تازہ ترین

جب ایک قوم کی اخلاقیات ختم ہوتی ہیں تو وہ ختم ہوجاتی ہے،عمران خان

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے سابق چیف جسٹس کی مبینہ آڈیو اور دیگر سامنے آنے والی دستاویزات کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ بتادیں لندن فلیٹس کے پیسے کہاں سے آئے، پہلے اسمبلی میں جھوٹ بولا، پھر قطری خط آگیا، وہ فراڈ نکلا، پھر کلیبری فونٹ آگئی وہ بھی فراڈ نکلی،ملک کا اصل مسئلہ کرپشن ہے،افسوس ہے ایک سزا یافتہ ملزم سے ججز کی کانفرنس میں تقریر کرائی گئی، جب میں سیاست میں آیا تو 14 سال تک میرا مذاق اڑایا گیا ، کہاگیا دو پارٹی نظام ہے اور تیسری پارٹی نہیں آسکی جب وہ پارٹی آگئی تو تین سال سے سن رہا ہوں تم فیل ہوجاو¿ گے،خواب جتنا بڑا ہوگا اتنا بڑا انسان ہوگا، اللہ نے انسان کو طاقت دی ہے، جتنا خود کو آزماو¿گے، چیلنجز کاسامنا کروگے اتنا بڑے انسان بنتے جاو¿گے،جب تک ہم اپنا اخلاقی معیار اوپر نہیں اٹھائیں گے، ہم ادھر نہیں پہنچ سکتے جہاں ہمیں پہنچنا چاہیے ۔بدھ کو یہاں کامیاب نوجوان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب میں سیاست میں آیا تو 14 سال تک میرا مذاق اڑایا گیا اور کہاگیا کہ دو پارٹی نظام ہے اور تیسری پارٹی نہیں آسکی جب وہ پارٹی آگئی تو تین سال سے سن رہا ہوں تم فیل ہوجاو¿ گے۔انہوںنے کہاکہ سب اپنی نظروں سے پاکستان کو ایک عظیم قوم بنتے ہوئے دیکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ جس کو دنیا میں کامیاب ہونا ہے، کوئی بھی محنت کے بغیر کامیاب نہیں ہوا، کامیابی کا راز یہ ہے کہ بڑی سوچ رکھنا، خواب جتنا بڑا ہوگا اتنا بڑا انسان ہوگا، اللہ نے انسان کو طاقت دی ہے، جتنا خود کو آزماو¿گے، چیلنجز کاسامنا کروگے اتنا بڑے انسان بنتے جاو¿گے۔وزیراعظم نے کہا کہ کامیاب وہ نہیں ہوتا جو ذہین ہوتا ہے بلکہ کامیاب وہ ہوتا ہے جو بڑی سوچ، بڑا خواب رکھتا ہے اور اس کے بعد ہار نہیں مانتا ہے، جتنی اوپر سوچ رکھیں گے، اتنی زیادہ مایوسیاں آئیں گی، انسان کے کردار کی پہچان برے وقت میں ہوتی ہے، مشکل وقت میں پتہ چلتا ہے کہ انسان کا کتنا کریکٹر ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج کل ٹیپس کی بات ہو رہی ہے، ٹیپس نکل رہی ہیں، ججوں کے نام آرہے ہیں،عدلیہ اور فوج کو برا بھلا کہا جارہے، میں نے 25 سال پہلے کہا تھا پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹیپس سارا ڈراما ہے، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے جس ملک کے اندر ان کا سربراہ اور وزیراعظم چوری شروع کردیں، ملک کے پیسے کو چوری کرکے باہر لے جانا شروع کردیں۔انہوںنے کہاکہ قومیں وسائل کی کمی سے غریب نہیں ہوتیں، قومیں اس لیے غریب ہوتی ہیں جب ان کے سربراہ، وزیراعظم اور وزرا چوری کرتے ہیں تو وہ ملک کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔عمران خان نے کہا کہ 2016 میں پاناما کیس آیا، دنیا میں جنہوں نے اپنا پیسہ چھپا کر آفشور اکاو¿نٹس میں رکھے تھے، ان کا نام آیا، ان میں سے ایک نام آیا لندن کے مہنگے ترین علاقے میں فلیٹ ہیں اور ان کی مالکہ مریم صفدر تھیں۔