تازہ ترین

جھگڑا یا پیار

ثروت یعقوب····لاہور
ادریس احمد اور لطیف دو بھائی ہیں۔ادریس احمد لطیف سے تین سال چھوٹا ہے اور پڑھائی میں اُس سے دو سال پیچھے ہے۔لطیف ساتویں کلاس میں پڑھتا ہے۔دونوں کی عادتیں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔
لطیف کم عمر ہونے کے باوجود اکیلا رہنا پسند کرتا ہے اور بات چیت بھی کم کرتا ہے جبکہ ادریس احمد اتنا شرارتی ہے کہ گھر کے سب لوگ اُس کی شرارتوں سے تنگ رہتے ہیں۔تاہم پڑھائی میں دونوں بھائی بہت اچھے ہیں اور کلاس میں ہمیشہ فرسٹ آتے ہیں۔
اس لئے اُس کے پاپا اُس کی شرارتوں کے باوجود اُس سے خوش رہتے ہیں۔دونوں بھائیوں کے مزاج مختلف ہونے کی وجہ سے اُن میں اکثر جھگڑا بھی رہتا ہے۔
شرارتی ادریس احمد کو اپنے چھوٹے بھائی لطیف کو چڑانے میں بے حد مزا آتا ہے لیکن اُس کا مقصد لطیف کا دل دکھانا نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اُسے ہنسانے اور اُس سے کھیلنے کیلئے ایسا کرتا ہے جبکہ لطیف اتنا ناراض ہو جاتا ہے کہ کئی کئی دن تک اُس سے بات نہیں کرتا۔
اُن کے گھر کے نزدیک ایک بہت بڑا باغیچہ ہے جس میں آم، جامن اور امرود کے بہت سے درخت ہیں،اس باغیچے کی خاص بات یہ ہے کہ درخت ایک دوسرے سے بہت جڑے ہوئے ہیں،امرود کی ڈالیوں پر اکثر ہی ڈھیر سے طوطے اور چڑیاں بیٹھے ہوتے ہیں جنہیں دیکھنا لطیف کو بہت اچھا لگتا ہے۔
یوں بھی وہ شام کو باغیچے میں چلا جاتا ہے اور کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر طوطوں اور چڑیوں کو دیکھتا رہتا ہے،کہانیاں پڑھتا رہتا جبکہ ادریس احمد موقع پاتے ہی اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کیلئے گھر سے باہر نکل جاتا اور خوب شرارتیں کرتا۔
ایک دن دونوں بھائی کسی بات پر جھگڑ پڑے،نوبت مارپیٹ تک پہنچ گئی،حالانکہ جب لطیف غصہ میں آتا تو ادریس خاموش ہو جاتا ہے لیکن اُسے بھی پتا نہیں اُس دن کیا ہوا کہ وہ لطیف سے اُلجھ گیا اور اس دوران میں اتفاق سے پاپا بھی آگئے۔
اُنہوں نے دیکھا کہ ماں کے سمجھانے کے باوجود دونوں بچے لڑ رہے ہیں تو وہ بہت ناراض ہوئے۔اُنہوں نے کہا کہ میرے گھر میں نہ ہونے پر تم دونوں اس طرح لڑتے رہتے ہو؟آج تو میں ہوں کل نہیں رہوں گا،تو کیا اسی طرح سے لڑو گے پھر تمہیں کون سمجھانے آئے گا؟
پاپا کی بات کا ادریس پر اتنا اثر ہوا کہ وہ بدل ہی گیا۔
وہ لطیف سے زیادہ خاموش اور اکیلا رہنے لگا۔لطیف کو ادریس کا بدلا ہوا یہ روپ کچھ اچھا نہیں لگا۔وہ سوچنے لگا بھائی کا رویہ میرے ساتھ ایسا تو نہیں تھا،وہ تو چڑیوں کی طرح ہمیشہ چہکتا رہتا تھا،یقینا میری وجہ سے ہی یہ سب ہوا ہے۔
اُس کو پہلی مرتبہ یہ محسوس ہوا کہ ادریس کی شرارتوں کی وجہ سے ہی گھر میں رونق لگی رہتی ہے۔اُس نے اپنے گھر میں ایسی اُداسی کبھی نہیں دیکھی تھی۔یہ سوچتے سوچتے وہ باغیچے کی طرف بڑھا۔اچانک اُس کی نظر پاس والے امرود کے درخت پر پڑی۔
اُس نے دیکھا کہ ایک طوطا اپنی چونچ سے اپنے بچے کو امرود کھلا رہا ہے،یہ دیکھ کر اُس کو اپنی ماں کی یاد آگئی۔تب ہی آسمان کالے کالے بادلوں سے گھر گیا اور زور دار آندھی کے آثار بننے لگے۔دیکھتے ہی دیکھتے ہوا تیز ہو گئی اور ایک چھوٹا پیڑ اپنے بغل کے بڑے پیڑ کے سہارے تیز ہوا کا مقابلہ کرنے لگا۔
لطیف کو محسوس ہوا کہ یہ بڑا پیڑ کوئی اور نہیں ادریس احمد ہے۔وہ تیزی سے دوڑتا ہوا گھر آیا اور ادریس احمد سے لپٹ کر رونے لگا۔ادریس احمد نے اُس کی آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا،بھائی ادریس احمد ہم پھر جھگڑیں گے کیونکہ پیار ہو تو جھگڑا بھی پیار لگتا ہے۔ اُن دونوں کو خوش دیکھ کر اُن کے ممی پاپا بھی مسکرانے لگے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*