تازہ ترین

جمہوریت کس کی باندی!!!

محمد اکرم چودھری
وزیراعظم عمران خان ملک میں آئندہ عام انتخابات سے پہلے بلدیاتی انتخابات کے حق میں وہ یہ چاہتے ہیں کہ عام انتخابات سے کم از کم اٹھارہ ماہ پہلے بلدیاتی انتخابات ہو جائیں اور پھر پورے ملک میں ترقیاتی کام بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے ہوں، کسی رکن قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی مداخلت نہ ہو، نہ ہی کوئی سیاستدان ان منصوبوں پر اپنی سیاست کر سکے بلکہ عوام کے منتخب اور مقامی نمائندے ہی علاقے میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی کریں۔ وزیراعظم عمران خان بلدیاتی انتخابات آئندہ عام انتخابات کو سامنے رکھتے ہوئے نہیں کروانا چاہتے بلکہ وہ ملک میں ایک نئی طرز سیاست کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ عمران خان مضبوط، متحرک اور ا?زاد بلدیاتی نظام کے حامی ہے اور وہ یہ برسوں سے کہہ رہے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے لیے وزیراعظم اپنے سیاسی کھلاڑیوں سے بات چیت بھی کر رہے ہیں۔ سیاسی رفقائ نے وزیر اعظم عمران خان کو فوری طور پر بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے سیاسی دوستوں نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ اس وقت ملک میں مہنگائی بے قابو ہے۔ اشیائ خوردونوش کی قیمتوں میں بیپناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ جب تک ملک میں معاشی صورتحال اس طرح نہیں ہوتی کہ عام ا?دمی کی زنگی ہر فرق نہ پڑ جائے۔ عام ا?دمی کے مسائل کم نہ ہو جائیں اس وقت تک انتخابات کا انعقاد حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اچھے بھلے ووٹرز بھی پی ٹی آئی کو نظر انداز کر دیں گے۔ ووٹ ملنا مشکل ہو جائیں گے لیکن وزیراعظم عمران خان قائل ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہی پائیدار جمہوریت کی بنیاد ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ عام انتخابات سے قبل ایک انتخابی میدان لگ جائے۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کو اس حوالے سے تیار بھی کر رہے ہیں۔
یہ تو بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جوش و جذبہ ہے لیکن دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی الیکشن کے سلسلے میں مسائل کا سامنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر الیکشن کمشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کو ایک سال کا وقت دے دیا ہے۔ گوکہ جماعت کے لیے یہ فیصلہ تسلی بخش قرار دیا جا سکتا ہے لیکن پارٹی کی سطح پر انتخابات میں مسائل جمہوری نظام کی کمزوری یا پھر جمہوریت کی غلامی کا اظہار ہے۔ پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہی انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد ہے۔ جماعت اسلامی کے سوا تمام بڑی سیاسی جماعتیں انٹرا پارٹی انتخابات میں ہیرا پھیری کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نعرے لگاتی ہیں لیکن خود جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے محروم دکھائی دیتی ہیں۔ یہ انتخابات ویسے بھی نمائشی ہی ہوتے ہیں جہاں بڑے صاحب کا دل کرتا ہے جیسے دل کرتا ہے ویسے ہی انتخابات کا اعلان ہوتا ہے اور ویسے ہی نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ مشق مکمل طور پر غیر جمہوری ہے۔ اگر ملک میں جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے بلدیاتی نظام کا ہونا ضروری ہے تو سیاسی جماعتوں میں آزاد اور شفاف انتخابات کا انعقاد اس سے بھی زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کی سطح پر بھی انتخابات کے لیے ایسا ماحول ضرور ہونا چاہیے کہ ہر شخص انتخابات میں حصہ لینے کی جرات کر سکے اور پارٹی ممبران بڑے صاحب کے علاوہ کسی اور کو بھی قائد منتخب کر سکیں۔ سیاسی جماعتوں کے انتخابات کی سطح پر تبدیلی حقیقی جمہوری تبدیلی ہو گی۔ موجودہ صورت حال کو دیکھا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ جمہوریت سیاسی رہنماوں کی باندی بنی ہوئی ہے وہ جیسے چاہتے ہیں استعمال کرتے ہیں۔ اگر پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو پی ٹی ا?ئی کے اندرونی انتخابات کے حوالے سے بھی انہیں ایسی ہی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نئی مثال قائم کرنی چاہیے۔ ویسے بھی ان دنوں وہ ایک متحرک سیاسی کارکن کی طرح کام کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ملاقاتیں کر رہے ہیں، لوگوں کو متحرک کر رہے ہیں ان حالات میں انہیں لوگوں کو سیاسی شعور دینے کے لیے بھی کردار ادا کرنا ہو گا۔
جنگلات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان حقیقی معنوں میں قومی خدمت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں یہ ایک ایسا اہم شعبہ ہے جس پر کبھی منظم انداز میں اور حکومتی سطح پر کام نہیں کیا گیا یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ دیگر منصوبوں کی طرح خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن اس منصوبے کے ا?غاز اور اس میں دلچسپی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔ درختوں کی حفاظت اور جنگلات کے منصوبے ناصرف ملک و قوم کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ ان منصوبوں سے نوجوانوں میں احساس ذمہ داری بھی پیدا ہو گا۔ حکومت کا یہ فیصلہ قابل تعریف ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں عام ہیں۔ اس اضافے کو پاکستان پیپلز پارٹی نے مسترد کیا ہے۔ ویسے ان کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ وہ قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرنے کے علاوہ کیا کر سکتے تھے۔ بہرحال یہ اضافہ تکلیف دہ بھی ہے اور افسوسناک بھی ہے لیکن حکومت کے بس کی بات نہیں۔ موجودہ حکومت کے لیے مہنگائی دہشت گردی سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ خبر یہ بھی کہ روس کے صدر کے پیوٹن نے وزیراعظم عمران خان کو فون کر کے افغانستان ہے حالات پر گفتگو کی ہے۔ میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ خطے میں نیا بلاک قائم ہوا ہے۔ افغان طالبان روس، چین، ایران اور پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان کو جنگ کی تباہ کاریوں سے نکال کر تعمیر و ترقی کا نیا سفر شروع کرنا چاہتے ہیں۔ روسی صدر پیوٹن کی وزیر اعظم عمران خان سے بات چیت خوش آئند ہے۔ تاہم طالبان کو اندرونی طور پر سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی تاکہ خانہ جنگی سے بچا جا سکے اور جنگ میں مزید وقت ضائع کرنے کے بجائے وقت اور سرمایہ افغانستان کی تعمیر و ترقی پر خرچ ہو سکے۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*