تازہ ترین

تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کےلئے تیار ہوں،شیخ رشید احمد

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں+م ڈ)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور حکومت کے مابین مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں ،احتجاجی شرکا اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کریں گے،ٹی ایل پی کے زیر حراست افراد کو چھوڑ دیا جائے گا اور ماضی میں کیے گئے معاہدے کے تحت فرانسیسی سفارت کار کو بے دخل کرنے کا معاملہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائےگا۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کافی حد تک طے پا چکے ہیں اور ایک بجے مذاکرات سے متعلق تفصیلی بات چیت کروں گا۔انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کے زیر حراست افراد کو چھوڑ دیا جائے گا اور ماضی میں کیے گئے معاہدے کے تحت فرانسیسی سفارت کار کو بے دخل کرنے کا معاملہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائےگا۔وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ ٹی ایل پی کے لوگ منگل دوپہر 12 بجے تک ادھر ہی قیام کریں گے جہاں وہ اس وقت موجود ہیں، دونوں طرف ٹریفک کھول دی جائے گی۔شیخ رشید نے کہا کہ آئندہ روز یعنی پیر کو ٹی ایل پی کا ایک وفد بھی ہماری طرف آئے گا اور ان کے مسائل سے متعلق بات چیت شروع ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ دو تین روز میں ان کے مسائل پر بات ہوگی لیکن احتجاجی مظاہرین اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کریں گے۔دریں اثناءوفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بدھ تک کالعدم تنظیم کے کیسز واپس لے لیں گے، شیڈول فور کو بھی دیکھیں گے،فرانس کے سفیر والا معاملہ قومی اسمبلی میں لے کر جائیں گے، مرید کے میں بیٹھے لوگ دو روز تک واپس چلے جائیں گے، اسلام آباد آئی جی کو کہتا ہوں کنٹینرز ہٹا دو، البتہ جی ٹی روڈ پر کنٹینرز موجود رہیں گے،کالعدم جماعت کا پنجاب میں تیسرا بڑا ووٹ بینک ہے، تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کےلئے تیار ہوں،مذہبی لوگوں سے ٹکراﺅ نہیں ہونا چاہیے، احتجاج ان کا حق ہے، حکومت کا کام ہے کہ لچک رکھے،حکومت کو جوڈو کراٹے نہیں کرنا چاہیے ،پاکستان مسلمان دنیا کی واحد نیو کلیئر اسٹیٹ ہے، افغانستان کے بعد پاکستان پابندیوں سے محفوظ رہا البتہ ملک کے معاشی حالات بہت سخت ہیں، ڈی جی آئی ایس آئی کے فیصلے کا وزیرِاعظم عمران خان یا ان کے ترجمان کو پتہ ہوگا، لوگ ابھی سے الیکشن مہم پر نکل پڑے ہیںاگلا بجٹ الیکشن بجٹ ہو گا۔ اتوار کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہاکہ ٹی ایل پی سے 8 گھنٹے بات چیت ہوئی ہے ،منگل اور بدھ تک ٹی ایل پی کے کیسیز واپس لیکر فورتھ شیڈول دیکھیں گے۔ شیخ رشید نے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ امن و امان کے مسلے کو بہتر کیا جاناچاہیے ۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ کالعدم تنظیم کا اعتراض درست ہے کہ 6 ماہ تک ان کو سنا نہیں گیا۔ شیخ رشید احمد نے بتایاکہ سعد رضوی سے بھی بات چیت تفصیلی ہوئی ہے ،ٹی ایل پی سے فرانس کے سفیر کے حوالے سے بات کی گئی،میں نے کہا پاکستان واحد مسلم ایٹمی پاور ملک ہے،فرانس کا سفیر ابھی موجود نہیں ہے، معاملہ اسمبلی میں لے کر جائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ایف اے ٹی ایف پر بھی ہماری کارکردگی بہتر رہی ،پیر کی صبح وزارت داخلہ ٹی ایل پی کے لوگ آئیں گے۔ انہوںنے کہاکہ مذاکرات میں تاخیر ہوئی یہ مشکل سوال ہے۔ انہںنے کہاکہ پاکستان بھارت کا میچ آج تک مس نہیں کیا،اس بار پاک بھارت میچ ٹی وی پر دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ پہلی بار میچ نہیں دیکھ رہا جاوید میاں داد نے چھکا مارا تھا تب بھی میں وزیر تھا،کیا میں میچ کےلئے پاکستان کا اتنا بڑا مسئلہ چھوڑ دیتا۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ پاکستان کے اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید صاحب ہیں۔ انہوںنے کہاکہ راولپنڈی اسلام آباد کی انتظامیہ کو کہتا ہوں کہ سڑکوں سے کنٹینرز ہٹا دے،روکاوٹیں صرف جی ٹی روڈ پر رکھیں گی۔ انہوںنے کہاکہ میں سیاسی ورکر ہوں تمام جماعتوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہوں۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن جمعہ جمعہ کھیل رہی ہے اب الیکشن کمپین شروع ہو چکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم سے زیادہ کسی نے ختم نبوت کے معاملے پر جیلیں کاٹی ہیں،وزیر داخلہ شیخ رشید ہے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ختم نبوت پر آنچ آئے۔ انہوںنے کہاکہ تصادم کے حق میں نہیں ہیں،صوبائی وزیر داخلہ نہیں ہوں، ،میں اس کمیٹی کی صدارت نہیں کرنا چاہتا تھا مگر سعد رضوی صاحب سمیت دیگر کی خواہش پر کمیٹی کی صدارت کی۔ انہوںنے کہاکہ ٹی ایل پی کو بین نہیں کیا وہ الیکشن لڑ رہیے ہیں نا ہم سپریم کورٹ گئے۔ انہںنے کہاکہ ریاست کا کام ڈنڈا چلانا نہیں ہے، امن چاہتے ہیں تصادم نہیں۔ انہوںنے کہاکہ مائیں فون کرتی ہیں کہ بچوں نے اسکول جانا ہے،پنڈی اسلام آباد کی جوائنٹ کمیٹی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دو لوگ ہمارے شہید ہوئے ہیں،ہم جھگڑا آگے نہیں بڑھانا چاہتے ہیں،سیاست دان کا کام ہے درمیانی راستہ نکالنا،کوشش کریں گے مرید کے میں بیٹھے لوگ گھروں کو واپس جائیں۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ عمران خان کے ساتھ آیا ہوں عمران خان کے ساتھ ہی واپس جاﺅں گا،اللہ سے امید ہے عمران خان پانچ سال پورے کرے گا۔ انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم کیا فائد لے لے گی، نومبر دسمبر میں یہ تھوڑی ورزش کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ریاست جھکی نہیں، ریاست کا کام ڈنڈا چلانا نہیں،ہمارے پاس دو آپشن ہیں جھگڑا بڑھائیں یا معاملہ سلجھائیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*