تازہ ترین

جناب صدر ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی!!!!!

محمد اکرم چودھری
صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا عمران خان کے سیاسی تدبر پر ان کی شاگردی اور مریدی اختیار کرے۔ جناب صدر آپ کے پاس عہدہ ہے، مائیک ہے، آپ کے پاس ذرائع ہیں آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن جناب صدر میں پاکستان کے ایک عام شہری کا کیس لے کر آپکی خدمت میں پیش ہوا ہوں۔ جناب صدر امید ہے آپ کو برا لگے گا لیکن کیا کروں بات کرنا ضروری ہے آپ نے جوش خطابت میں کہا یا ارادتاً اظہار کیا کہ دنیا کو سیاسی تدبر پر وزیراعظم عمران خان کی شاگردی اور مریدی اختیار کرنی چاہیے یہ بات ایک جماعت کے مخلص اور وفادار سیاسی کارکن کے تو ہو سکتے ہیں لیکن یہ ایک عام شہری ہے جذبات ہرگز نہیں ہو سکتے۔ جناب صدر دنیا وزیراعظم عمران خان کی شاگردی یا مریدی بھلے اختیار نہ کرے لیکن ان ووٹرز کو کیا کرنا چاہیے جو سڑکوں پر دھکے کھاتے رہے اور تحریکِ انصاف کو اقتدار میں لانے کے لیے موسموں کی سختیاں برداشت کرتے رہے کیا ان لوگوں سے آپ نے پوچھا ہے کہ وہ شاگردی یا مریدی اختیار کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، یا پھر کیا آپ نے پاکستان کے شہریوں سے پوچھا ہے کہ وہ یہ اعزاز حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا تو بہت بعد میں آئے گی جن لوگوں کے ووٹوں سے آپ صدر اور عمران خان وزیراعظم بنے ہیں ان کی رائے لیں یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
جناب صدر سفارتی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کی حقیقت سے آپ بخوبی واقف ہیں، وہ کامیابیاں کس وجہ سے ہیں، کس کی کوششوں سے ہیں، کس کی محنت سے ہیں، کون ان منصوبوں پر دن رات محنت کرتا رہا ہے آپ بہتر جانتے ہیں
پہکن پھر بھی چونکہ آپ کی جماعت حکومت میں ہے کریڈٹ آپکو بھی جاتا ہے لیکن اگر کوئی حکومت بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ مصروف بھی ہو تو کیا وہ عوام کو بھول جاتی ہے، کیا وہ عام آدمی کی ضروریات کی ذمہ دار نہیں رہتی، کیا تمام وزرائ، مشیران کرام اور ساری کی ساری حکومت ہی بین الاقوامی سطح پر مصروف ہے یا کچھ لوگ عوام کے لیے بھی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی توجہ اگر صرف بین الاقوامی سطح پر ہے تو ملک کے کروڑوں لوگوں کی خبر کون لے گا۔ جناب صدر کیا آپ جانتے ہیں کہ ملک میں غربت بڑھی ہے، ملک میں غریب بڑھے ہیں، ملک میں بھوک بڑھی ہے، ملک میں بیماری بڑھی ہے، ملک میں وسائل کم ہوئے ہیں، عام آدمی کی زندگی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، ملک میں پاکستان تحریکِ انصاف کے شاگردوں اور مریدوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، جناب صدر ادویات اتنی مہنگی ہوئی ہیں کہ عام آدمی تکلیف میں ہے لیکن دوائی خریدنے کے قابل نہیں، جناب صدر ہسپتالوں میں غریبوں کو دستیاب سہولیات واپس لے لی گئی ہیں، جناب صدر مرنا جینے سے زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ جناب صدر آپ دنیا کو شاگردی اور مریدی اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں کچھ اپنے غریبوں کی بھی سن لیں، کچھ ان پر بھی رحم کر دیں۔
