جنوبی ایشیا میں اہم سرگرمیاں …امریکہ کے پاس وقت کم

سردار آصف احمد علی
خطے کے ممالک میں اہم پیش رفت ہو رہی ہیں جس کے باعث چین پاکستان،ایران، افغانستان، روس اور ترکی میں سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ امریکہ اور بھارت بھی اپنے مفادات کے حوالے سے نئی چالوں میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں روس کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا، روسی وزیر خارجہ کے دورہ کو اہم گردانا جا رہا ہے لیکن اگر ہم ماضی میں جھانکیں تو ہمیں صرف ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان اور روس کے تعلقات میں گہرائی آئی تھی اس دور میں کراچی میں سٹیل مل لگائی گئی دیگر منصوبے بھی لائے گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو بیرونی دفاعی معاہدوں سیٹو اور سینٹو سے باہر نکالا جس سے پاکستان ایک غیر جانبدار ملک بن کر سامنے آیا۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے اپنی ترجیحات کو تبدیل کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ تمام ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنایا جائے۔ ڈیفنس کے معاملے میں بھی تعاون کی بات آگے بڑھی اس زمانہ میں روس کے ساتھ تعلقات میں کافی گہرائی آئی اسکے بعد پاکستان وقتاً فوقتاً کوششیں کرتا رہا میں خود بطور وزیر تجارت اور وزیر خارجہ متعدر بار ماسکو گیا باتیں تو بہت اچھی ہوتی رہیں لیکن روس کے ساتھ تعلقات کا کوئی بڑا بریک تھرو نہ ہو سکا۔ اسکی بنیادی وجہ افغانستان میں پاکستان کا کردار بہت بڑی رکاوٹ بنتا رہا۔ مسئلہ افغانستان دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی و نفسیاتی رکاوٹ بنا رہا۔ اسکے برعکس بھارت نے روس میں اپنی مضبوط جڑیں قائم کر رکھیں ہیں۔ اس کا روس کی اسٹیبلشمنٹ اور سیاست میں کافی اثر و رسوخ ہے۔ پاکستان نے کچھ عرصہ سے روس کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کیلئے نئے دور کا آغاز کیا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان کی کوششوں اور پیش رفت کو بھارت کا روس کے اہم حلقوں میں دیرینہ اثر و رسوخ زائل کر دیتا ہے اور اور یہ کوششیں پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتیں۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روس نے بھی نئے سرے سے معاملات کو چلانے کی کوششیں کیں وہ کئی اہم کانفرنسیں بھی کروا چکا ہے، ابھی حال ہی میں افغانستان بارے ہاٹ آف ایشیا کانفرنس کروائی لیکن افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے روس کا کوئی بہت زیادہ سرگرم کردار نظر نہیں آتا۔ روس کے سربراہ بھی پاکستان نہیں آئے، البتہ انکے وزیر خارجہ کے دورہ کے موقع پر انکے سربراہ کو دعوت دی گئی ہے۔ اگر پیوٹن پاکستان کا دورہ کرتا ہے تو یہ اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ انکے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان میں پائپ لائن کی تعمیر پر بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کرونا ویکسین کی تیاری کے حوالے سے مدد کا اعلان کیا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں بھی ہوتی ہیں لیکن ان کے دورہ پاکستان سے کوئی بڑی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔ ابھی تک روس کا کردار نمایاں نظر نہیں آتا۔ اللہ کرے کہ اس میں بہتری آ جائے، روس ایک بڑی طاقت ہے پاکستان کو بڑے ملکوں کی حمایت کی ضرورت ہے۔
