تازہ ترین

جہیز

سمیہ سلطان
”جہیز ایک لعنت ہے۔جہیز بوڑھے کاندھوں پر ڈالا گیا ایسا بوجھ ہے جس کو نا چاہتے ہوئے بھی ڈھونا پڑتا ہے۔ ہماری شادیوں کا ایسا بدصورت لازم جزو جو کہ جس کے بغیر برات گھر واپس لوٹ جاتی ہے، لڑکی ماں باپ کی چوکھٹ پر بیٹھی رہ جاتی ہے۔ یہ جہیز کا سامان، یہ بے جان اشیاءایک جیتی جاگتی ہستی پر سبقت لے جاتی ہیں۔ ہماری پیدائش کے ساتھ ہی ہمارے ماں باپ تنکا تنکا جوڑنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ وہ باعزت طریقے سے ہمیں رخصت کر سکیں۔
ہماری پیدائش پر خوشی سے زیادہ فکرات ان کا دامن گھیر لیتی ہیں۔ بیٹی کی شادی اور اس کے اخراجات اور جہیز جمع کرنے کی فکر میں اکثر ہمارے معاشرے کے والدین بیٹی کی تعلیم اور بہتر معیارِ زندگی کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ مستقبل کی فکر انہیں حال کو نظرانداز کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود وہ لڑکے والوں کے شایانِ شان جہیز دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔
۔۔۔ کیوں؟”
یونیورسٹی کے آڈیٹوریم ہال میں تھوڑی دیر قبل ہونے والا تالیوں اور ہوٹنگ کا شور پلوشہ کے ُپردرد اندازِ بیان اور سحر انگیز آواز سے تھم گیا تھا۔پلوشہ نے ایک طائرانہ نگاہ سامنے بیٹھے حاضرین محفل پر ڈالی۔ اسٹیج پر آنے سے پہلے والی گھبراہٹ اس سکوت پر ختم ہو گئی تھی۔لمحہ بھر توقف کے بعد اس نے پرجوش انداز میں ہاتھ اٹھا کر دوبارہ تقریر کا تسلسل جوڑا۔
”جناب والا!! میں بتاتی ہوں کیوں..؟ وہ سامان اپنی کم مالیت کی بنا پر اپنی وقعت نہیں کھوتا بلکہ لڑکے والوں کی لالچی اور کم ظرفی کی بنا پر بے قدروقیمت ہو جاتا ہے۔ لڑکی کا باپ کبھی قرضے لے کر،تو کبھی بیوی کے زیورات بیچ، تو کبھی اپنا پیٹ کاٹ کر کتنی صعوبتوں کے بعد جہیز جمع کرتا ہے تو دوسری طرف ماں کمیٹیاں ڈال کر، کبھی اپنے جہیز کے کپڑے بیٹی کے لیے سنبھال کر، تو کبھی بھائی بہنوں کے آگے شرمندہ ہو کر، تو کبھی محلے کے کپڑے سی کر یہ سامان اکٹھا کرتی۔
جو کسی کے در پر جا کر دو کوڑی کا ہو جاتا ہے لیکن دراصل تو بےوقعت وہ لوگ ہوتے ہیں جو مادی چیزوں کے پیچھے زندہ دلوں کو ٹھیس پہنچ جاتے ہیں۔ ماں باپ سے ان کے جگر کا ٹکڑا لے کر بھی، ان کا قیمتی سرمایہ لے کر بھی مادی اشیاءکے لئے ایک جیتے جاگتے وجود کو ردی سمجھتے ہیں۔
صدر عالی!! میرے الفاظ آپ کو سخت تو بہت لگ رہے ہوں گے۔مگر یہی تلخ حقیقت ہے لڑکی کو روپے پیسوں میں تولا جاتا ہے۔
لڑکی کی قدر نہیں ہے بس بےضمیر لوگوں کو بے جان چیزوں کی ہوس ہے یہ میری تقریر آئینہ ہے معاشرے کے بدصورت رویوں کی۔
اپنی تقریر کے اختتام پر صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ ہم سب اس بوجھ تلے دبے ہیں لیکن ہم میں سے کوئی بھی یہ بوجھ،یہ رسم ختم نہیں کرنا چاہتا۔اپنی بیٹیوں کو سونے کے زیور سے زیادہ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی کوشش کریں۔
ان کو خوداعتمادی اور خودشناسی کا ہنر دیں تاکہ وہ آئندہ زندگی میں کم ظرف اور گھٹیا لوگوں اور بے جان اشیاءکی وجہ سے احساس کمتری یا بے یقینی کا شکار نہ ہوں۔”
اختتام کے ساتھ ہی ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ دو تین منچلی لڑکیوں نے سیٹیاں بجا کر داد دی۔پلوشہ کے ہونٹوں پر آپ ہی آپ پر اعتماد مسکراہٹ بکھر گئی۔ اسٹیج پر آنے سے پہلے اس کی چال میں جو نادیدہ سی لرزش تھی اسٹیج سے اترتے وقت اس کی جگہ اعتماد اور مسکراہٹ نے لے لی۔
”بہت خوب مجھے تو پتہ تھا کہ اس دفعہ بھی تمہاری تقریر لاجواب ہو گی۔”
اپنی نشست کے قریب پہنچنےپر زویا کے تحسین بھرے الفاظ اس کی سماعتوں میں پڑے تو گردن فخر سے تن گئی اور اس نے فرضی کالر جھاڑے۔ اس کے شان بے نیازی والے انداز پر زویا کی ہنسی نکل گئ۔
”بس بس زیادہ اتراو نہیں ابھی رزلٹ نہیں بتایا۔” زویا نے فورا چوٹ کی۔