جناب صدر کیا آپ کے علم میں ہے کہ چند روز قبل یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائ خوردونوش کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ یہاں قیمتوں میں اضافے کا مطلب ہے کہ عام دکانوں یا سٹورز پر اس سے بھی زیادہ مہنگائی ہو گی جناب صدر کسی مرید سے کہیں کہ وہ اس مہنگائی کا بندوبست کرے اور کچھ نہیں تو یوٹیلٹی سٹورز پر ہی قابو پا لے۔ایک شائع ہونے والی خبر کے مطابق مہنگائی کے اس نئے طوفان میں گھی 96 روپے فی کلو تک مہنگا ہو گیا، کوکنگ آئل کے نرخوں میں 97 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق یوٹیلٹی سٹورز پر مہنگائی کا ریلاآ گیا، مختلف اشیاءکی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا۔ مختلف برانڈز کے گھی کی قیمتوں میں 96 روپے تک فی کلو اضافہ کیا گیا ہے، مختلف برانڈز کا کوکنگ آئل 97 روپے تک فی لیٹر مہنگا کردیا گیا۔ کارن کوکنگ ا?ئل 370 روپے تک فی لٹر مہنگا کیا گیا ہے۔ کارن کوکنگ آئل کی قیمت 500 سے بڑھ کر 870 روپے فی لٹر ہوگئی۔ ٹی وائٹل کی 1.2 کلوگرام قیمت 40 روپے تک بڑھادی گئی، کسٹرڈ، کھیر سمیت مختلف سویٹ ڈش کے چھوٹے ڈبے 10 روپے تک مہنگے کر دیئے گئے، فیس کریم کی 50 گرام قیمت میں 40 روپے تک کا اضافہ کیا گیا، ٹشو ڈبہ 15 روپے اور ٹشو رول 5 روپے تک مہنگا کردیا گیا۔ کالی مرچ کے ڈبے کی قیمت 10 روپے تک بڑھا دی گئی، چلی، گارلک کی قیمتوں میں بھی اضافہ صابن، ٹی مکس، کلینر کی قیمتیں بھی بڑھادی گئیں۔ جناب صدر کیا اس ملک کے عوام پر بھی کوئی رحم کرے گا ہم آپکی شاگردی اور مریدی میں آجاتے ہیں شرط یہ ہے کہ عام آدمی کو سانس لینے کا حق تو دیں۔
جناب صدر اب آپکی خدمت میں وفاقی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار پیش کرتا ہوں امید ہے آپ کو برا لگے گا لیکن یہ سرکاری اعدادوشمار ہیں جن سے میں اتفاق نہیں کرتا لیکن بہرحال حوالے کے طور پر تو پیش کیے جا سکتے ہیں۔ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1.37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح 13.64 فیصد ہوگئی جبکہ کم آمدن والے افراد کیلئے مہنگائی کی شرح 17.20 فیصد پر پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں 24 اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور 5 اشیاءکی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 22 میں استحکام رہا۔ آٹے کا 20 کلو کا تھیلا اوسط 57 روپے 85 پیسے مزید مہنگا ہوگیا جس سے 20 کلو تھیلے کی اوسط قیمت 1222 روپے 7 پیسے ہوگئی۔ زندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں 15 روپے 27 پیسے اضافہ ہوا جس سے قیمت 214 روپے 47 پیسے ہوگئی جبکہ گھی پونے 5 روپے مہنگا ہوا جس سے گھی کی اوسط قیمت 342 روپے 66 پیسے ہوگئی۔ پیاز کی فی کلو قیمت میں 11روپے 92 پیسے، ٹماٹر 11 روپے 36 پیسے، آلو 68 روپے، لہسن 3 روپے 63 پیسے، دال مسور 3 روپے 65 پیسے، انڈے 6 روپے 29 پیسے اور بیف 6 روپے 10 پیسے فی کلو مہنگا ہوا۔ اس کے علاوہ تازہ دودھ، دہی، مٹن، دال چنا اور دال ماش بھی مہنگی ہوئی۔
جناب صدر اس کے علاوہ بھی آپ کی خدمت میں کئی چیزیں پیش کی جا سکتی ہیں جیسا کہ نان اور روٹی کی قیمت میں اضافہ لیکن یہ آئندہ نشست پر رکھتے ہیں اس دوران میں کوئی ایسا مرید ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں جو یہ سمجھ سکے کہ عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے شاید یہ آواز آپ تک پہنچ جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*