جہاں تک تعلق ہے کہ روس افغانستان میں امن کیلئے کیا کردار ادا کر سکتا ہے تو روس کا افغانستان کے کچھ علاقوں پر اثر و رسوخ ہے، لیکن وہ اتنا نہیں کہ روس افغانستان سیاسی حالات پر بہت زیادہ اثرانداز ہو سکتے البتہ روس ایران کے ذریعے افغانستان میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے اور اب روس ایران کے ذریعے افغان معاملات پر اثرانداز ہونے کی کوششیں بھی کریگا۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو بھارت براہ راست افغانستان پر اثر و رسوخ نہیں رکھتا۔ وہ افغانستان کو اسلحہ دیکر وہاں کے لوگوں کو پیسے دیکر اپنا اثر و رسوخ، استعمال کرتا ہے۔ اسکے برعکس پاکستان کا افغانستان میں براہ راست تعلق ہے۔ پاکستان افغان معاملات میں بہت زیادہ ملوث ہے۔ پاکستان کے کردار کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ خطے میں دوسری بڑی ڈویلپمنٹ چین کے ایران کے ساتھ معاہدے ہیں جو کہ پاکستان کیلئے بھی خوش آئند ہیں۔ جیسے چین نے پاکستان کے ساتھ سی پیک کا معاہدہ کیا ہے۔ ویسا ہی چین نے ایران کے ساتھ 20 سالہ معاہدہ کیا ہے جس میں چین ایران سے تیل بھی لے گا اور اسے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے میں بھی شامل کریگا۔ چین نے 400 ارب ڈالر کے بہت بڑے معاہدے کئے ہیں۔ اس سے ایران، افغانستان، پاکستان، ترکی اور روس کے ساتھ رابطے میں آجائیگا۔ اس سے علاقے میں بے پناہ حرکت ہوگی۔ تجارت بھی ہوگی۔ دوسری اہم بات یہ ہے جس کی وجہ سے چین نے ایران کے ساتھ معاہدے کئے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن جب اوما کے نائب صدر تھے تو انہوں نے ایران کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ دنیا سمجھ رہی ہے کہ جو بائیڈن اخلاقی اور سیاسی طورپر اس معاہدے کو بحال کریگا۔ دنیا سمجھتی ہے کہ ایران اب کھلنے والا ہے۔ چین نے بھی یہ سمجھا اور یورپ بھی یہی سمجھ رہا ہے۔
چین نے اس وجہ سے ایران سے معاہدہ کرے ایران پر اعتماد کیا ہے۔ امریکہ ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی طرف آرہا ہے، لیکن ایران نے کہا ہے کہ ہم نے 2015ءمیں ہونیوالے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی۔ امریکہ نے کہا ہے امریکہ نے ایران کے ساتھ بات چیت کا آغاز غلط طریقے سے کیا ہے۔ ایران نے صاف صاف کہ دیا ہے کہ 2015ءکے معاہدے پر واپس آئیں۔ بالآخر امریکہ کا ایران کے ساتھ معاہدے ہو جائیگا ایران دنیا کیلئے کھلے گا پھر ایک بڑی تبدیلی آئیگی۔ ایمان نیوکلیئر پاور بننے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اسرائیل اور سعودی عرب ایران کے ایٹمی قوت بننے کے راستے میں رکاوٹ بنیں گے، لیکن ایران نے سینٹری فیوجر جسے آر نائن (R-9) کہتے ہیں اس کو ٹیسٹ کر لیا ہے۔ اگر امریکہ کا ایک دو سالوں میں معاہدہ نہ ہوا تو ایران ایٹمی طاقت بن جائیگا۔ امریکہ کے پاس اس حوالے سے وقت بہت کم ہے کیونکہ اگر ایران میں آئندہ ہونیوالے انتخابات میں سخت گیر حکومت آگئی، انتہاپسند حکومت آگئی تو وہ ایران کے ساتھ معاہدے نہیں کریگی۔ ایسی صورت میں اس خطے میں ایک اور نیوکلیئر پاور وجود میں آجائیگی۔ امریکہ کو اس پر تشویش ہے، لیکن اسکے پاس فیصلہ کرنے کیلئے وقت بہت کم ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*