”میں کب اترا رہی ہوں مگر اپنے اللہ پر اور اس کے بعد اپنے آپ پر مجھے پورا یقین ہے۔ ” پلوشہ نے بھی اسے چڑاتے ہوئے۔
”ششش،رزلٹ بتا رہی ہیں میڈم۔” زویا نے اس کا ہاتھ زور سے دبا کر کان میں سرگوشی کی کیونکہ آس پاس والی لڑکیوں نے ان کے زور سے بولنے کی وجہ سے گھورنا شروع کر دیا تھا اور ان تک میڈم سامعہ کی آواز صحیح طرح نہیں پہنچ پا رہی تھی۔
پر”اور ہر بار کی طرح اس بار بھی اول انعام کی حقدار ٹھہری ہیں پلوشہ سلیمان۔”
بھرپور تالیوں اور پرجوش نعروں میں پلوشہ نے انبساط کے ساتھ اپنا انعام وصول کیا۔
”آ گئی میری شاہین ستاروں پہ کمند ڈال کے۔” جونہی پلوشہ نے گھر کے اندر قدم رکھا بسمہ نے دور سے ہی زوردار نعرہ بلند کیا۔پلوشہ کا کا خوشی سے تمتماتا ہوا چہرہ اور بھی کھل اٹھا۔
”آف کورس! ہم میدان میں اتریں اور فتح یاب نہ ٹھہریں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔” پلوشہ تیقن بھرےلہجےمیں جواب دے کر اندر کمرے کی طرف بڑھ گئی اور اپنا بیگ اور شیلڈ وغیرہ میز پر رکھنے لگی۔
”اللہ اتنا غرور کسی کو نہ دیں۔ویسے میں تمہیں شاہین اسی لئے تو کہتی ہوں۔اس میں اور تم میں مطابقت جو بہت ہے۔” بسمہ نے بھی چڑاتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگایا اور آگے بڑھ کر اس کے بیک سے سرٹیفکیٹ نکال کر دیکھنے لگی اور ساتھ ہی ساتھ وضاحت بھی دی۔
”پہلی بات تو یہ کہ میری امی منی کی اطلاع کے لئے عرض ہے ستاروں پہ کمند شاہین نہیں جوان ڈالتے ہیں اور دوسری یہ غرور نہیں ہے بس خود اعتمادی ہے اللہ پر توکل کے بعد اپنی محنت اور لگن پر پورا بھروسہ تھا مجھے۔” پلوشہ نے رسان سے جواب دیا۔
”آپ نے تو میری بات دل پہ ہی لے لی یار۔” بسمہ نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا اور پھر دونوں چیزیں ٹیبل پر واپس رکھنے لگی۔
”نہیں رکھو نہیں واپس! ابھی امی کو بھی دکھانی ہیں۔ میں نے تو سلام بھی نہیں کیا انہیں۔۔ ہیں کہاں پر وہ؟اور میں اپنی منی کی بات دل پر لے ہی نہ لوں۔” پلوشہ نے پہلے اسے روکتے ہوئے استفسار کیا اور پھر پیار بھرے انداز میں اس کا گال سہلانے لگی۔
”ہاں خود تو جیسے پچاس سال کی بڈھی ہیں نا مجھے منی کہتی ہیں۔” بسمہ نے خفگی سے منہ پھلایا۔
”اور امی نماز پڑھ رہی تھیں اب تو فارغ ہو گئی ہوںگی۔ آپ سلام کر کے پہلے فریش ہو جائیں میں کھانا رکھ رہی ہوں۔بہت زور کی بھوک لگ رہی ہے مجھے آپ کا انتظار کر رہے تھے ہم۔ یہ بعد میں دکھا دیئے گا ویسے بھی کونسی نئی بات ہے۔” جواب دینے کے ساتھ ساتھ اس نے بھی بدلہ چکایا۔
”چلو ٹھیک ہے۔” پلوشہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔
”بیٹا تم نے جو سموسے اور رول وغیرہ بنا کر رکھے تھے وہ ہیں یا ختم ہو گئے؟”
امی نے لا¶نج میں آکر پوچھا جہاں پلوشہ اور بسمہ ویک اینڈ کی وجہ سے گھر کی تفصیلی صفائی میں مصروف تھیں۔گھر کی صفائی کے لیے ویسے تو ماسی آتی تھی یوں بھی یونیورسٹی اور اسکول جانے کی وجہ سے دونوں کو ہی کم ٹائم مل پاتا تھا لیکن ویک اینڈ پہ دونوں گھر اور کچن کے بہت سارے کام نمٹا لیتی تھی کیونکہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے وہ دونوں ہی امی کو کام کرنے کا زیادہ موقع نہیں دیتی تھیں۔
اور کچھ مجبوری اور کچھ شوق کی وجہ سے کچن کا زیادہ تر کام پلوشہ کے کاندھوں پر آ گیا تھا بسمہ بھی اس کی مدد کروانے کی کوشش کرتی تھی۔(جاری ہے)
مگر اکثر وہ اپنے چھوٹے ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھایا کرتی تھی اور پلوشہ بھی اس کے ناز نخرے بڑی خوشی خوشی اٹھاتی۔
پلوشہ اور بسمہ دو ہی بہنیں تھیں۔بہت حد تک دونوں کے مزاج وعادات مشترکہ تھے۔ دونوں ہی زندگی سے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو کشید کرنے پر یقین رکھتی تھیں لیکن پلوشہ کی پراعتمادیی، ذہانت اور سلجھا ہوا انداز لڑکیوں کو کیا لڑکوں کو حتی کہ بڑوں کو بھی رشک و حسد میں مبتلا کر دیتا تھا جبکہ بسمہ خاموش طبع اپنے کام سے کام رکھنے والی لڑکی تھی۔

