تازہ ترین

تمام صوبوں کےساتھ ملکر کا شتکاروں کے تحفظ کی پالیسی بنائینگے ،اسد قیصر

speaker national assembly asad qaisar

اسلام آباد(نیوز ایجنسی ) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کاشتکاروں کے تحفظ کی پالیسی بنائیں گے، کپاس کی کاشت کا رقبہ کم ہو تا جا رہاہے،اس کے کاشتکار کو اہمیت نہیں مل رہی،کپاس کا ہماری معیشت میں اہم کردار رہا ہے ، اس کی فصل کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں ، جبکہ وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ کاشتکار کو صرف نقصان ہو رہا ہے ، کاشتکار کہہ رہا ہے کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ چاہئے، سارے صوبے مل کر بیٹھیںاور ایک اچھی زرعی پالیسی بنائیں ، ہم نے چھوٹے کاشتکار کو تحفظ فراہم کر نا ہے۔بدھ کو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر سید فخر امام کی صدارت میں ہوا جس میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خصوصی طور پر شرکت کی ، اجلاس کے دوران کپاس کی فصل کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا ، اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ یہ کمیٹی کاشتکاروں کے تحفظ کے لئے قائم کی گئی ہے،40فیصد ملکی معیشت کا انحصارزراعت پر ہے ، مگر کاشتکار صحیح طریقے سے اپنی مصنوعات مارکیٹ تک نہیں پہنچا سکتے ، اس کمیٹی کے 40ارکان ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان اس میں شامل ہیں ہم کمیٹی کے لئے ایک خصوصی تھنک ٹینک بنا رہے ہیں ، اسد قیصر نے کہا کہ کپاس کے کاشتکار کو اہمیت نہیں مل رہی ، کپاس کی کاشت کا رقبہ کم ہو تا جا رہاہے ، ہم کپاس کی فصل کو تحفظ دیں گے ، انہوں نے کہا کہ ہم تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کاشتکاروں کے تحفظ کی پالیسی بنائیں گے ، ہم آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ اور تجارت کو بلائیں گے ، کپاس کا ہماری معیشت میں اہم کردار رہا ہے ، کپاس کی فصل کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سید فخر امام نے کہا کہ 60فیصد بر آمدات کا کپاس پر انحصار ہے ، ہمارا کپاس کی کاشت کا رقبہ 20فیصد کم ہو گیا ہے ، جبکہ پچھلے سالوں کی نسبت 25سے30فیصد کپاس کی پیداوار کم ہو گئی ہے ، ہم نے کپاس کی فصل کی بحالی کرنی ہے ، بنگلہ دیش نے اس سال 38ارب ڈالر کی گارمنٹس بر آمد کی ہیں جبکہ ہم دو ارب ڈالر کی گارمنٹس بر آمد کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ زراعت کا شعبہ صوبوں کے پاس ہے، آج کپاس کی پروڈکشن کاسٹ چار ہزار سے اوپر کی آرہی ہے، کاشتکار کو صرف نقصان ہو رہا ہے ، کاشتکار کہہ رہا ہے کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ چاہیئے، ہم ٹیکنالوجی میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں ، فہمیدہ مرزا نے کہا کہ سارے صوبے مل کر بیٹھیںاور ایک اچھی زرعی پالیسی بنائیں ، ہم نے چھوٹے کاشتکار کو تحفظ فراہم کر نا ہے ، انہوں نے کہا کہ اکنامک سروے کے تحت زراعت میں منفی گروتھ ہوئی ہے ، زراعت کا شعبہ صوبوں کے پاس ہے، ریسرچ کے شعبے کو نظر انداز کیا گیا ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*