انہوں نے کہا کہ بات یہاں سے شروع ہوئی، اس کے بعد عدالت میں کیس گیا، اس کے بعد جے آئی ٹی بنی اور پھر سپریم کورٹ میں آیا اور فیصلہ کیا گیا کہ نواز شریف کو سزا ہوگئی۔انہوںنے کہاکہ عدالتوں اور پاکستانیوں کو لندن میں 4 فلیٹس کے پیسے کہاں سے آئے یہ بتانے کے بجائے پہلے مجھے کیوں نکالا، عدلیہ کو برا بھلا، پھر پاکستانی فوج کو برا بھلا اور مجھے تو وہ بہت ظالم کہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ جواب دیں کہ آپ نے یہ 4فلیٹس لیے کدھر سے، ساری چیزیں کر رہے ہیں تاہم جواب نہیں دے رہے ہیں، میرے اوپر کیس کیا، میرا لندن میں فلیٹ تھا تاہم سپریم کورٹ میں 40 سال پرانے معاہدے کے کاغذات دئیے جبکہ میں تو عہدیدار نہیں تھا ایک کھلاڑی تھا اور عدالت نے جو مانگا وہ میں نے دے دیا، 10 مہینے لگے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے اسمبلی میں جھوٹ بولا، پھر قطری خط آگیا، وہ فراڈ نکلا، پھر کلیبری فونٹ آگئی وہ بھی فراڈ نکلی اور ابھی تک وہ ایک کاغذ نہیں دے سکے کہ لندن کے فلیٹ کن پیسوں سے لیے گئے کیونکہ چوری کا پیسہ تھا۔انہوںنے کہاکہ اب سارے اداروں کو برا بھلا لیکن افسوس اس چیز کا ہے، لاہور میں ایک تقریب ہوتی ہے، وہاں سپریم کورٹ کے ججوں کو بلایا جاتا ہے اور ادھر جس کو سپریم کورٹ نے سزا دی ہے، جو جھوٹ بول کر ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے، وہ تقریر کر رہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ قوم کبھی پیسہ چوری سے ختم نہیں ہوتی، لیکن قوم تب تباہ ہوتی ہے جب چوری کو برا نہیں سمجھا جاتا، جب ایک قوم کی اخلاقیات ختم ہوتی ہے تو قوم ختم ہوجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ قوم وہ قوم بننے جارہی جس کا آپ ابھی تصور نہیں کرسکتے، اللہ نے اس قوم کو سب کچھ دیا ہوا ہے، مجھے کوئی شک نہیں یہ قوم عظیم قوم بنے گی۔عمران خان نے کہا کہ جب تک ہم اپنا اخلاقی معیار اوپر نہیں اٹھائیں گے، ہم ادھر نہیں پہنچ سکتے جہاں ہمیں پہنچنا چاہیے، اس لیے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی ہے تاکہ نبی کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں اور ان کی سیرت زندگیوں میں لاگو کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عثمان ڈار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، عثمان ڈار نے محنت کےساتھ جنون سے کام کیا، بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ کچھ نہیں ہوگا لیکن عثمان محنت کرتا رہا، کامیاب جوان پروگرام ہمارے منصوبوں میں سب سے زیادہ کامیاب ہوگا، 9سال کا تھا تو اپنی والدہ کے ساتھ لاہور اسٹیڈیم میں ٹیسٹ میچ دیکھنے گیا تھا، اپنی والدہ کو کہا کہ میں ٹیسٹ کرکٹر بننا چاہتا ہوں، سب نے مجھے کہا کہ تم ٹیسٹ کرکٹر نہیں بن سکتے، میں نے محنت کی غلطیوں سے سیکھا اور اللہ نے مجھے کامیابی عطا کی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*