”جی امی!ابھی تو ہوں گے پچھلے ہفتے ہی تو بنائے تھے تھے کیوں خیریت؟” پلوشہ نے کشن کور بدلتے ہوئے جواب اور سوال ساتھ ہی کیا۔
”ہاں بیٹا!! آج روقیہ آپا آ رہی ہیں۔ رومیلا اور سبرینہ بھی ساتھ ہوں گی تو تھوڑا اہتمام کرلینا۔”
”میرا باجی بھی آ رہی ہیں پھر تو بہت مزا آئے گا۔” بسمہ شرارتی نظروں سے پلوشہ کو دیکھنے لگی۔

”جی ہاں! ابھی تھوڑی دیر میں ہمارے ہاں غیبت کرنے والی بکری آنے والی ہے جو کہ بیک وقت اپنی اچھائی اور دوسروں کی برائی سے آپ کو مستفید کرتی ہے.” جوابا پلوشہ نے بھی ٹکڑا لگایا اور دونوں کا قہقہہ بڑا برجستہ تھا۔
”اوںہہ۔۔۔بری بات ہے بچوں تمہاری خالہ زاد بہن ہے اور ہے بھی بیچاری اکلوتی لڑکی گھر کی۔ تم لوگوں کے ساتھ ہنس بول لیتی ہے بچی۔
۔ خیر سے بھاوج گھر آئی تو خود رخصت ہو سسرال بھی مختصر سا ملا ہے۔ یوں بھی جس سے دل ملتا ہے بندہ اسی سے بےتکلف ہوتا ہے۔” امی نے مسکراہٹ دباتے ہوئے رسان سے سمجھایا۔اکلوتی بہن کی اکلوتی بیٹی بہت عزیز تھی انہیں۔
”جی پلوشہ باجی سے تو بہت ہی دل ملتا ہے ان کا۔” بسمہ نے پھر شوخی سے لقمہ دیا۔
”یار اب دیکھو ناں! امی کی بات بھی ٹھیک ہے۔
ویسے بھی لے دے کے ایک ہی کزن ہے ہماری یہاں پر ورنہ پھوپھو اور تایا ابو دونوں ہی باہر ہیں۔ سالوں بعد ملاقات ہوتی ہے ان کے بچوں سے۔ایک خالہ امی کے گھر ہی آنا جانا ہوتا ہے ہمارا اور رومیلا دل کی بہت اچھی ہے ہاں بس تھوڑی شوباز ہے۔”پلوشہ نے فوراً امی کی تائید کرتے ہوئے وضاحت دی۔یوں بھی اس کا حساس دل ہر کسی کے لئے گداز ہی رہتا تھا۔ اور رومیلا سے تو پھر اس کے خاطر خواہ دوستانہ تعلقات تھے۔

