومت اگر اپوزیشن کی تمام بجٹ تجاویز منظور بھی کر لے پھر بھی اپوزیشن نے تنقید کرنی ہی کرنی ہے حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ موجودہ حالات میں جب کرونا وباءنے ساری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے ہر ملک کی معیشت متاثر ہوئی ہے ایسے حالات میں بھی حکومت نے بہتربجٹ پیش کیا ہے پاکستان مختلف وجوہات کے باعث معاشی طور پر گرداب کا شکار تھا۔ ایسے میں نہ صرف حکومت نے معاشی استحکام پیدا کیا بلکہ بہتری کی طرف سفر شروع کر دیا ہے مختلف معاشی ماہرین نے بھی اس بجٹ کو پی ٹی آئی حکومت کا بہترین بجٹ قرار دیا ہے۔
جنرل ندیم رضا کا دورہ اردن‘ ہم منصب سے سکیورٹی و دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال
موجودہ بجٹ میں حکومت نے پیداواری عمل کو متحرک کرنے کی کوشش کی ہے پچھلے دو تین سال سے معاشی جمود کی وجہ سے لوگ تنگ آچکے تھے اب ہر کوئی چاہتا تھا کہ حکومت صیح ڈگر کا تعین کرے تو وہ ساتھ دینے کیلئے تیار ہیں پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے اور جتنے مواقع زراعت لائیو سٹاک ڈیری ڈویلپمنٹ میں ترقی کے ہیں کسی اور شعبے میں نہیں لہذا حکومت نے زراعت کو فوکس کر کے ہر فصل کی بوائی سے قبل ہر کاشتکاروں گھرانے کو ڈیڑھ لاکھ روپے بلا سود قرض دینے اور ہر گھرانے کو ٹریکٹر کی خریداری کے لیے دو لاکھ روپے بلا سود قرض دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
زرعی مشینری پر بھی رعائیتیں دی جا رہی ہیں فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کیلئے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کی بدولت زرعی پیداوار میں اضافہ کی توقع ہے حکومت نے صنعتی ترقی کو بھی فوکس کیا ہے صنعتی خام مال پر اور صنعتی مشینری منگوانے پر عائد ڈیوٹی پر کمی کر دی ہے۔ سمال انڈسٹری کے فروغ کیلئے نوجوانوں کو قرضے دیے جا رہے ہیں ہر گھرانے کے ایک فرد کو ہنر مند بنانے کیلئے ٹیکنکل ایجوکیشن مفت دی جائے گی جس سے نہ صرف پیداواری عمل بڑھے گا بے روزگاری میں بھی کمی آئے گی۔ اسی طرح حکومت نے آٹو موبائلز انڈسٹری کے فروغ کیلئے 850 سی سی گاڑیوں پر ڈیوٹیاں کم کر دی ہیں جس سے چھوٹی گاڑیاں سستی ہو جائیں گی بڑی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی لیکن اس میں حکومت کو چاہیے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ ان ڈیوٹیوں کی کمی کا فائدہ کنزیومر کو پہنچے نہ کہ مینوفیکچرر کو کیونکہ قبل ازیں ڈالر کی قدر بڑھنے سے گاڑیوں کی قیمتوں میں ڈبل اضافہ کر کے مینوفیکچرر نے خوب کمائیاں کیں اب ڈالر نیچے آنے کے باوجود قیمتیں پرانی سطح پر نہیں آسکیں لہذا حکومت کو چاہیے ۔
کہ گاڑیوں کی قیمتوں کو اعتدال میں لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ حکومت نے معیشت کا پہیہ تیزی سے گھمانے کے لیے ہاوسنگ سیکٹر پر بھی خصوصی توجہ دی ہے بنکوں کو اس سیکٹر میں فنانس کرنے کی طرف راغب کیا ہے چھوٹے گھروں پر معمولی انٹرسٹ ریٹ پر قرضے دیے جا رہے ہیں جس سے چھوٹے گھروں کی مانگ میں اضافہ ہو گا اور اس سے منسلک باقی صنعتوں کے پیداواری عمل میں بہتری آئے گی حکومت نے مختلف وجوہات کی بنائ? پر دفن کیا گیا سرمایہ باہر نکلوانے کے لیے بہت سارے اقدامات کیے ہیں حکومت نے سرمایہ پیداواری عمل میں لگانے کے لیے بڑے مالیت کے پرائز بانڈ بند کر دیے بچت سکیموں پر شرح منافع میں کمی کی تاکہ لوگ کاروبار میں سرمایہ لگائیں لوگوں نے احتساب کے خوف سے اپنا ڈمپ کیا گیا پیسہ نکالنا شروع کر دیا ہے پراپرٹی کے کاروبار میں تیزی آئی ہے بنک ٹرانزیکشن پر ٹیکس میں کمی کر کے لوگوں کا بینکوں پر اعتماد بڑھانے کی کوشش کی ہے قبل ازیں لوگ ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے بینکوں کی بجائے گھروں میں پیسہ رکھنے کو ترجیح دیتے تھے اور تاجر برادری بینکوں کے ذریعے کاروبار کرنے کی بجائے کیش اور پرچیوں پر کاروبار کر رہے تھے اب بینکنگ سیکٹر میں بھی بہتری آئے گی حکومت نے ہر شعبہ کو سہولتیں دے کر فعال کرنے کی کوشش کی ہے حکومت نے ترقیاتی بجٹ 600 ارب سے بڑھا کر 900ارب کر دیا ہے ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع ہونے سے روزگار میں اضافہ ہو گا البتہ ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ اکثر حکومتیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا لیتی ہیں حکومت کو ترقیاتی بجٹ میں کٹ سے اجتناب کرنا چاہیے اور تمام ترقیاتی بجٹ کے خرچ کو یقینی بنایا جائے جو محکمے یا افسران ترقیاتی بجٹ خرچ نہ کر سکیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے حکومت نے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کی ہے جس سے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری بڑھنے کا امکان ہے لوگ اپنا ڈمپ سرمایہ سٹاک مارکیٹ میں لگائیں گے سٹاک مارکیٹ میں پہلے ہی تیزی ہے مزید تیزی معیشت کی بہتری کا واضح اشارہ ہو گا جس سے لوگ سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوں گے یہ بجٹ اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے ۔
کہ حکومت نے اگلے الیکشن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اگلے دو سالوں میں کام کرکے اپنے آپ کو قابل قبول بنانے کی کوشش کرے گی اس لیے تمام تر اشارے واضح پیغام دے رہے ہیں کہ اب بہتری کا سفر شروع ہو چکا ہے حکومت نے سرکاری ملازمین وپینشنرز کے واجبات میں اضافہ کر کے انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے یہ موجودہ حکومت کا سرکاری ملازمین کو پہلا ریلیف ہے مہنگائی کے تناسب سے یہ اضافہ بہت کم ہے اس میں اور زیادہ اضافہ ہونا چاہیے تھا حکومت نے بجٹ سے قبل پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر کے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی لیکن حکومت نے پیٹرولیم لیویز ڈیوٹی سے مزید 610 ارب روپے اکھٹے کرنے کا ٹارگٹ رکھا ہے جس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہتی ہے حکومت نے بجلی گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کے معاملہ پر آئی ایم ایف کے مطالبہ پر سٹینڈ لیا ہے اللہ کرے حکومت اس سٹینڈ پر ثابت قدم رہے کیونکہ اس حوالے سے حکومت پر شدید دباو آسکتا ہے۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*