تازہ ترین

ثقافت ، سیاحت ، کھیل و اُمورِ نوجوانان کے شعبوں میں حکومت بلوچستان کی تین سالہ کارکردگی وزیر اعلیٰ کی ذاتی دلچسپی اور حکومتی اداروں کا فعال کردار

تحریر: ۔ نورخان محمد حسنی
موجودہ صوبائی مخلوط حکومت نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی کی قیادت میں صوبے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مختلف شعبوں میں مربوط اقدامات کے ذریعے عوام کو بہتر سہولتوں کی فراہمی، معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں پائیدار ترقی کو وسعت دینے کا آغاز کردیا ہے۔ ان اقدامات کے ثمرات بہت جلد عوام کو خوشگوار تبدیلی کی صورت میں نظر آئیں گے۔بہتر منصوبہ بندی، سرکاری ترقیاتی فنڈز کے مﺅثر استعمال کے ذریعے مثبت نتائج کا حصول موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ایسے شعبے جن کی اہمیت مسلّم ہے اور ماضی میں ان کو بوجوہ نظر انداز کیا گیا ان پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ان میں ثقافت، سیاحت، کھیل اور امورِ نوجوانان کے شعبے شامل ہیں۔
بلوچستان اپنے محل وقوع ، جغرافیائی ساخت ، قدیم تہذیبی ورثے کی وجہ سے دنیا بھر کے لئے پر کشش خطہ ہے ۔ ایک طرف وہ معدنی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ۔ تو دوسری جانب اپنے جغرافیائی محل وقوع کے پیش نظر دنیا کی تین بڑی تہذیبوں وسطی ایشیاء، میسوپوٹیمیا اور انڈس ویلی کے سنگم پر واقع ہے ۔ اگر ہم اس خطے کی تاریخی و تہذیبی پس منظر پر نظر ڈالیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ یہ خطہ اپنی موزوں قدرتی موسمی خصوصیات کی وجہ سے انسانی آبادی کے لئے ہمیشہ پرکشش رہا ہے جہاں پانی کے وسائل موجود رہے ہیں وہاں آبادی کے آثار ملتے ہیں ۔ سلیمان رینج میں22ہزار قبل مسیح سے 12ہزار قبل مسیح تک ڈھکے ہوئے غاروں اور پتھروں پر پینٹنگزکی دریافت ہو یا وادی بولان کے دھانے پر ہزاروں سال قبل مسیح کی مہر گڑھ تہذیب ۔ بلوچستان اپنی منفرد تہذیبی رنگا رنگی اور ثقافت کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ ان تہذیبی نشانیوں کے ساتھ ساتھ صوبے میں سینکڑوں ایسے نا دریافت کر دہ گوشے ہیں جن کو تلاش کرنے اور ان کی حفاظت کا انتظام کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مہر گڑھ تہذیب نہ صرف وسطی ایشیاءبلکہ دنیا کی اس وقت کی تہذیبوں سے زیادہ ترقی یافتہ اور انڈس ویلی سولائزیشن کے ماتھے کا جھومر تھاجہاں لوگ جانوروں کو پالتو بنانے کا ہنر جانتے تھے اور کھیتی باڑی سے واقفیت رکھتے تھے ۔ انسانی ارتقاءکی تاریخ اور تہذیبوں کے سفر میں بلوچستان ایک منفرد او رجداگانہ حیثیت کا حامل ہے ۔ یہاں ابتدائی پتھر کے زمانے کے آثار کے ساتھ ساتھ اپنے وجود کو برقرار رکھنے اور ترقی کے لئے انسانی کوششوں کے نشانات بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ یہاں کا ثقافتی ورثہ اتنا قدیم ہے جتنا کہ خود انسان کے اپنے ارتقائی منازل …. صوبہ بلوچستان میں جابہ جا ما قبل از تاریخ،نیم تاریخی دور اور بعدازتاریخ دور کی آبادیوں کا سراغ ملتا ہے ۔ اب تک جتنے بھی آثار دریافت کئے گئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ انسان یہاں ہر دو رمیں اپنی سر گرمیوں کے ذریعے اپنے وجود کو تراشنے میں محو رہاہے ۔ڈاکٹر عبدالرزاق صابر” بلوچستان کا تہذیبی سفر ایک تاثر“کے عنوان سے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ بلوچستان کو قدرت نے جہاں اور بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے ۔ وہاں اس صوبے کے قدیم آثار خاص طور پر مہر گڑھ کے آثار جو سبی سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں ۔ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ۔ان نو ہزار سال قدیم آثار پر پہلے 1975ءمیں فرانس کے ماہرین آثار قدیمہ جے ایف جیرج اور کھیترین جیرج نے تحقیقاتی کام شروع کیا اور اب تک مہر گڑھ تہذیب کے سات مدارج دریافت کئے گئے ہیں ۔ مہر گڑھ تہذیب جنوبی ایشیاءمیں واحد خطہ ہے جہاں جانوروں کو پالتو بنانے کا سلسلہ شروع ہوا اور جہاں انسان نے تہذیبی تاریخ میں پہلی دفعہ کاشت کاری کو رواج دیا اور گندم، جو اور کپاس کی کاشت کی اس کے علاوہ جنگلوں اور غاروںمیں الگ تھلگ رہنے کی بجائے بستی بسانے کی ابتدا ہوئی او ر مہر گڑھ میں انسان نے مٹی کے برتنوں کی تیاری کو باقاعدہ صنعت کی شکل دی اور آج بھی مہر گڑھ کے قدیم آثار کو کھودے بغیر کئی مقامات پر ایسے آثار ملیں گے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اناج رکھنے والے برتنوں کی تیاری کو باقاعدہ صنعت کی شکل حاصل رہی ہے ۔ کئی مقامات پر اناج کے گوداموں او رمٹی کے بڑے بڑے برتن اور برتن سازی کے لئے قائم کارخانوں کے آثار واضع طو رپر اوپری سطح(Surface)پر دیکھے جاسکتے ہیں “ ّ۔کیچ مکران کی سر زمین ہزاروں سال سے ثقافت کا گہوارہ رہی ہے ۔ مکران کے دریافت شدہ تہذیبی آثار میں ستکگیں دور، شاہی تمپ ، میری قلات ، نودز قلات ، نذر آباد ، ناصر آباد ، تھل دمب(ہوشاب دمب I )تھل دمب ( ہوشاب دمب II)سُہریں دمب، کہن قلات، بشام دمب ، دمب ئِ دمبی ۔ چری دمب ، سری دمب ، زیک ، جنگل ، شکر خان دمب ، اندر دمب، گہرام ، کپوتو او کپوتوراک شیلٹر شامل ہیں ۔ گنُد ریانی ،دور 6 ہزار قبل مسیح ضلع لسبیلہ ۔ انسان کے بنائے ہوئے دو سو کے قریب پتھر / مٹی کو کاٹ کر بنائے گئے ایسے غار نما گھر ۔ جس کا ایک کمرہ اور اس کے سامنے برآمدہ ہوتا ہے ۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کئے گئے شعبوں میں آثار قدیمہ بھی شامل ہے ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کو28آرکیالوجیکل سائٹ عمارتیں مقبرے اور قلعے منتقل کئے گئے ہیں ۔ ان میں ضلع بولان میں کولاچی گاﺅں کے قریب پیرک کے آثار، ضلع بولان ہی میں مہر گڑھ او نوشہرہ کے آثار ، تحصیل وڈھ خضدار اور ناچ وادی میں نندو دمب ، خاران میں جھالاوار قلعہ ، خاران شہر میں آزاد خان کا قلعہ، خاران وشبوھی میں پالی قلات ، نوروز قلات میں نوروز قلعہ ، خاران جھالاوار میں پرانا مقبرہ ۔گرّک خاران میں حروگوک ، لسبیلہ میں جام لسبیلہ کا قدیم قبرستان ، بیلہ ٹاﺅن کے قریب جنرل محمد بن ہارون کا مقبرہ ۔ لسبیلہ پیر مبارک میں ہنی وان کا مقبرہ ۔ حب کے قریب گریک ( رومی ) کا مقبرہ ، لورالائی میں طور ڈیری سائٹ ، دابرکوٹ ( لورالائی )کا دمب ،کیچی بیگ ، پیر بلو سریاب روڈ میں شاہی خان دمب، کوتوال،کلی گل محمد ، سملی ،سمنگلی اور دمب مہتر زئی ، شیخ ماندہ اور نوحصار کے آثار شامل ہیں ۔عمومی حوالے سے اگر ہم بلوچستان کے سیاحتی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو ہمیں دلکش اور قدرتی حسن سے مالا مال وادیاں اور مناظر ، سنہرے ساحل ،سمندرکا نیلگوں پانی ،خوبصورت ہل اسٹیشن ، سرسبز باغات اور لہلہاتی فصلیں ، بے آب و گیاہ صحرا ، سخت پتھریلے سلسلہ ہائے کوہ ، بارشوں اور برف باری سے وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے آبی ذخائر ، سمندری حیات ، مختلف پھول، بوٹے ، جڑی بوٹیاں،قدرت کی تراشیدہ ارضیاتی ساخت ۔انسانی زندگی کے ہر دور سے متعلق آثار قدیمہ ، اہم تعمیراتیStructure ، تاریخی قلعے ، ماقبل از تاریخ کے انسان کے رہائشی غاراور آثار بلوچستان کے طول و عرض میں بکھرے نظر آئیں گے ۔ یہ سب قدرتی وسائل ، گھومنے پھرنے ، مناظر سے لطف اندوز ہونے ،ہائیکنگ ، ٹریکنگ اور غاروں میں موجود حسن میں دلچسپی لینے والوں کے لئے ایک فطری منزل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ سیاحت کے حوالے سے مواقع اور امکانات کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبے میں سیاحت اور اس سے متعلق معیشت اور سر گرمیوں میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔ دیگر صوبوں میں اپنی اپنی سیاحتی پالیسیاں موجود ہیں مگر بڑے پیمانے پر انویسٹرز کو راغب کرنے ، صوبے میں سیاحت سے متعلق سہولتوں مثلاً ٹرانسپورٹ ،بکنگ ، رہائش ، گائڈز کی بہتر تربیت کے لئے مربوط پالیسی کی اشد ضرورت ہے ۔ بلوچستان کی معیشت اس وقت روایتی شعبوں پر انحصار کرتی ہے ۔ جن میںمحدود پیمانے پر زراعت، گلہ بانی ، ماہی گیری ، ٹرانسپورٹ ، تجارت بعض مخصوص علاقوں میںمعدنیات اور قدرتی وسائل شامل ہیں ۔ سیاحت کو فروغ دے کر ہم بلوچستان کی پولیٹیکل معیشت کو جدید خطوط پر استوار کر سکتے ہیں ۔(جاری ہے)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*