”اچھا چلو اب جلدی سے کام ختم کرلو۔ سہہ پہر تک وہ لوگ آجائیں گے۔میں دہی پھلکیاں وغیرہ بنالیتی ہوں باقی لوازمات تم دونوں خود آکر تیار کر لینا۔”امی نے ہدایات دیتے ہوئے کہا اور باورچی خانہ کی طرف بڑھ گئیں اور وہ دونوں پھرتی سے کام نمٹانے لگیں۔
”آہا آج تو بہت مزے مزے کی خوشبوئیں آرہی ہیں لوگوں کے کچن سے، شاید کسی کو پہلے سے ہی الہام ہوگیا تھاکہ آنے کا مقصد کیا ہے۔
اس ہی لیئے تیاری بھی خاص الخاص ہو رہی ہے۔” رومیلا معنی خیزی سے بولتی ہوئی باورچی خانہ میں داخل ہوئی اور باورچی خانہ میں پھیلی ہوئی خوشبو اپنے اندر اتار کر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
”ارے تم کیوں یہاں بیٹھ گئیں؟ اندر چل کر بیٹھو نا۔۔۔کچن میں گرمی بہت ہو رہی ہے۔” پلوشہ نے مصروف انداز میں دوپٹے سے پسینہ پوچھا۔بات تو خاک بھی پلے نہیں پڑی تھی ا س کے سو نظرانداز کرتے ہوئے آدابِ میزبانی نبھائی۔

”اندر۔۔۔اندر تو امی اور خالہ باتوں میں لگی ہوئی ہیںاور ہماری بھابھی صاحبہ اپنی مرضی سے منہ لگاتی ہیں ہمیں۔” رومیلا نے منہ بناتے ہوئے کہا پھر اس کی طرف جھک کر رازداری سے گویا ہوئی۔”تمہیں پتہ ہے بھابھی کے ماموں امریکہ سے ان کے لیئے نیا مابائل فون لے کر آئے ہیں۔ پورے ڈیڑھ لاکھ کا موبائل ہے۔”
”اچھا ما شاءاللہ! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔
” پلوشہ نے سادہ سے انداز میں کہاتو رومیلا یک دم تنک گئی۔
”تم دونوں بہنیں تو دنیا سے بھی نرالی ہو۔۔۔صدا کی بھولی۔ نہ کسی فیشن کا شوق ہے اور نہ ہی زمانے کے ساتھ چلنا آتا ہے تم لوگوں کو۔”
”اب سبرینہ بھابھی کے نئے موبائل سے یا ان سے ہمارا اور اس زمانے کا کیا تعلق؟!”رومیلا کے بد لحاظی سے کہنے پر پلوشہ نے بھی دوبدو سوال کیا۔

باورچی خانے میں داخل ہوتی بسمہ بھی ان دونوں کی بحث کا آغاز سن چکی تھی تو وہ جلدی سے پلوشی کی طرف بڑھی۔” کول ڈا¶ن آپی!کول ڈا¶ن۔۔۔آپ ذرا ٹھنڈا پانی پیئں اور بیٹھیں۔ سب کام تو تقریباً ہو ہی گئے۔ اب تو بس ٹیبل سیٹ کرنی ہے، وہ میں کر رہی ہوں بلکہ آپ دونوں اندر جائیں اور پنکھے کی ہوا کھائیں۔۔۔اس سے دماغوں کی گرمی کم ہوگی۔”
”تمہیں نہیں پتا تماری تو ایسی ہی چلتی رہتی ہے اور اب میں نہیں سمجھا¶ں گی تو کون سمجھائے گا۔
ویسے اب اس کو رہنا تو ان ہی کے ساتھ پڑے گا نا۔”رومیلا نے بھی کندھے اچکاتے ہوئے بے نیازی دکھائی۔
” کیا کہا تم نے مجھے کیوں ان کے ساتھ رہنا پڑے گا۔دماغ تو نہیں چل گیا تمہارا؟” پلوشہ کرسی سے ایسے اچھلی جیسے کرسی کے کانٹے اگ آئے ہوں۔
” ہا ہا ہا ہا!!! یہ تو سرپرائز ہےتمہیں اندر جا کر پتا چلے گا۔میں تو تمہیں ہیڈ لائن سنانے آئی تھی لیکن اس سے پہلے بھابھی نے میرا موڈ خراب کر دیا۔
”رومیلا نے قہقہہ لگانے کے ساتھ ہی آنکھیں گھما گھما کر مزید سنسنی پھیلائی۔
رومیلا نے یہ بات کرکے اپنا منہ سجا لیا۔اب مطلب صاف تھا کہ جب تک رومیلا ساری غیبتیں مع مرچ مسالے کے اس کے گوش گزار نہیں کرے گی اور اپنی تعریفیں ازبر نہیں کروائے گی اس وقت تک اس کا منہ سوجا ہی رہے گا۔
”اچھا بابا۔۔۔بتا¶ کیا ہوا ہے؟” پلوشہ نے ٹھنڈی سانس بھری۔
بسمہ تو پہلے سے ہی برتن سیٹ کرنے کے لیئے باورچی خانہ سے جا چکی تھی۔
”ہاں تو میں یہ بتا رہی تھی تمہیں کہ بھابھی کے ماموں ان کے لیئے موبائل لے کر آئے ہیں”
”آگے”
”وہ بھی پورے ڈیڑھ لاکھ کا”
”پھر”
”پھر یہ کہ اندھا پیسا ہے بھئیان کے پاس تو اور رہتے بھی امریکہ مین ہیں۔ کیا پتہ حلال کا ہے بھی یا نہیں۔

”کچھ تو خدا کا خوف کرورومیلا کیوں کسی پر بہتان لگا رہی ہو۔”رومیلا کے آنکھیں مٹکا مٹکا کر سنائے جانے والے مفروضے پر پلوشہ نے فوراً ہی لتاڑاتھا اسے۔اس وجہ سے رومیلا کی گھوریوں میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔
”اچھا یہ سب تو تم بتا چکی ہو، اصل بات بتا¶، اس سب سے میرا کیا تعلق اور تمہیں کیوں مرچیں لگی ہوئی ہیں؟” پلوشہ نے ہاتھ اٹھا تے ہوئے پوچھا۔

”میں نے بھابھی سے کہا تھا کہ آپ کے پاس تو نیا موبائل آگیا، پرانا والا مجھے دے دیں۔ وہ بھی پورے پچھتر ہزار کا تھا۔ ابھی دو مہینے پہلے ہی تو بھائی نے ان کی سالگرہ پر گفٹ دیا تھا۔ لیکن انہوں نے ٹکا سا ضواب دے دیا۔ سمجھتی کیا ہیں اپنے آپ کو؟ ہم نہیں جانتے ان کے یہاں سب کو؟ سارا خاندان ہی دو نمبر ہے۔” رومیلا نے جھٹ سے دل کی بھڑاس نکالی۔

”تم اتنی سی بات کے لیئےدل چھوٹاکر رہی ہو۔وہ تو استعمال شدہ ہوگیا۔تمہارا اسٹینڈرڈ تھوڑی ہے دوسروں کی استعمال شدہ چیزیں لینے کا۔۔۔چھوڑو دفعہ کرو۔”پلوشہ نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔
”ہاں تو الحمد اللہ کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ میرا شوہر منہ سے نکلی ہر بات پوری کرتا ہے۔میں ہوں ہی اتنی سلجھی ہوئی اور نفیس۔ تمہیں تو پتا ہی ہے کہ میں کتنی اچھی ہوں، ہے نا؟ مگر میکے کی چیزوں کا تو مان ہی الگ ہوتا ہے۔
میری سسرال میں میری واہ واہ ہوجاتی کہ میرے بھائی بھابھی نے دیا ہے مجھے۔” رومیلا کے گلوگیر لہجے پر پلوشہ اپنا سر

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*